اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم آفس نے اجازت کے بغیر خفیہ اداروں کے ریکارڈ حاصل کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے تمام وزارتوں اور ان کے ماتحت محکموں کو خفیہ داروں سے رابطہ کرنے سے روک دیا۔وزیراعظم آفس سے جاری حکم نامے کے مطابق سول بیورو کریسی کی جانچ پڑتال کو کنٹرول کرنے کے لیے خفیہ ادارے وزیراعظم آفس کی اجازت کے بغیر رابطہ نہیں کر سکیں گے۔ اعلی حکومتی عہدیداروں کے خلافمختلف وزارتوں سے وزیراعظم آفس کی اجازت کے بغیر خفیہ اداروں کے ریکارڈ حاصل کرنے پر پابندی ہو گی۔ خفیہ اداروں کو بھی براہ راست وزارتوں اور محکموں کو معلومات اور ریکارڈ دینے سے روک دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ دو روز قبل نجی ٹی و ی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اسد کھرل نے کہا تھا کہ سینئر صحافی شوکت بسرا سے ہماری بات چیت ہوئی ہے، انہوں نے بڑے خطرناک پوائنٹس کی جانب نشاندہی کی ہے کہ جج صاحبان کے فون ٹیپ کئے جا رہے ہیں، جرنیلوں کے فون ٹیپ کئے جا رہے ہیں، صحافیوں کے فون ٹیپ کئے جا رہے ہیں، آئی بی پارلیمنٹیرینز کے فون بھی ٹیپ کر رہی ہے۔ سینئر صحافی اسد کھرل نے کہا کہ میں آج پھر کہہ رہا ہے، سپریم کورٹ اگر سو موٹو ایکشن لیتی ہے تو میں اس کے ثابت بھی کر دوں گا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا فون نواز شریف کے کہنے پر آئی بی کے چیف ٹیپ کر رہے ہیں، آئی بی کے سیکرٹ فنڈز سے کروڑوں روپے نکل رہے ہیں، جو نواز شریف کے ذاتی مذموم عزائم کیلئے خرچ ہو رہے ہیں، اسد کھرل نے مزید کہا کہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں ایک سو موٹو کیس پینڈنگ پڑا ہوا ہے جو اصغر خان کیس کا ایک پارٹ ہے۔ اس کیس میں بھی میں بہت ساری چیزیں پیش کر چکا ہوں اور دوبارہ بھی میں ثبوت پیش کرنے کیلئے تیار ہوںکہ کن کن کے فون ٹیپ ہو رہے ہیں۔ ٹیکنیکل افراد کورٹ میں جاکر ثبوتفراہم کریں گے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان میں براہ راست وزیر اعظم کے انڈر کام کرنے والی خفیہ ایجنسی انٹیلی جنس بیورو آف پاکستان کے ایک جونیئر آفیسر نے ادارے کے متعدد افسران و اہلکاروں کے ملک دشمن خفیہ اداروں کے ساتھ روابط کا انکشاف کرتے ہوئے معاملے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیاہے۔ موقر قومی اخبار ’’نوائے وقت‘‘ کی رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے اسسٹنٹ سب انسپکٹرملک مختاراحمد شہزاد نے بیرسٹر مسرور شاہ کے ذریعے اسلام آباد میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو پاکستان میں تعینات بعض افسران و اہلکاروں کے شام، ایران، بھارت، افغانستان اورازبکستان کے خفیہ اداروں سے تعلقات ہیں جن کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں تاہم حکام ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ ہیں۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ 2007ء میں ادارے میں شاملہوا اور اس نے اپنی اسائمنٹ میں بہت سے ایسے اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ تحقیق کی ہے جو سرگودھا، کوٹ مومن، بھلوال میں نام نہاد کینو کے کاروبار میں ملوث ہیں اور مذکورہ بالا ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ ان کے پاس اس کاروبار کی آڑ میں باقاعدہ ٹھہر رہے ہیں اور ملک دشمن سرگرمیوں میں یہ لوگ برابر کے شریک ہیں۔ درخواست میں چند افسروں اور دیگر اہلکاروں کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ یہ افسران و اہلکار شام، ایران،افغانستان کیلئے کام میں ملوث پائے گئے ہیں اور ان کی ٹریول ہسٹری بھی موجود ہے۔ درخواست میں ایران میں جاکر تربیت حاصل کرنے والے پاکستانیوں کی تفصیلات اور انہیں ایرانی بینک ال انصر کے ذریعے کی جانے والی لاکھوں روپے کی ادائیگیوں کو بھی تفیصلات فراہم کی گئی ہیں۔ درخواست میں استد عا کی گئی ہے کہ ان اہلکاروں کے خلاف آئی ایس آئی کے ذریعے تفتیش کروائی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف اقدامات کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں