اسلام آباد (آ ئی این پی ) چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے بنی گالہ اراضی سے متعلق پیش کی گئیتمام دستاویز ات ایک دوسرے سے مختلف ہیں،پاور آف اٹارنی کا معاملہ بھی مشکوک ہے ،عمران خان کے پہلے جواب میںراشد خان کاذکر نہیں، جمائما سے راشد خان کے اکائونٹ میں رقم آنے کے چارٹ خود ساختہ ہے، جمائما کیلئے اراضی خریداری کا موقف پہلے موقف میں نہیں تھا، عمران خان نے جب اہلیہ سے قرضہ لیا تو جائیداد ان کے نام کیسے ہوئی ،،متنازع حقائق پر انکوائری یا تحقیقات کا حکم دے سکتے ہیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا پنامہ کیس کا فیصلہ آچکا ، یہ ٹیکس کے معاملے پر نہیں کاغذات نامزدگی سے متعلق ہے، کیا سالانہ گوشواروں میں لندن فلیٹ کی فروخت ظاہر کی گئی۔منگل کو عمران خان نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بنی گالہ اراضی کی خریداری کے عمل میں خلا موجود ہے ۔انہوں نے عمران خان کے وکیل نعیم بخاری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اس خلا سے متعلق موقف دینا تھا ۔ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا ک متفرق درخواستوں کے ذریعے تمام سوالوںکا جواب دیدیا۔ اس پر حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان کے وکیل پسند وناپسند کی بنیاد پر دستاویزات فراہم کررہے ہیں۔ایک کمپیوٹر کا دستاویز راشد خان کا حلفی بیان دستاویزات سے ہٹادیا گیا۔ سپریم کورٹ شواہد ریکارڈ نہیں کرارہی ۔ اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم متنازع حقائق پر انکوائری یا تحقیقات کا حکم دے سکتے ہیں۔ بنی گالہ جائیداد ،نیازی سروسزلمیٹڈ،غیر ملکی کھاتوں سے متعلق کیس ہے۔ جواب میں نعیم بخاری نے کہا کہ آپ نے پاسپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔ ایک کمپیوٹر پرنٹ جمع کرادیا ہے۔ اس پر اکرم شیخ نے کہا کہ اس وقت کمپیوٹر نہیں تھا۔ یہ پاسپورٹ کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سمجھنے کیلئے سوال کرتے ہیں آبزرویشن دینا چاہتے ۔وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ نیازی سروسز لمیٹڈ کے دو بینک اکائونٹس تھے۔ عدالت کے سامنے نیازی سروسز کا صرف ایک اکائونٹ پیش کیا گیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دونوں جانب سے موقف کی وضاحت کی ضرورت ہے۔لندن سے رقم منتقلی پر مختلف درخواستوں میں مختلف موقف اپنائے گئے۔ جمائما سے رقم ملنے کی مصدقہ دستاویزات کہاں ہیں؟عمران خان کے پہلے جواب میںراشد خان کاذکر نہیں۔ عمران خان نے تسلیم کیا کہ اہلیہ سے قرض لیا ۔جب قرض اہلیہ سے لیا تو جائیدادیں ان کے نام کیسے منتقل ہوئیں؟پہلے جواب میں نہیں لکھا کہ بنی گالہ اراضی جمائما کیلئے خریدی ۔ جواب میں لکھا گیا کہ گھر کی تعمیر کیلئے اراضی خریدی ۔ ایک لاکھ ڈالر منتقلی کے علاوہ بھی ٹرانزیکشنز ہیں۔ ٹرانزیکشنز ثابت نہیں ہوئیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ جمائما سے راشد خان کے اکائونٹ میں رقم آنے کے چارٹ خود ساختہ ہے۔ جمائما سے راشد خان کے اکائونٹ میں رقم منتقلی کے دستاویزات کہاں ہیں۔اس پر نعیم بخاری نے کہاکہ رقم منتقلی مزید دستاویزات حاصل کرنے کی کوشش کرونگا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس پر ریمارکس دیے کہ اگرآپ کی کوشش کامیاب نہیں ہوتی توہم کیا نتیجہ اخذکریں؟ رقم ارشد خان کے بجائے عمران خان کے کائونٹ میں کیوں نہیں آئی؟2002کے دوران عمران خان کے لندن دوروں کا ریکارڈ نہیں دیا گیا۔ راشد خان کو بطور نمائندہ درمیان میں کیوں لایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان 1997سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس پر نعیم بخاری نے جواب دیا کہ ایمنٹی اسکیم متعارف ہوئی تو عمران خان نے لندن فلیٹ کو ظاہر کیا۔اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا پنامہ کیس کا فیصلہ آچکا ہے۔ یہ ٹیکس کے معاملے پر نہیں ۔ پنامہ کیس کا فیصلہ کاغذات نامزدگی سے متعلق ہے۔ 2002میں عمران خان نے فلیٹ کو ظاہر کیا ۔ کیا سالانہ گوشواروں میں لندن فلیٹ کی فروخت ظاہر کی گئی؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جمائما خان نے بنی گالہ اراضی کیلئے خود سے ایک پیسہ نہیں دیا۔کیا بنی گالہ اراضی بے نامی تھی؟عمران خان نے کسی بیان میں نہیں کہا اراضی اہلیہ نے تحفے میں دی۔ اگر اراضی تحفہ نہیں تویہ بے نامی ٹرانزیکشن تھی؟جواب میں وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ بنی گالہ اراضی جمائما کے نام پر خریدی گئی ۔ اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ جمائما کو زمین تحفے میں دینے کا ڈیکلیریشن کہا ہے ؟جمائما کو اراضی کاقبضہ دینے کا ڈیکلیریشن کہا ہے؟ جمائما نے نہیں کہا کہ زمین ان کی تھی۔ عمران خان نے تحریری جواب میں بے نامی جائیداد خریدنے کی تردید نہیں کی ۔ اس پرجسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عمران خان نے اراضی کی رقم 65لاکھ روپے خود ادا کی۔ جواب میں نعیم بخاری نے بتایا کہ طلاقکے بعداہلیہ نے جائیداد عمران خان کو تحفے میں واپس کردی تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ جمائما سے لیے گئے قرض کو عمران خان نے گوشواروں میں ظاہر کیوں نہیں کیا؟ نعیم بخاری نے جواب دیا کہ اہلیہ سے لی گئی رقم کو قرض نہ سمجھاجائے۔ عمران خان نے جائیداد کیلئے جمائما سے جو رقم ادھار لی وہ واپس کردی تھی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کی دستاویزات میں موجودپاور آف اٹارنی کا معاملہ بھی مشکوک ہے۔ بے نامی جائیداد خریدنے کا جواب نہیں ملا۔نعیم بخاری نے استفسار کیا کہ پنامہ کیس نظرثانی درخواستوں پر بینچ بن گیا ہے؟جواب میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے کہا کہ شام تک پنامہ نظرثانی کیس کیلئے لارجر بینچ بنادیا جائے گا۔ اس پر اکرم شیخ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ایک پانچ رکنی بینچ کافیصلہ موجود ہے۔ فیصلے کے مطابق میاں بیوی اور باپ بیٹے کوالگ نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے قوم کیلئے ایک قانون طے کرلیا۔ سپریم کورٹ عمران خان کے 1997کے کاغذات نامزدگی کا ریکارڈ منگوائے۔اس پر چیف جسٹس عمر عطا بیدیال نے کہاکہ پنامہ فیصلہ بات بیٹے سے متعلق نہیں عوامی پیسوں سے متعلق ہے۔ابھی نظر ثانی اپیل زیر سماعت ہے ۔وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ تمام دستاویزات فراہم کردوں گا۔ دوہفتے کا وقت دیا جائے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان نے جمائما سے چارکروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔ جو کہ تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ عمران خان نے قرض کی رقم کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کی۔آپ نے ایمنسٹی اسکیم کے تحت بنی گالہ جائیدداد کی مالیت 20لاکھ ظاہر کی۔ نیازی سروسز کے کتنے اکائونٹس تھے؟اس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ بارکلے کمپنی بھی نیازی سروسز میں شامل ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ بیٹھیں اوران سے ہدایات لیں ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ عمران خان پر جس وقت کا الزام تھا اس وقت وہ عوامی عہدہ نہیںرکھتے تھے۔ عمران خان پر اس وقت منی لانڈرنگ کا الزام نہیں تھا۔ عدالت نے عمران خان نااہلی کیس کی سماعت 26ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔واضح رہے کہ عمران خان اس وقت اپنے بیٹوں کے ہمراہ لندن میں موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں