اسلام آباد: ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد ویزے کی سخت پالیسی کا سب سے بڑا شکار پاکستان سمیت اسلامی ممالک ہوئے جبکہ ماضی کے مقابلے میں رواں سال پاکستانیوں کو 26 فیصد کم نان امیگرنٹ ویزے جاری کیے گئے۔معروف امریکی آن لائن میگزین پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کی سخت ویزا پالیسی کے اعلان کے بعد پاکستان بھی ان اسلامی ممالک میں شامل ہوگیاہے جن کے شہریوں کو امریکی ویزوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے رواں سال کے اوائل میں ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، شام ، یمن اور سوڈان کے شہریوں پر سفری پابندی عائد کی تھی تاہم بعد میں عراق اور سوڈان کو فہرست سے خارج کرکے افریقی ملک چاڈ، شمالی کوریا اور وینزویلا کو شامل کیا گیا تھا۔پاکستان ان ممالک میں شامل نہیں تھا جن پر امریکا کی جانب سے سفری پابندیاں عائد کی گئی تھیں تاہم شہریوں کو ویزے کے اجرا میں واضح کمی آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر 6 ممالک پر لگنے والی پابندی کے نتیجے میں گزشتہ مالی سال 2016 کیمقابلے میں رواں سال 44 فیصد کی کمی آئی جن میں نمایاں ترین شام اور یمن کے شہری تھے۔ٹرمپ کی سفری پابندی کی ذد میں آنے عرب ممالک سے 16 فیصد کمی آئی جبکہ مسلم اکثریت رکھنے والے 50 ممالک کے شہریوں کو ویزے کی کمی 8 فیصد تک گر گئی لیکن دلچسپ بات یہ ہے مجموعی طور پر ویزے جاری کرنے کی تعداد بدستور برقرار رہی اور کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
پولیٹیکو کے مطابق ایران کیلئے جاری ہونے والے ویزوں کی تعداد میں گزشتہ سال مارچ 2016 سے اگست 2016 کے مقابلے میں رواں سال مارچ سے اگست تک 37 فیصد کمی آئی۔صومالیہ کے شہریوں کے لیے جاری ہونے والے ویزوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 42 فیصد کمی رپورٹ کی گئی ہے۔خیال رہے کہ جہاں دیگر اسلامی ممالک کے شہریوں کے لیے جاری ہونے والے ویزوں میں کمی آئی ہے وہی وسطی ایشائی مسلم ممالک قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے شہریوں کو نان امیگرنٹ ویزوں میں اضافہ ہوا ہے۔
نیویار ک سٹی سے تعلق رکھنے والے قانون دان ریاض جعفری نے میگزین کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ سخت ویزا پالیسی کے بعد پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک کے زیادہ تر شہریوں نے پریشانیوں سے بچنے کے لیے امریکا نہ جانے کو ترجیح دی ہے۔انہوںنے کہاکہ 2016کی نسبت رواں سال پاکستانیوں کو 26فیصد کم نان امیگرنٹ ویز ے جاری کیے گئے۔
امیگریشن معاملات کے ماہراور امیگریشن کمپنی کے لیے کام کرنے والے ریاض جعفری نے کہا کہ رواں سال دہشت گرد گروپوں کے ساتھ مبینہ روابط کی وجہ سے چار شہریوں کو ویزہ دینے سے انکار کیا گیا جن میں سے ایک نمایاں کاروباری شخص ہیں۔انھوں نے کہا کہ کہ میں گزشتہ 25سال سے کام کر رہا ہوں لیکن دہشت گردی سے متعلق الزام پر ویزا نہ دینے کا یہ پہلا موقع ہے۔رپورٹ کے مطابق سفری پابندیوں کے باعث نہ صرف پاکستان بلکہ زیادہ تر اسلامی ممالک متاثر ہوئے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں