اسلام آباد،ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) سعودی حکومت نے پاکستان کے سفارت خانے کی کوششوں کی وجہ سے مملکت میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو مزید ایک مہینے کی مہلت دے دی جو کہ کل 17 ستمبربروز اتوار سے شروع ہو گی اور ایک مہینے تک یعنی 17 اکتبوبر تک جاری رہے گی۔ اس لیے ایسے تمام پاکستانی جو کہ سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر موجود ہیں انکے لیے یہ ایک اور سنہری موقعہ ہے کہ وہ بغیر کسی سزا کےسعودی عرب سے نکل سکتے ہیں اور اپنے ملک واپس آسکتے ہیں۔دریں اثنا سعودی حکومت کی جانب سے گرین کارڈ سسٹم کیلئے حتمی ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی حکومت نے سعودی شہریت حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کیلئے گرین کارڈ سسٹم نافذ کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ سعودی حکومت نے گرین کارڈ سسٹم کیلئے حتمی ڈرافٹ تیار کر لیا ہے۔ اس سسٹم کے تحت سعوی شہریوں سے سالانہ 14 ہزار 200 ریال کی فیس لی جائے گی۔گرین کارڈ حاصل کرنے والے شہری سعودی عرب میں مستقل رہائش، پنشن، ہیلتھ کئیر، تعلیم، انشورنس اور دیگر حکومتی سہولیات حاصل کر سکیں گے۔ جبکہ گرینکارڈ رکھنے والے افراد کو پہلے درجے میں آنے والے رشتے داروں کیلئے خاندانی ویزا، دوسرے درجے میں آنے والے رشتے داروں کیلئے ویزٹ جبکہ گھریلو ملازمین رکھنے کیلئے 2 لیبر ویزے حاصل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اس سسٹم کا اطلاق اگلے ہفتے سے کر دیا جائے گا۔دریں اثنا سعودی عرب نے اگلے ہفتے سے ملک میں انٹرنیٹ کے ذریعے فون اور ویڈیو کال کرنے پر سے پابندی اٹھا نے کا اعلان کردیا۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس بات کا اعلان سعودی عرب کے وزیر برائے مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی عبداللہ السوا نے کیا۔عبداللہ السوا نے بدھ کو متعدد ٹویٹس میں انٹرنیٹ کے ذریعے فون اور ویڈیو کال کرنے پر سے اگلے بدھ کو پابندی اٹھائے جانے کا اعلان کیا۔ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ‘اپنے ٹیلی کام کے پارٹنرز کے ہمراہ اور صارفین کو ترجیح دینے کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اگلےہفتے سے انٹرنیٹ کے ذریعے فون اور ویڈیو کال کرنے پر سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔عبداللہ السوا نے کہا کہ سعودی حکام اور ٹیلی کام کمپنیاں مل کر انٹرنیٹ کے ذریعے فون اور ویڈیو کال کرنے پر سے پابندی اٹھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ ایپلیکیشنز جو وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول کو سپورٹ کرتی ہیں وہ اگلے بدھ یعنی 20 ستمبر سے کام کرنا شروع کر دے گیں۔وزیر برائے مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی عبداللہ السوا نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے وژن 2030 کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔اس سے قبل متحدہ عرب امارات کے لیے واٹس ایپ سے کال کرنے کا خواب تقریبا اس وقت پورا ہوا جب لوگ اس کے ذریعے کال کرنے میں کامیاب ہوئےلیکن ان کا خواب اس وقت چکنا چور ہو گیا جب متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری اتھارٹی نے واضح کیا کہ ملک کی وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔متحدہ عرب امارات میں وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول پر سے پابندی اٹھانے پر بحث اپریل 2016 سے جاری ہے۔ فیڈرل نیشنل کونسل اس حق میں ہیں کہ انٹرنیٹ کے ذریعے فون اور ویڈیو کال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔متحدہ عرب امارات میں دوٹیلی کام کمپنیاں ہیں اور دونوں ہی نے گذشتہ سال سنیپ چیٹ کے ذریعے کال کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ یاد رہے کہ سنیپ چیٹ نے انٹرنیٹ کے ذریعے کال کرنے کا فیچر گذشتہ سال متعارف کرایا تھا۔متحدہ عرب امارات کی ایک تنظیم امارات سیفر انٹرنیٹ سوسائٹی کے چیف ایگزیکٹیو محمد مصطفی کا کہنا ہے کہ وہ اس دن کے انتظار میں ہیں جب لوگ مفت میں کال کر سکیں گے۔ تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا حفاظت اور سکیورٹی کو نظرانداز کر کے نہیں کیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں