بیجنگ(این این آئی)چین نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے شمالی کورین کمپنیوں کو 120دنوں میں اپنا کاروبار بند کرنے کا الٹی میٹم دے دیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی وزارت تجارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چین نے یہ اقدام شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے چھٹے جوہری تجربے کی پاداش میں اقوام متحدہ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کو مدنظر رکھتےہوئے اٹھایا ہے۔وزارت تجارت کے مطابق چینی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ طور پر کاروبار کرنے والی شمالی کورین کمپنیوں کو اپنا کاروبار سمیٹنے کے لیے جنوری تک کی مہلت دی گئی ہے۔خیال رہے کہ چین نے یہ اعلان بھی کر رکھا ہے کہ وہ یکم اکتوبر سے شمالی کوریا کو ریفائنڈ پیٹرولیم کی برآمد بھی محدود کر دے گا جبکہ ٹیکسٹائل مصنوعات پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دی تھی۔ نئی پابندیوں کے ذریعے شمالی کوریا کی تیل کی درآمدات کو محدود کیا گیا ہے اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات پر پابندی لگائی گئی ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے یہ نئی پابندیاں شمالی کوریا کے چھٹے اور اب تک کے سب سے بڑے جوہری تجربے کے بعد عائد کی گئی ہیں۔چین اور روس نے بھی شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔شمالی کوریا کے خلاف پابندی کی قرارداد امریکہ نے تیار کی تھی۔ رائے شماری کے بعد قراردار کو صفر کے مقابلے میں 15 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔نئی پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کی تیل کی درآمد کو محدود کیا گیا ہے اور ٹیکسٹائل کی برآمدات پر پابندی عائد کی گئی۔شمالی کوریا کا دعوی ہے کہ اس نے ہائیڈروجن بم بنایا ہے اور وہ مسلسل امریکہ کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رہا ہے۔خیال رہے کہ شمالی کوریا پر پہلے سے ہیاقوام متحدہ کی جانب سے اقتصادی پابندیاں عائد ہیں تاکہ جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔سلامتی کونسل کے پیر کو ہونے والے اجلاس میں تازہ پابندیوں کو اس وقت منظور کیا جب امریکہ نے اپنی تجویز کردہ سخت پابندیوں میں تھوڑی تخفیف کی اور بعض سخت تجاویز کو ہٹا لیا۔ان سخت تجاویز میں تیل پر مکمل پابندی اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے اثاثے کو منجمد کرنے کے اقدامات شامل تھے۔ان نئیپابندیوں کے ذریعے شمالی کوریا کے فنڈ اکٹھا کرنے اور اپنے جوہری پروگرام کو فروغ دینے کی صلاحیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں