ابو ظہبی(این این آئی)متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے باور کرایا ہے کہ قطر ریاض اور ابوظبی کے بیچ دراڑ ڈالنے میں ناکام رہا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی سلسلہ وار ٹوئیٹس میں انہوں نے دوحہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مشق سے رْک جائے۔ قرقاش نے قطر پر زور دیا کہ سعودی عرب کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے شفافیت بہترین طریقہ ہے۔انور قرقاش کے مطابق قطریمیڈیا ایک مرتبہ پھر سعودی اماراتی محاذ کے خلاف کام کرنے پر لوٹ آیا ہے جو کہ انتہائی افسوس ناک ہے کیوں کہ وہ
اس کوشش میں ہر گز کامیاب نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ بوکھلائے ہوئے برادر ملک قطر پر لازم ہے کہ وہ اس بات کو سمجھے کہ یہ بحران مصنوعی نہیں ہے بلکہ دوحہ کی جانب سے شدت پسندی کی سپورٹ اور پڑوسی ممالک کے استحکام کے خلاف سازش کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک حقیقی سیاسی بحران ہے اور اس سے میڈیا کے ذریعے نہیں نمٹا جا سکتا۔قرقاش نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ ہم نے گزشتہ روز جو کچھ دیکھا وہ امید افزا تھا مگر افسوس کہ حکمت و دانش نہ ہونے کے سبب موقع ضایع ہو گیا اور قطر آج پہلے سے زیادہ دشوار پوزیشن میں ہے۔دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچ گئے۔ وہ اپنے دورے میں خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے جس میں شام اور قطر کے بحرانات سرِفہرست ہیں۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اور دیگر ذمے داران نے شاہ عبدالعزیز ہوائی اڈے پر لاؤروف کا استقبال کیا۔ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روسی سرکاری ذرائع نے اعلان کیا تھا کہ سرگئی لاؤروف 9 سے 11 ستمبر کے دوران سعودی عرب اور اردن کا دورہ کریں گے۔ دورے کا مقصد دو طرفہ تعاون ، خلیجی بحران ، شام کی صورت حال کے ساتھ ساتھ یمن ، عراق ، لیبیااور مسئلہ فلسطین کو زیر بحث لانا ہے۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخاروفا نے بتایا کہ روسی وزیر خارجہ جدہ میں سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور اپنے سعودی ہم منصب عادل الجبیر سے ملاقات کریں گے۔ بعد ازاں وہ شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کے لیے اردن روانہ ہو جائیں گے۔سرگئی لاؤروف خطے میں ایسے وقت پہنچے ہیں جب سعودی عرب نے ہفتے کے روز قطر کی جانب سے دوٹوک موقف کا اعلان کیے جانے دوحہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں