واشنگٹن(این این آئی)امریکی اور نیٹو افواج نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ خطے کی نئی پالیسی کے حوالے سے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس پالیسی کو جنوبی ایشیا میں پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کے اقدام کے طور پر نہ دیکھے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق واشنگٹن میں موجود امریکی فوجی ہیڈ کوارٹر پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں امریکی سیکریٹری دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ امریکا اب دیکھے گا کہ پاکستان کس چیز کا انتخاب کرے گا۔اعلامیے کے مطابق جب نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ سے سوال کیا گیا کہ کیا افغان عمل میں پاکستان دوری اختیار کر سکتا ہے جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے بیان کردہ نئی حکمت عملی کو جس وجہ سے ہم خوش آئند کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ حکمت عملی خطے کی بڑی طاقتوں، پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے ہی فائدہ مند ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم خطے میں موجود تمام ممالک کو افغانستان میں افغان امن عمل میں حصہ دار بننے پر زور دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت بھی اس عمل میں باہمی نقطہ نظر کے ساتھ شامل ہوں۔نیٹو سربراہ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ بھارت کو اس خطے کی حکمت عملی میں شامل کرنے سے مسائل پیدا ہوں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بھارت کو افغان امن عمل میں شامل نہیں کیا جاتا تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔پینٹاگون اعلامیے کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی خطے کے لیے نئی حکمت عملی پاکستان کے لیے انسداد دہشت گردی کی مہم میں شامل ہونے کا ایک بہترین موقع ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حکمت عملی میں خطے کے کسی بھی ملک کو الگ نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس میں ان تمام ریاستوں کو شامل کیا جائے گا جو خطے میں دہشت گردی کی روک تھام چاہتی ہیں اور معصوم لوگوں کا دفاع کرتی ہیں۔جیمز میٹس نے کہا کہ جہاں تک پاکستان کا سوال ہے تو امریکا دیکھے گا کہ پاکستان کس چیز کا انتخاب کرے گا۔امریکی سیکریٹری دفاع نے واضح کیا کہ امریکا، افغان حکومت، نیٹو افواج اور جنوبی ایشیائی ریاستوں کی حکومتوں کے ساتھ مل کر افغان عمل کے حوالے سے کام جاری رکھے گا اور یہ کوشش کی جائے گی کہ خطے میں موجود ریاستوں کو متحد کر کے طالبان، داعش اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف متحرک کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں