پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ سیاسی سرگرمیاں عروج پر رہیں تاہم اس کے بعد سیاست میں پھیکا پن محسوس ہو رہا ہے۔ این اے 120 کے ضمنی الیکشن میں حکمران مسلم لیگ (ن) کی مخالف جماعتوں کو ایک موقع ملا تھا کہ سب ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوکر (ن) لیگ کو شکست دینے کی کوشش کرتیں لیکن ایسا نہ ہو سکا کہ سیاست میں اب نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم جیسی کوئی سیاسی شخصیت موجود نہیں ہے ۔
جو مختلف الخیال سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماوں کو ایک میز کے گرد بٹھا سکے۔ غالباً پیپلزپارٹی ،جماعت اسلامی کو زعم تھا کہ ان کا خاصا ووٹ بنک ہے۔ باقی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے شغلاً ضمنی الیکشن میں حصہ لیا۔ جہاں تک شیخ اظہر حسین رضوی اور شیخ محمد یعقوب کا تعلق ہے‘ ان کے الیکشن میں حصہ لینے کے واضح مقاصد تھے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ دونوں احباب اور ان کے پشت بانوں نے اپنے اپنے مقاصد میں کس قدر کامیابی حاصل کی۔
البتہ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی پر واضح ہو گیا کہ ان کا ووٹ بنک پی ٹی آئی کے ہنگامے کی نذر ہو چکا۔ ان دونوں جماعتوں کے حامی ووٹروں کی زیادہ تر تعداد اپنے ووٹ انہیں دیکر ضائع کرنے کی بجائے پی ٹی آئی کے امیدوار کو دیکر مسلم لیگ (ن) کو شکست دینے کی کوشش کی۔نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کا ذکر آیا تو 26 ستمبر کو ان کی 14 ویں برسی تھی۔ نوابزادہ مرحوم نے اپنی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ لاہور میں گزارا۔
ریلوے سٹیشن کے قریب اور نولکھا چرچ چوک سے چند سو قدموں کے فاصلے پر نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کا ڈیرہ تھا۔ ان کے ڈیرے پر پاکستان کی لگ بھگ تمام تر بڑی سیاسی شخصیات نے حاضری دی۔ اجلاسوں میں شریک ہوئے یا وہاں سے تحریکوں میں شرکت کی مگر اس مردقلندر کی وفات کے بعد وہ ڈیرہ ہی نہ رہا۔ نوابزادہ صاحب جتنے بڑے لیڈر تھے‘ ان کی جماعت اتنی ہی چھوٹی تھی۔
ان کے رفقاءمیں سے بیشتر اس جہان فانی سے رخصت ہو چکے ہیں۔ سو اتنے بڑے شہر میں ان کی یاد میں کوئی عظیم الشان تقریب کروانے والا کوئی ایک اللہ کا بندہ بھی نہیں ہے۔ البتہ ان کے ساتھ اتحادوں میں شامل ہونے والے ان کے دوست استقلال پارٹی کے چیئرمین سید منظور علی گیلانی‘ عوامی نیشنل پارٹی کے احسان وائیں‘ مسلم لیگ قاسم کے سیف اللہ سیف ،ڈاکٹر قاری اشفاق اللہ سمیت نوابزادہ صاحب کے سابق ساتھی عبدالرشید قریشی‘ تحریک انصاف کو پیارے ہو جانے والے نواز گوندل و چند ایک دیگر لوگ اب بھی نوابزادہ صاحب کو یاد رکھنے والوں میں سرفہرست ہیں۔
سو 26 ستمبر کو ان ہی لوگوں سے کچھ نے ان کے ساتھ گزرے ایام کے حوالے سے یادوں کو تازہ کیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم نے اپنی زندگی کا آخری سیاسی اتحاد اے آر ڈی بنایا جس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی دونوں شامل تھیں۔ اے آر ڈی کے لگ بھگ تمام بڑے چھوٹے عہدوں پر ان جماعتوں کے لوگ تھے‘ لیکن افسوس ان میں سے کسی کو بھی توفیق نہیں ہوئی کہ بابائے جمہوریت کیلئے کوئی تقریب منعقد کر لیتے۔
جس میں نئی نسل کے سیاسی کارکنوں کی تربیت کیلئے سیاسی جماعتوں کی طرف سے پارلیمنٹ کی بالادستی‘ عدلیہ کی آزادی ، منصفانہ و مستحکم انتخابی عمل اور الیکشن کمشن کے کردار سمیت جماعتی بنیادوں پر سیاسی جدوجہد کے حوالے سے سیر حاصل بحث کر لی جاتی۔اس وقت عالم یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں آپادھاپی کا شکار ہیں۔ الیکشن 2018ءنو ،دس ماہ کے فاصلے پر ہیں‘ لیکن حکمران مسلم لیگ (ن) کو الیکشن میں ناک آو¿ٹ کرنے کی بجائے فاو¿ل پلے کرکے بعض ریاستی اداروں کے ذریعے اس جماعت کی مشکیں کسنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
مارچ 2018ءمیں سینٹ کے الیکشن سے پہلے حکمران جماعت کو مصنوعی طریقہ سے گھر بھجوانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اللہ پاکستان کے حال پر رحم کرے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کے خلاف محاذآرائیاں عروج پر ہیں اور دوسری طرف ملک کے دو بڑے لیڈر نوازشریف اور عمران خان عدالتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ نوازشریف سمیت فیملی کو احتساب عدالتوں میں اپنے حکومت نیب کے ریفرنسوں کا سامنا ہے۔
احتساب عدالتیں سپریم کورٹ کے ایک ایسے جج کی چھتری تلے مقدمات کی سماعت کر رہی ہیں جنہوں نے نوازشریف کی نااہلی کا متنازعہ فیصلہ دیا اور پھر نظرثاتی کی درخواست بھی مسترد کی۔ عام تاثر یہی ہے کہ شریف فیملی کو احتساب عدالتوں سے ریلیف ملنے کا امکان کم ہی ہے۔ دوسری طرف عمران خان سپریم کورٹ سے نااہلی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ الیکشن کمشن میں بھی وہ پھنس چکے ہیں۔
میاں شہبازشریف نے بھی عمران خان کو عدالتوں میں آگے لگا رکھا ہے۔ عمران خان کو چاہئے کہ عدالتوں کا سامنا کریں یا الزام تراشی کا سلسلہ بند کریں۔ نوازشریف کا لندن میں زیرعلاج اپنی بیگم کلثوم نواز کو بچوں کے حوالے کرکے احتساب عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنے کیلئے آنا دلیرانہ اور دانشمندانہ اقدام ہے۔۔ قوم یہ بات جانتی بخوبی ہے سیاسی رہنماوں کو سزاوں کے ذریعے سیاست سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا سو نوازشریف اب یہاں پاکستان میں مقدموں کا سامنا کریں گے اور اپنی بیمار اہلیہ کے پاس بیرون بھی بھی آتے جاتے رہیں گے۔
اللہ بیگم کلثوم نواز کو صحت یاب کرے۔ وہ پاکستان کی سیاست کا ایک قابل قدر کردار ہیں۔جنہوں نے ضرورت پڑنے پر استقامت کے ساتھ سیاسی کردار ادا کیا اور جب ان کے خاوند نے سیاسی ذمہ داریاں سنبھالیں تو وہ واپس خانہ دار خاتون بن گئیں۔ ان سے پہلے پاکستان کی سیاست میں مادر ملت فاطمہ جناح‘ بیگم نصرت بھٹو‘ شہید بینظیر بھٹو‘ بیگم نسیم ولی خان نے اپنا اپنا مقام پیدا کیا اور سیاسی فرائض سرانجام دیئے۔ ان کے علاوہ بیگم عابدہ حسین‘ بیگم تہمینہ دولتانہ ،نادیہ عزیز اور ان جیسی بہت سی خواتین جنرل نشستوں پر ممبران قومی اسمبلی منتخب ہوکر قومی سطح پر سیاسی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں