ممبئی: بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن اوران کی بہواداکارہ ایشوریا رائے نے پاناما پیپرز کی تحقیقات کے سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹر(ای ڈی) کے ساتھ اپنے مالی معاملات کی دستاویزات بھارتی انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں جمع کرادیں۔پانامالیکس اورآف شورکمپنیوں کی حقیقت نے دنیا میں ہلچل مچادی ہے، پاناما دستاویزات سامنے آنے کے بعد عالمی سیاسی رہنماؤں سمیت شوبزانڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے نام بھی سامنے آئے ہیں جس کے بعد کئی عالمی رہنماؤں نے اپنے عہدوں سیاستعفیٰ دے دیا۔
امیتابھ بچن کانام 1993 سے لے کر1997 تک چارآف شورشپنگ کمپنیوں کے ڈائریکٹر کے طورپرسامنے آیا تھا-صرف عالمی رہنماؤں کے ہی نہیں بلکہ بھارتی فلم انڈسٹری کے شہنشاہ امیتابھ بچن اوران کی بہوایشوریا رائے بچن کے نام بھی پاناما پیپرزمیں سامنے آئے، بھارتی عوام امیتابھ بچن کو نہ صرف پسند کرتے ہیں بلکہ ان کی پوجا کرتے ہیں لہٰذا ان کا نام سامنے آنے کے بعدبھارت میں غیریقینی صورتحال پیدا ہوگئی تھی، تاہم امیتابھ بچن نے اپنیاوپرلگنے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا آف شورکمپنیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اورانہوں نے جو بھی پیسہ باہربھیجا وہ قانونی طریقے سے بھیجا تھا۔
تاہم بھارتی انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے کارروائیوں کا آغاز تیز کرتے ہوئے اگست میں پاناما پیپرز کیس میں شامل 33 افراد کے خلاف تحقیقات کا آغازکرنے کا اعلان کیا تھا جن میں امیتابھ بچن اورایشوریا رائے کا نام بھی شامل تھا، اپنے خلاف تحقیقات ہونے پرامیتابھ بچن بہت تلملائے تھیاورایک بارپھرتمام الزامات کی تردید کی تھی لیکن بھارتی حکومت اب اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لے رہی ہے لہٰذا امیتابھ بچن اورایشوریا رائے کو اپنے اثاثوں کی تفصیلات اورجائیداد کے کاغذات جمع کرانے ہی پڑے۔واضح رہے کہ 2015 میں پاناما لا فرم کے ریکارڈکے مطابق امیتابھ بچن کانام 1993 سے لے کر1997 تک چارآف شورشپنگ کمپنیوں کے ڈائریکٹر کے طورپرسامنے آیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں