نئی دہلی(آئی این پی)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پاکستان کا پانی بند کرنے کی سازشیں جاری ہیں، نریندر مودی 17ستمبر کو دنیا کے دوسرے بڑے ڈیم کا افتتاح کریں گے۔بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے حکم دیا تھا کہ بھارتی دریائوں سے پاکستان جانے والا اضافی پانی ملک میں زمین سیراب کرنے پر استعمال کیا جائے اور پاکستان کا پانی مکمل طور پر بند کردیا جائےلیکن ورلڈ بینک کی مداخلت اور چین کی دھمکی کے بعد مودی فی الحال اپنی مذموم سازش پر عمل سے باز رہے تھے۔ ورلڈ بینک سندھ طاس معاہدے کا ضامن ہے اور اس کے حکام نے ہی مودی کو ایسا کرنے سے روک دیا تھا لیکن مودی نے اب پاکستان کا پانی بند کرنے کے عملی اقدامات اٹھانا شروع کردیئے ہیں۔سردار سرور ڈیم کی بنیاد انیس سو چھپن میں ریاست گجرات میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے رکھی تھی۔ مودی نے ڈیم کی گہرائی ایک سو ستائیس میٹر سے بڑھا کر ایک سو اڑتیس میٹر کردی ہے اور اس کا افتتاح اپنی سالگرہ کے روز یعنی سترہ ستمبر کو کریں گے۔دوسری جانب پاکستان اور بھارت میں آبی تنازع پر2 روزہ مذاکرات امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں دوبارہ شروع ہو گئے،مذاکرات کے پہلے دن کے اختتام پر دونوں ممالک کے وفود نے اچھے خیالات کے اظہار کے ساتھ مذاکرات کی تکمیل کی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارت میں آبی تنازع پروفود کی سطح پر مذاکرات عالمی بینک کے ہیڈ کوارٹرز میں ہوئے، مذاکرات 1960 کے پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹر ٹریٹی)کے تحت ہو رہے ہیں جس میں عالمی بینک ثالث ہے۔نئی دہلی میں اس حوالے سے ایک بھارتی افسر نے صحافیوں کو آگاہ کیا کہ بھارت کے سیکریٹری برائے آبی ذخائر امرجیت سنگھ نئی دہلی کےوفد کی سربراہی کر رہے ہیں، اس وفد کے دیگر ارکان میں وزارت خارجہ، توانائی، انڈس واٹر کمیشن اور مرکزی کمیشن برائے آب کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ان کا یہ بھی بتانا تھا کہ دوسرے رانڈ میں کنشن گنگا اور راتلے پاور پروجیکٹس کے معاملات تیکنیکی بنیادوں پر زیر بحث آئیں گے۔پاکستان کے وفد کی قیادت سیکریٹری واٹر ریسورس ڈویژن عارف احمد کر رہے ہیں،جبکہ سیکریٹری برائے وزارت پانی و بجلی یوسف نعیم کھوکھر، انڈس واٹر ٹریٹی کے لیے ہائی کمشنر مرزا آصف بیگ اور جوائنٹ سیکریٹری پانی سید مہر علی شاہ بھی وفد کا حصہ ہیں۔قبل ازیں دونوں ممالک میں یکم اگست کو مذاکرات کا دور ہوا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے وفد اپنے اپنے ممالک کے دارالحکومتوں کو لوٹ گئے تھے اور اپنی حکومتوں سے اس معاملے پرمزید مشاورت کی تاکہ آئندہ ہونے والے راونڈ میں اس کو زیر بحث لایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق اب دوسرے رانڈ کی تکمیل پر کوئی بھی حتمی فیصلہ یا معاہدہ کرنے سے قبل دونوں ممالک کے وفود سیاسی قیادت سے مشاورت کو لازمی بنائیں گے۔اگست کے شروع میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات بھی واشنگٹن میں واقع عالمی بینک کے ہیڈ کوارٹر میں ہوئے تھے جبکہ حالیہ مذاکراتبھی یہیں منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔عالمی بینک نے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازع پر 1960 میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کا پس منظر اور اس کو حل کرنے کی کوششوں کا ایک مختصر منظر نامہ بھی جاری کیا تھا۔پاکستان اور بھارت کشن گنگا ڈیم اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ کی تعمیر پر رضامند نہیں ہوئے تھے جبکہ عالمی بینک نے واضح کیا تھاکہ وہ کسی بھی قسم کے متنازع منصوبے پر سرمایہ کاری نہیں کر رہا۔مذکورہ منصوبوں کے ڈیزائن کی تکنیکی خصوصیات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا کیونکہ ان منصوبوں کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ ان کی تعمیر سے سندھ طاس معاہدوں کی خلاف ورزی ہوگی۔یہ دونوں منصوبے بھارت کی جانب سے دریائے جہلم اور دریائے چناب پر تعمیر کیے جارہے ہیں۔پاکستان نے عالمی بینک سے درخواست کی تھی کہ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے حوالے سے اس کے خدشات پر ایک ثالثی عدالت قائم کی جائے جبکہ بھارت کا اس معاملے میں کہنا تھا کہ ان منصوبوں کی جانچ کے لیے غیر جانبدار ماہرین کا تقرر کیا جائے۔گذشتہ برس 12 دسمبر کو عالمی بینک کے صدر جم یونگ کم نے اعلان کیا تھا کہ بینک دونوں فریقین کی جانب سے سامنے آنے والی درخواستوں پر مزید اقدامات کو مخر کر دے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں