بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)چین نے برمی مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑک دیا۔ تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کو میانمار کے بحران پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس بلایا ہے،عالمی برادری کی جانب سے میانمار حکومت کیخلاف دبائو بڑھ رہا ہے تاہم چین نےروہنگیا مسلمانوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کے آپریشن پر میانمار کی حمایت کا اعلان کردیا ہے ، بیجنگ نے کہا ہے کہ وہ میانمار کے امن اوراستحکام کے قیام کے حق کی حمایت کرتا ہے،چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو امن و استحکام کے لئے میانمار حکومت کی حمایت کرنا چاہئے .آنگ سانگ سوچی نے گزشتہ دونوں سلامتی کونسل میں میانمار کیخلاف ممکنہ قرارداد کے پیش نظر روس اور چین سے مدد مانگی تھی ،پاکستان نے میانمار پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے وعدے نہ کریں پورے نہ ہوسکیں، جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل میں او آئی سی کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان نے کہا کہ تفریق، تشدد اور نفرت آمیز رویہ نا قابل برداشت ہے، امریکا نے برما سیکورٹی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کا احترام، تشدد کا خاتمہ اور ہر طبقے کے لوگوں کو بے گھر ہونے سے بچائے ۔میانمار کی سرزمین روہنگیا مسلمانوں کیلئے تنگ کر دی گئی۔ جان بچا کر ہجرت کرنا بھی ان کیلئے مشکل ہو گیا۔ میانمار فوج کی جانب سے بنگلہ دیش سرحد کیلئے قریب بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا نشانہ بن کر کئی مسلمان لہولہان ہو چکے۔ اب تک درجنوں گھر جلا دیئے گئے ہیں۔ میانمار میں زمین تنگ ہونے کے باعث اب تک 3 لاکھ کے قریب مسلمان بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں اور وہاں کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔صورتحال پر غور کیلئے سلامتی کونسل کا اجلاس آج ہوگا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپ کا دورہ کیا اور انہیں بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ شیخ حسینہ واجد کا کہنا تھا کہ میانمار کی حکومت کو اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو روہنگیا مسلمانوں پر حملے کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے تھی۔ انہوں نے برمی رہنما آنگ سان سوچی کوایک پیغام میں لکھا ہے کہ میانمار کو پناہ گزینوں کو واپس لینا چاہئے کیونکہ وہ ان کے اپنے لوگ ہیں۔ انہوں نے حالیہ تشدد کی لہر میں روہنگیا جنگجوئوں کے کردار کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا ہمیں انہیں پناہ دینی ہے تاکہ وہ خوراک اور ادویات حاصل کر سکیں۔ جب تک وہ انہیں واپس لینے کیلئے تیار نہیں ہوتے‘ وہ انسان ہیں‘ ہم انہیں واپس نہیں دھکیل سکتے۔ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ ہم انسان ہیں۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم نے کہا ’’ہمنے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد منظور کی ہے کہ میانمار کی حکومت کو اپنے تمام شہریوں کو واپس اپنے ملک لے جانا چاہئے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیمیں میانمار پر ضابطے کے مطابق کارروائی کرے اور انہیں واپس لینے کیلئے دبائو ڈال رہی ہیں۔ دوسری جانب آنگ سانگ سوچی کے خلاف نوبل انعام واپس لینے کی پٹیشن پر چار لاکھ سے زائد افراد نے دستخط کر دیئے۔ اس پٹیشن کا مقصد آنگ سانگ سوچی سے اس نوبل پیس پرائزکو واپس لینا ہے جو انہیں 1991ء میں دیا گیا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے کہا ہے کہ میانمار میں معصوم مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ میانمار کی حکومت ظالم ہے اور اس کے اوپر نوبل انعام یافتہ سفاک خاتون آنگ سان سوچی بیٹھی ہے۔ مسلمانوں پر مظالم سوچی کے نوبل انعام کی موت ہے۔ مسلمان ممالک مسئلہ حل کرانے کیلئے میانمار پر سیاسی اور اقتصادی دبائو ڈالیں۔ اس سلسلے میں او آئی سی کا اجلاسبلایا جائے۔ سفارتکاروں کے مطابق سلامتی کونسل کا اجلاس میانمار کی بگڑتی صورتحال پر گفت و شنید کیلئے بند کمرہ میں ہوگا۔ اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر میتھیو ریکرافٹ نے کہا کہ یہ ممکنہ طورپر خفیہ اجلاس ہوگا‘ لیکن کسی نہ کسی شکل میں اس کا نتیجہ باہر آئے گا۔ میانمار حکومت کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ چین اور روس سلامتی کونسل میں اس کا دفاع کریں۔ میانمار میں شدت اختیار کرتے ہوئے مہاجرین کے تنازع پر بین الاقوامیبرادری تقسیم نظر آئی اور چین نے فوجی کریک ڈائون کے حق میں آواز اٹھائی۔ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اس کریک ڈائون کو ’’نسل پرستی‘‘ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کرتا ہے۔ چین کی جانب سے میانمار کے حق میں مداخلت‘ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم پر عالمی سرزنش سے بچانے کیلئے کی گئی۔ بیجنگ نے جنوب مشرقی ایشیا میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کیلئے آنگ سانسوچی کی سول حکومت کے قیام کے بعد میانمار سے تجارتی‘ توانائی اور انفراسفرکچر کے شعبوں میں مضبوط تعلقات استوار کئے تھے۔ چین نے منگل کے روز میانمار حکومت اور فوج کے حق میں بیان دیا اور چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے رکھائن میں امن و استحکام کی آنگ سان سوچی کی حکومتی کوششوں کو سراہا۔ ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہمیں امید ہے کہ راکھائن میں حالات جلد معمول کے مطابق ہو جائیں گے اور زندگی دوبارہ لوٹ آئے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں