اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان چینی سکالر شپ حاصل کرنے کے معاملے میں دنیا میں سرفہرست ہے، اس وقت 5081طالبعلم اپنے اپنے شعبوں اور مختلف چینی یونیورسٹیوں میں چین کے سکالر شپ تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔اعدادوشمار سے ظاہرہوتا ہے کہ چینی سکالر شپ حاصل کرنیوالے غیرملکی طلباء میں پاکستانیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ، اس تعداد میں اضافہ گذشتہچار سال کے دوران مسلسل دیکھنے میں آرہا ہے جب سے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا آغاز ہوا ہے تا ہم اس میں اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کی زبردست کوششوں کا بھی حصہ ہے، پاکستان میں چین کے سفیر سن و ی ڈونگ جو آئندہ ماہ پاکستان میں اپنی چار سالہ سفارتی مدت پوری کررہے ہیں ان کے دور میں پاکستان کی سماجی اقتصادی شراکت داری میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط کو فروغ حاصل ہوا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں اس وقت ایک بڑا موڑ مڑا جب اپریل 2015 ء میں چین کے صدر شی جن پھنگ نے پاکستان کا دورہ کیا اور دونوں ملکوں میں کئی معاہدے ہوئے جس میں تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا،2016ء کے اختتام تک اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 18626پاکستانی طلباء چین میں تعلیم حاصل کررہے تھے جبکہ حالیہ برسوں میں دوطرفہ دوروں کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا اور تعلیم کے شعبے میں تعاون مزید گہرا ہو گیا ، دونوں ملکوں کے طلباء اور اساتذہ کی سطح پر بھی دوروں میں نمایاں اضافہ ہوا چینی سفارتخانے کی طرف سے 160خواتین اساتذہ گذشتہ دوسال کے دوران چین گئیں ، چینی سفیر کی اہلیہ ویانا بائو اس قسم کے دوروں کے انتظام کرنے میں سرگرم نظر آئیں ، مادام بائو نے ایک بار کہا تھا کہ پاکستانی خواتین کی خدمت ان کا مشن ہے اوروہ اپنی تمام تر کوششیں دونوں ملکوں کی خواتین کے دوطرفہ تبادلوں کیلئے صرف کررہی ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سفیر سن وی ڈونگ اور اس کی پرعزم ٹیم دن رات کام کر کے تعلیم کے شعبے میں چینی پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اس سلسلے میں تبادلہ خیال کیا اور کامیابیاں حاصل کیں ، حال ہی میں مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی ) میں دونوں ممالک نے تعلیم کےشعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کافیصلہ کیاہے تا کہ پیشہ وارانہ تیکنیکی تربیت اور عوام کے درمیان مفاہمت کو ثقافتی تبادلوں ، تھنک ٹینکس ،یونیورسٹیوں اور میڈیا کے ذریعے مزید فروغ دیا جائے ۔چین نے تجویز پیش کی ہے کہ وہ ماہرین کی ٹیمیں پاکستان بھیجے گی جو صنعتی زونز میں تربیتی ورکشاپس منعقد کریں گی جن کا مقصد دیہی ترقی ، پانی کے وسائل کا انتظاماور ان پانی کو صاف کرنا اور آفات کے دوران پاکستانی عوام کو ان کا مقابلہ کرنے کی تربیت دینا ہے، یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ چینی فائونڈیشن برائے امن و ترقی کوئٹہ کے ذہین لوگوں کیلئے ایک تربیتی مرکز قائم کرے گی اور جو یونیورسٹی آف گوادر سے تعاون کریگی ،دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں کے درمیان دوطرفہ تعاون میں اضافہ ہوا ہے ،چینی حکومت نے سلک روڈ تعلیمی فنڈ کا اعلان کیا ہے جس کے ذریعے پاکستانی طلباء مختلف یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے سکالر شپ حاصل کر سکیں گے، چینی حکومت بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ساتھ واقع صوبوں کی یونیورسٹیوں کی اس سلسلے میں حوصلہ افزائی کررہی ہے کہوہ ون بیلٹ ون روڈ میں شریک مختلف ممالک کے ساتھ تعلیمی شعبے میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں