حیدرآباد(این این آئی)جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل اور ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی رہنماء لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ خودمختار ادارہ ہے یہ قانون سازی کر سکتا ہے لیکن آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے ہوسکتی ہے سادہ اکثریت سے قانون سازی کرکے سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دیئے گئے شخص کے پارٹی صدر بننے کی پابندی کو ختم نہیں کیا جا سکتا، نوازشریف اگر پارٹی صدر بنے تو یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہو گا اور مسلم لیگ کی مزید بدنامی ہو گی،اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کا معاملہ پی ٹی آئی نے کھڑا کیا ہے جس میں خورشید شاہ اپنا دفاع کر رہے ہیں، 3 اکتوبرکو جماعت اسلامی کی سید خورشید شاہ اور مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ہو گی اس کے بعد قیادت کوئی حتمی فیصلہ کرے گی، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے درمیان ناجائز تعلقات کا بھانڈا چوراہے پر پھوٹے گا، دینی جماعتوں کے 12 اکتوبر کے اجلاس سے ایم ایم اے کی بحالی کے حتمی فیصلے کی امید نہیں باندھنی چاہیے بہت سے شکوک و شبہات ہیں اور بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے۔وہ جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد کی مسجد قباء ہیرآباد میں ایک روزہ تربیت گاہ کے اختتام پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے، اس سے پہلے تربیت گاہ سے ان کے علاوہ نائب امراء جماعت اسلامی پاکستان اسداللہ بھٹو ایڈوکیٹ، راشد نسیم، عبدالوحید قریشی، حافظ طاہر مجید اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے میری تمام دینی جماعتوں اور قوم سے اپیل ہے کہ وہ ہر صورت میں عاشورہ کے ایام میں امن و محبت اور اتحاد کی فضاء قائم رکھیں اور اپنی طاقت کو دین کے غلبے کے استعمال کریں، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سیاسی معاشی تعلیمی ثقافتی لحاظ سے اہم شہر ہے یہاں کے طلبہ و طالبات کے لئے اعلیٰ معیار کی یونیورسٹی کا قیام بنیادی ضرورت ہے،حکمران اب تک یہاں کے شہریوں سے مذاق کرتے آئے ہیں دھوکہ بازی اور جھوٹے اعلانات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور حیدرآباد میں بلاتاخیر یونیورسٹی کا قیام عمل میں آنا چاہیے، وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے امریکا میں متنازعہ بیان کے حوالے سے سوال پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان اس وقت مختلف قسم کے بحرانوں سے گزر رہا ہے امریکی صدر جو داخلی محاذ پر اپنے وعدوں کے حوالے سے ناکام ہو گیا ہے اسے عالمی محاذ پر دھکیل دیا گیا ہے،امریکا بھارت اور اسرائیل کی ناپاک تثلیث اس خطے کے لئے بڑی خطرناک شکل اختیار کر رہی ہے ایسے ماحول میں ایک پرانے پارلیمنٹرین خواجہ محمد آصف نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے نہایت ناتجربہ کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے افسوسناک ذاتی خیالات کو ملک پر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کی حکومت پہلے ہی بڑی کمزور ہے اور نوازشریف نے ایک ایسے شخص کو وزیر خارجہ مقرر کیا ہے جس کا کوئی تجربہ نہیں اس کا بیان پاکستان کے لئے مشکلات کا سبب بنے گااسی لئے جماعت اسلامی کے ارکان نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ کے بیان کو زیربحث لانے کے لئے تحریک التواء جمع کرا دی ہے، اس سوال پر کہ آصف علی زرداری کے تمام مقدمات سے بری ہو جانے سے کیا اس تاثر کو تقویت نہیں ملی کہ نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر ہوا ہے لیاقت بلوچ نے کہا کہ عدالتیں جو بھی فیصلہ کریں سب کو اسے تسلیم کرنا چاہیے ایسا نہیں کہ جس کے حق میں فیصلہ آئے وہ عدالت کے تقدس کو تسلیم کرےاور جس کے خلاف آئے وہ عدالت کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کرے یہ دونوں روئیے ٹھیک نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ احتساب صرف نوازشریف کے خاندان تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ بلاامتیاز سب کا ہونا چاہیے خواہ کوئی کسی بھی پارٹی کی چھتری تلے پناہ لئے ہوئے ہو، انہوں نے کہا کہ پی پی پی ٹی آئی یا مسلم لیگ (ن) سے نہیں بلکہ ہماری لڑائی اس مافیا سے ہے جو عوام کا خون چوس رہی ہے جمہوریت کے نام پر مقبول پارٹیوں کے جھنڈے میں چھپ کر بدترین کرپشن کر رہی ہےاور عام لوگوں کی زندگی کو برباد کر رہی ہے، کرپٹ مافیا کے خلاف جماعت اسلامی کی احتساب سب کا تحریک جاری رہے گی اور منتقی انجام تک پہنچے گی، اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کے حوالے سے سوال پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے لئے وزیراعظم کی طرح کوئی ووٹنگ نہیں ہوتی جس کے ساتھ زیادہ ارکان ہوں گے وہ اپوزیشن لیڈر ہو گا اس وقت اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کا معاملہ پی ٹی آئی نے کھڑا کیا ہے اور خورشید شاہ دفاع کر رہے ہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک جمہوری عمل ہے شاہ محمود قریشی بھی کوششیں کر رہے ہیں اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید نے بھی جماعت اسلامی کی قیادت سے رابطہ کیا ہے 3 اکتوبر کو اسلام آباد میں ان دونوں رہنماؤں سے ملاقات ہو گی اور تفصیلی تبادلہ خیالات ہو گا، اس کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت اپنے اجلاس میں کوئی لائحہ عمل طے کرے گی، انہوں نے کہا کہ اس وقت چیئرمین نیب کا تقرر اور 2018ء کے عام انتخابات کے حوالے سے عبوری حکومت دو اہم ترین معاملات ہیںاور اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کا ایشو اسی حوالے سے سامنے آیا ہے لیکن اگر اپوزیشن لیڈر تبدیل بھی ہو جائے اور حزب اختلاف پہلے سے بھی زیادہ تقسیم اور باہم دست و گریباں ہو تو اس کا فائدہ تو شاہد خاقان عباسی کی کمزور حکومت اور نااہل وزیراعظم نوازشریف کو ہو گا جو کہ اداروں کے درمیان تصادم چاہتے ہیں اس لئے اپوزیشن کا باہم متصادم ہونا حکومت کے نقطہ نظر کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے گا جماعت اسلامی کی کوشش ہو گی کہ اہم مسائل پر اپوزیشن کی تمام جماعتیں مشترکہ موقف اپنائیںتاکہ جمہوری استحکام آ سکے اگر اپوزیشن میں انتشار اور فساد آگے بڑھتا ہے تو کوئی تیسری قوت بھی فائدہ اٹھا سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر تمام جمہوری قوتیں اور اپوزیشن ایک موقف پر متفق ہو جائیں تو حکومت کی مجبوری ہو گی کہ وہ ایسا چیئرمین نیب لائے جو سب کے لئے قابل قبول ہو اور پوری قوم کا اسے اعتماد حاصل ہو، اسی طرح ایسی عبوری حکومت کا قیام عمل میں آ سکے جو شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کا راستہ ہموار کرے اور الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر مکمل طور پر عملدرآمد ہو،پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے نوازشریف کو دوبارہ مسلم لیگ (ن) کے صدر بنانے کے حوالے سے سوال پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ جہاں تک انتخابی اصلاحات کا معاملہ ہے اگرچہ شق 203 کے بارے میں پہلے ہی تمام سیاسی جماعتوں نے طے کر رکھا ہے کہ کوئی نااہل قرار دیا گیا شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا، انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ اور پیپلز ریپریزیڈنٹ ایکٹ میں جو تبدیلی کی گئی تھیاس کو پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت سے قانون سازی کے ذریعے ختم کرکے یہ سمجھ لیا جائے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 62-63 کے تحت کوئی نااہل قرار دیا گیا ایسا شخص جس کے خلاف احتساب عدالتوں میں مقدمات زیرسماعت ہوں وہ پارٹی کے دستور میں ترمیم کرکے اپنی پارٹی کا سربراہ بن سکتا ہے ایسا کرنا غیرآئینی قدم ہے کیونکہ سادہ اکثریت سے بنایا گیا کوئی قانون 1973ء کے آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ اگر نوازشریف اس طرح مسلم لیگ (ن) کے صدر بن بھی گئےتو ہم سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کریں گے ایسی غیرآئینی اور غیرقانونی حرکت نہیں کی جانی چاہیے اگر کی گئی تو مسلم لیگ (ن) کو مزید بدنامی کا سامنا کرنا پڑے گا، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی قربت کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ناجائز تعلقات ہیں چوراہے پر اس کا بھانڈا پھوٹے گا، 12 اکتوبر کو متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے حوالے سے سوال پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ ایک عرصے سے دینی جماعتوں کے درمیان رابطے ہیں سب کی یہ خواہش ہے کہ دینی قوتیں ساتھ مل کر چلیںچند دن پہلے سعودیہ کے قومی دن کے موقع پر سعودی سفارتخانے میں تقریب میں مولانا فضل الرحمن سے ملاقات ہوئی تھی اور تبادلہ خیالات ہوا تھا اور 12 اکتوبر کو مولانا فضل الرحمن نے تمام دینی جماعتوں کے رہنماؤں کو عشائیے میں شرکت کی دعوت دی ہے اس موقع پر تبادلہ خیالات ہو گا حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے گا لیکن یہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے کہ اس نشست میں کوئی حتمی اعلان تک پہنچ جائیں گے طویل مدت کے بعد قائدین ملاقات کر رہے ہیں اس دوران پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے اور کافی شکوک و شبہات بھی ہیں تاہم مستقبل کے حوالے سے اچھے اقدامات کی توقع کی جانی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں