ڈھاکہ (آئی این پی) میانمار کی جانب سے سرحدی علاقے میں بارودی سرنگ پھٹنے سے 3روہنگیا مسلمان جاں بحق ہوگئے ،یہ افراد بنگلہ دیش میں داخل ہونے کیلئے آرہے تھے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش کی سرحدی فوج نے کہا ہے کہ میانمار کی جانب سے سرحدی علاقے میں بارودی سرنگ پھٹنے سے 3روہنگیا مسلمان جاں بحق ہوگئے ،یہ افراد بنگلہ دیش میں داخل ہونے کیلئے آرہے تھے۔گزشتہ دنوں انسانی حقوق کیعالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اطلاع دی تھی کہ میانمار فوج نے بنگلہ دیش سے ملحقہ سرحد پر باردوی سرنگیں بچھائی ہیں جن کا مقصد روہینگیا مسلمانوں کی واپسی کو روکنا ہے-دوسری طرف بنگلہ حکومت نے کہا ہے کہ وہ روہینگیا مسلمانوں کے لیے 2500ایکٹر کی زمین مختص کر رہا ہے جہاں وہ رہائش اختیار کر سکیں-اس سے پیشتر صدر ایردوان نے بنگلہ دیش سے درخواست کی تھی کہ اگر وہ زمین مختص کرے تو ترکی، روہینگیا مسلمانوں کے لیے جدید کیمپس کی تعمیر کرے گا جیسا کہ مقامی طور پر شامی مہاجرین کے لیے بنائے گئے ہیں-دوسیر جانب بھارت نے روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت والی ریاست رخائن کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میانمار سے اپیل کی ہے کہ حالات سے تحمل اور سمجھداری کے ساتھ نمٹا جانا چاہیے، سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ شہری آبادی کی فلاح و بہبود پر بھی توجہ مرکوز کی جائے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے میانمار کے اپنے حالیہ دورے میں سیکیورٹی فورسز اور بے قصور شہریوں کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کی تھی۔بیان کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست میں تشدد کا خاتمہ ہو اور معمول کی صورت حال تیزی سے واپس آئے۔وزیر اعظم نے اپیل کی ہے کہ امن کے احترام، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، انصافاور وقار اور جمہوری اقدار کی بنیاد پر مسئلے کو حل کیا جائے۔وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم کے دورے میں اس پر اتفاق ہوا ہے کہ بھارت میانمار کی حکومت کے اشتراک سے رخائن میں جاری ترقیاتی پروگراموں میں مدد فراہم کرے گا۔یاد رہے کہ بھارت میں 40 ہزار روہنگیا مسلمان پناہ گزیں ہیں جن میں سے 16500 کے پاس اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پناہ گزیں کی جانب سے کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔بھارت نےاعلان کیا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجے گا۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف دو پناہ گزینوں نے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی ہے جس پر عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بارے میں اپنا موقف واضح کرے۔ اگلی سماعت 11 ستمبر کو ہوگی۔اس سے قبل نئی دہلی میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر سید معظم علی نے بھارت کے سکریٹری خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی اور روہنگیا مسلمانوںکے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق انھوں نے مسلمانوں کے ترک وطن کرکے بنگلہ دیش آنے سے اس پر پڑنے والے مالی بوجھ کے تناظر میں بنگلہ دیش کی پوزیشن واضح کی۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری اس معاملے میں مداخلت کرے اور روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے تشدد اور ان کے انخلاکو بند کرائے۔ انھوں نے بھارت پر بھی زور دیا کہ وہ اس بارے میں میانمار پر دبا ڈالے۔ بھارت کی جانب سے یہ بیان اس کے بعد ہی جاری ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں