ہندوستان میں تندور کی موجودگی تین ہزار سال قبل مسیح سے پائی جاتی ہے۔گو کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تندور وسط ایشیا، ایران یا افغانستان کی ایجاد ہے لیکن موہن جوداڑو میں کھدائي کے دوران پائے جانے والے چھوٹے مٹی کے چولھے جو عصر حاضر کے تندور سے بہت مشابہت رکھتے ہیں، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہندوستان میں تندور زمانہ ماقبل سے موجود تھا۔ فارسی کی ایک لخت میں تندور کو چھ ہزار سال قبلکی دریافت بتایا گیا ہے۔ المختصر تندور کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں بلکہ کئی ممالک کی تاریخ کا حصہ ہے اور دنیا کے ہر حصے میں کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا ہے۔تندور میں کھانا پکانا ایک اچھوتا تجربہ ہے۔ تندور میں پکی روٹیوں اور کباب کا اپنا الگ ہی مزہ ہے۔پہلے پہل تندور صرف روٹی بنانے کے کام میں لایا جاتا تھا لیکن آہستہ آہستہ تندور کا کام بڑھتا گیا اور وہ مزیدار گوشت، مرغ و مچھلی کے کبابوں کے علاوہ سبزیوں کو مختلف طریقوں سے بنانے کے کام آنے لگا۔دھوئيں کی ہلکی ہلکی مہک ان کھانوں کی جان ہے۔ ان میں پکائے کھانوں کی اوپری سطح سرخ اور کراری ہوتی ہے لیکن اندرونی حصہ خوب نرم اور ملائم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان پر لگے مصالحوں کی ہلکی مہک اشتہا انگیز ہوتی ہے۔کہتے ہیں کہ مغل بادشاہ جہانگیر اپنا تندور ساتھ لے کر چلتا تھا۔ یعنی اس زمانے میں بھی پورٹیبل تندور موجود تھے۔ مغل بادشاہوں کے شکار کردہ جانور زمین دوز تندور میں پکائے جاتے تھے۔ وقت کے زمین دوز تندور بمشکل راجستھان کے گاؤں میں اتفاقاً نظر آ جاتے ہیں ورنہ مٹی کے بنے تندور اب ہر جگہ مروج ہیں جبکہ عصر حاضر میں جدید قسم کے بجلی اور گیس کے تندور بھی کافی مقبول ہیں۔ہندوستان میں دلی سلطنت کے عہد حکومت میں امیر خسرو تندور میں بنی روٹی نان تندوری کا ذکر کرتے ہیں جبکہ آئين اکبری میں بھی تندور کا ذکر ملتا ہے۔16ویں صدی کے وسط میں گرونانک نے سکھ مذہب کی بنیاد رکھی اور نسل و ذات پات کے امتیازات کو مٹانے کے لیے سانجھا چولھا یعنی مشترک چولھے کو فروغ دیا۔ سانجھا چولھا ہر محلے میں ہوا کرتا تھا جہاں لوگ جمع ہوکر اپنی اپنی روٹیاں بناتے تھے اور آپس کا میل جول بڑھاتے تھے۔در اصل سانجھا چولھا اتحاد کا پیغام تھا۔انگریز تندوری کھانوں کے شوقین نہیں تھے لیکن ہندوستان کی آزادی کے بعد پنجاب سے آنے والے پناہ گزینوں نے دلی کو ایک نیا تحفہ تندوری کھانا دیا جو آچ دنیا بھر میں اپنی شہرت رکھتا ہے۔پشاور سے آنے والے کندن لال گجرال نے دلی کے دریا گنج علاقے مین موتی محل نام کا ریستوراں شروع کیا جہاں صرف اور صرف تندوری کھانا بنایا جاتا تھا اور تندوری مرغ انھی کا خاصہ تھا۔ان کے پوتے نے ایک ملاقات کے دوران تندوری مرغ کی ابتداکا دلچسپ قصہ بیان کیا۔ تقسیم ہند سے قبل کندن لال پشاور کے ایک چھوٹے سے ریستوراں میں بطور باورچی کام کیا کرتے تھے۔ ایک دن مالک کی فرمائش پر ایک نئے قسم کا مرغ تیار کیا جو ہلکے مصالحوں کے ساتھ اور بغیر روغن کے تندور میں سینکا گيا جو بے حد لذیذ تھا اور یہ خوان تندوری مرغ کے نام سے ریستوراں کے کھانوں کی فہرست میں شامل ہو گيا۔تقسیم ہند کے بعد کندن لال اہل و عیال کے ساتھ دلی آ گئے اور کچھ دن پناہ گزین کیمپ میں گزارنے کے بعد دریا گنج علاقے میں انھوں نے ایک چھوٹی سی جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جہاں انھوں نے موتی محل نامی ریستوراں کھولا اور اس طرح دلی میں تندوری کھانوں کی بنیاد پڑی۔چند ہی روز میں موتی محل کے تندوری مرغ نے وہ شہرت حاصل کی کہ ہر خواص و عام موتی محل کا شیدائی ہو گيا۔ جواہر لعل نہرو، شاستری جی، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی الغرض سیاسی میدان کا کوئی ایسا فرد ہوگا جس نے موتی محل کا رخ نہ کیا ہو۔ تندوری مرغ پکانے کی ترکیب مرغ – 600 یا 700 گرام (کھال اتارا ہوا)، (1) لیموں کا رس ڈیڑھ کھانے کا چمچہ، پسی ہوئی لال مرچ ایک چائے کا چمچہ، نمک ایک چائے کا چمچہ۔ (2) دہی آدھی پیالی، پسا ہوا لہسن ایک کھانے کا چمچہ، ادرک ایک کھانے کا چمچہ، کالا نمک نصف چائے کا چمچہ، گرم مصالحہ ایک چائے کا چمچہ۔ کسوری میتھی نصف چائے کا چمچہ، مرغ کو خوب اچھی طرح دھو کر ایک صاف کپڑے سے پوچھ لیں، تیز نوکدار چھری سے مرغ کے سینے اور ران پر کچوکے دیں۔پہلے ایک نمبر کے مصالحوں کو ملا کر اچھی طرح مرغ پر مل دیں پھر ایک گھنٹے بعد دو نمبر کے مصالحوں کو ملاکر مرغ پر اچھ طرح لیپ دیں۔ مرغ کو ان مصالحوں میں تین گھنٹے تک پڑا رہنے دیں تاکہ مصالحے ان میں بخوبی جذب ہو جائيں۔اب مرغ کو لمبی سیخ میں لگائیں اور پانچ سے چھ منٹ تک تندور میں سیکیں۔ تندور بہت گرم نہ بہت ٹھنڈا ہو۔ آنچ درمیانی ہونی چاہیے۔ سینکتے ہوئے مرغ پر تیل لگاتے جائیں ورنہ مرغ خشک رہ جائے گا۔مرغ تیار ہے تو سردی میں لذیذ تندوری مرغ کے مزے لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں