بس تیزی سے اپنی منزل کی طرف جارھی تھی کہ یکایک ڈرائیور نے بریک لگائی اور کنڈیکٹر سے مخاطب ہوا”سواری چڑھالو”کنڈیکٹر نے دروازہ کھول کر باہر دیکھا وہاں کوئی موجود نہیں تھا سڑک دور دور تک ویران تھی اس نے حیرت سے ڈرئیور کی طرف دیکھا پھر آواز لگائی”باہر کوئی نہیں ہے استاد جانے دو۔”اسکے جانے دو کے جواب میں بس جب آگے نہ بڑھی۔ تو اس کی حیرت میں مزید اضافہ ہوگیاسواریاں بھی ڈرائیور کو دیکھنے لگیں۔لیکن وہاں بالکل خاموشی تھی کنڈیکٹر جب اس کے پاس آیا تو اچھل پڑا کیونکہ ڈرائیور کا چہرہ بتارھا تھا کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں موت نہ کسی سے پوچھ کر آتی ہے اور نہ کسی کو بتاکر آتی ہے پھر بھی ہم ہر وقت گناھوں میں مشغول ہیں؟ہم میں سے بعض دوست ایسے بھی ہیں جو کانوں میں ہیڈ فونز لگا کر ہر وقت گانوں کی دھن میں مست رھتے ہیں اور بعض تو ایسے بھی ہیں جو رات کو سونے کے وقت گانے سنتے سنتے سوجاتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ہر وقت فلم اور ڈراموں کے حوالے ہیں اس دوران نہ نماز کا ھوش نہ تلاوت کا شوق نہ ذکر واذکار کا ذوق ذرا سوچیئے اس حالت میں اگر خدانخواستہ ھماری موت واقع ھوجاۓ تو ہمارا کیا حشر ہو گا؟بس تیزی سے اپنی منزل کی طرف جارھی تھی کہ یکایک ڈرائیور نے بریک لگائی اور کنڈیکٹر سے مخاطب ہوا”سواری چڑھالو”کنڈیکٹر نے دروازہ کھول کر باہر دیکھا وھاں کوئی موجود نہیں تھا سڑک دور دور تک ویران تھی اس نے حیرت سے ڈرئیور کی طرف دیکھا پھر آواز لگائی”باہر کوئی نہیں ہے استاد جانے دو۔”اسکے جانے دو کے جواب میں بس جب آگے نہ بڑھی۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں ایمان کی حالت میں موت نصیب فرمائے آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں