اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے لہذا یہاں معاشرے کے تمام طبقا ت کی بہتری کا خیال رکھا گیا ہے‘ زکوۃ و صدقہ ایسے ہی احکامات ہیں جو معاشرے کی فلاح کا سبب بنتے ہیں۔حدیثِ نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ ’اگر صدقہ کرنے والا جان لے اور سمجھ لے کہ اس کا صدقہ فقیر کے ہاتھ میں جانے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں جاتا ہے تو یقینا دینے والے کو لذت لینے والے سے کہیں زیادہ ہوگی‘۔زکوۃ کو بطور حکم فرض کیا گیا ہے لیکنصدقے کا معاملہ اس سے جدا ہے‘ معاشرے کے ناداروں کی فلاح و بہبود کے لیے صدقے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی تاکہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق معاشرے کی خدمت کرکے قلبی سکون حاصل کرے۔یہاں ہم آپ کو صدقے کے20 ایسے فضائل سے روشناس کرارہے ہیں جن سے آگاہی کے سبب قرونِ اولیٰ کے مسلمان صدقہ دینے میں پیش پیش رہا کرتے تھے۔صدقے کے فضائل: صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ہے ، اور سب سے افضل صدقہ کھانا کھلانا ہے۔۔صدقہ قیامت کے دن سایہ ہو گا، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا۔ صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے، اور قبر کی گرمی کی ٹھنڈک کا سامان ہے۔ میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ہے، اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑھاتے رہتے ہیں۔صدقہ مصفیٰ ہے، نفس کی پاکی کا ذریعہ اور نیکیوں کو بڑھاتا ہے۔ صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سروراورتازگی کا سبب ہے۔صدقہ قیامت کی ہولناکی کے خوف سے امان ہے، اور گزرے ہوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا۔ صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سیئات کا کفارہ ہے۔ صدقہ خوشخبری ہے حسن ِخاتمہ کی، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ہے۔صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ہے، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہوں۔ صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ہے۔ خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کی مخلوق محبت کرتی ہے۔صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ہے۔ صدقہ دعاؤں کے قبول ہونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ہے۔ صدقہ بلاء(مصیبت) کو دور کرتا ہے، اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ہے۔ صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ہے، کامیابی اور رزق کا سبب ہے۔صدقہ علاج بھی ہے‘دوا بھی اور شفاء بھی۔ صدقہ آگ سے جلنے، غرق ہونے، چوری اور بری موت کو روکتا ہے۔ صدقہ کا اجرملتا ہے، چاہے جانوروں اور پرندوں پر ہی کیوں نہ ہو۔یقیناً اس تحریر کر پڑھ کر آپ صدقے کے فضائل اپنے روح و قلب میں اتار رہے ہوں گے ‘ اور دل میں صدقہ کرنے کا ارادہ کیا ہوگا کہ آپ بھی صدقہ کریں تو سن لیجئے‘ حدیث نبی صﷺ کا مفہوم ہے کہ ’اچھی بات کو آگے پھیلانا بھی صدقہ ہے‘ ۔ سو دینِ اسلام کی اس رہنما کو آگے بڑھائیں اور صدقے کے سلسلے کو جاری کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں