اسلام آباد( آن لائن) سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نا اہلی میں فوج کا کوئی کردار نہیں،فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں ہے ، سپریم کورٹ اور فوج سے محاذ آرائی کا راستہ غلط ہے، مریم نواز اور بے نظیر بھٹو کے درمیان موازنہ درست نہیں کیوں کہ دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے،بچے بچے ہوتے ہیں اور وہ غیرسیاسی ہوتے ہیں اس لیے انہیں لیڈر کیسے مانا جاسکتا ہے۔وزیرخارجہ خواجہ آصف کے اس بیان پر کہ پاکستان کی اپنی حرکتیں ایسی ہیں کہ اسے پہلے اپنے
گھر کو ٹھیک کرنا چاہئے چوہدری نثار نے کہا کہ مجھے اس سے شدید اختلاف ہے اس پر میں بہت کچھ کہہ سکتا ہوں ، ایسے وزیرخارجہ کے ہوتے ہوئے ہمیں دشمن کی کیا ضرورت ہے؟ہفتے کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ اور فوج سے محاذ آرائی کا راستہ غلط ہے، محاذ آرائی سے ہم اپنی پوزیشن بہتر نہیں بلکہ کمزور کریں گے،بچے بچے ہوتے ہیں اور وہ غیرسیاسی ہوتے ہیں اس لیے انہیں لیڈر کیسے مانا جاسکتا ہے،مریم نواز اور بے نظیر بھٹو کے درمیان موازنہ درست نہیں کیوں کہ دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔چوہدری نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ سے محاذ آرائی سے کوئی سیاسی مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے جب کہ محاذ آرائی کا مشورہ دینے والے لوگ پارٹی میں اقلیت میں ہیں۔سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں نہ فوج کا نواز شریف کی رخصتی میں کوئی کردار ہے۔گزشتہ روز انٹرویو کے نشر کیے گئے کچھ حصے میں چوہدری نثار نے مریم نواز سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے کہا کہا کا کہنا مریم نواز اور بے نظیر بھٹو کے درمیان موازنہ درست نہیں کیوں کہ دومیں حصہ لیں اور انہیں سیاست میں نوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے، بچے بچے ہوتے ہیں اور وہ غیرسیاسی ہوتے ہیں اس لیے انہیں لیڈر کیسے مانا جاسکتا ہے۔سابق وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ مریم نواز کو لیڈر بننا ہے تو پہلے عملی سیاست حصہ لے کر خود کو ثابت کرنا ہوگا۔سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے اختلافات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ تین چار سال میں نواز شریف سے اختلافات آئے،محسوس کیامجھے جان بوجھ کر مشاورت سے الگ رکھا جا رہا ہے،2013 کے بعد نواز شریف کے چہرے پر متعدد بار ناراضگی دیکھی،فوج کا پانامہ معاملے سے تعلق نہیں ہے نا ہی فوج نے کوئی کردار ادا کیا،سپریم کورٹ سے محاذآرائی کر کے کوئی سیاسی مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے ،ابھی وقت ہے کہ محاذ آرائی کو ترک کر کے ملک کو بین الاقوامی خطرات سے بچایا جا سکے ،میری رائے ہے کہ ابھی پانی سر کے قریب ہے،میرے مخالفین کہتے ہیں میں مغرورہوں لیکن میں مغرور نہیں ہوں بلکہ محدود رہتا ہوں ،زیادہ سوشل نہیں ہوں ، دشمنیوں اور دوستیوں کو بہت لمبا نبھاتا ہوں،خاندانی پس منظر فوجی ہونے پر فخرہے،جنرل اسلم بیگ سے آج بھی اچھے تعلقات ہیں ۔ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ مجھے فخر ہے میرا خاندان اور مکمل بیک گراؤنڈ فوجی ہے اسی وجہ سے میری سیاست میں اسکی جھلک موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ انا پرست نہیں ہوں بس تھوڑا ریزرو ضرور کہہ سکتے ہیں ، 1985سے میرے حلقے کے عوام مجھ پر اعتماد کرتے آئے ہیں ، نظم وضبط ، اوقات کی پابندی اور وطن سے محبت میں نے فوج سے سیکھی ، زیادہ سوشل نہیں اسلئے مخالفین مجھے مغرور کہتے ہیں مگر میں مغرور نہیں ہوں۔چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ 1985سے لیکر 2013تک نوازشریف کو میری کوئی تنقید گوار نہیں گزری لیکن گزشتہ چار سالوں میں ناگوار گزرنے لگی لگی ، اس دور میں ہمارے درمیان اختلافات آئے میں وفاداری سچ بات کہنے کو سمجھتا ہوں ، دوستی اور دشمنی بھی نبھاتا ہوں۔سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ مجھے جان بوجھ کر اہم مشاورت سے دوررکھانے لگا، زیادہ اختلافات پچھلے ادوار میں پالیسی کی وجہ سے آئے اس کا ذکر کابینہ اجلاس میں کیا اور بہت سی چیزوں کا پوسٹ مارٹم کیا ،نوازشریف سے اختلافات کا ذکر میں نے کبھی نہیں کیا۔نوازشریف کے قریب ہونے کے ذریعے یہ کوشش کی ہے کہ حالات کو مینج کیا جائے ،لیکن جو راستہ چند لوگوں نے اپنایا ہے وہ غلط ہے ۔انہوں نے کہا کہ فوج کا نوازشریف کو ہٹانے میں کوئی کردار نہیں ہے ، ابھی بھی وقت ہے کہ محاذ آرائی کو ترک کر کے ملک ک خطرات سے بچایا جائے ، فوج سے محاذآرائی ترک کرنا مسلم لیگ (ن) سے زیادہ نوازشریف کے مفاد میں ہے ، پانی سر تک پہنچ چکا ہے۔سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہاہے کہ جنرل بیگ سے اچھے تعلقات تھے اور ہیں مگر حکومت کی خاطر ایک بیان دیا جس کے بعد میرے تعلقات خراب ہو گئے، وہی لوگ تنقید کرتے ہیں کہ میں فوج کا آدمی ہوں جن کے پاس تنقید کرنے کیلئے کچھ اور نہیں۔انہوں نے بتایا کہ میں نے کبھی کسی سے لائن نہیں لی۔ا یک سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ پرویز مشرف نے مارشل لاء لگایا تو مجھے صرف دو سال تک نظر بند رکھا گیا ،میری نظر بندی کے دوران پرویز مشر ف نے مجھ سے ملاقات کیلئے فون کیا جس سے میں نے معذرت کر لی۔ مشرف نے میرے حلقے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تاکہ میں الیکشن نہ جیت سکوں ۔ ایان علی کیس سے متعلق سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ ایان علی کا کیس وزارت داخلہ کے پاس نہیں بلکہ وزارت خزانہ کے پاس تھا ۔وزارت خزانہ کے کہنے پر ایان علی کا نام ای سی ایل میں ڈالا اور نکالا جاتا رہا تھا از خود وزارت داخلہ نے ایان علی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا اسی طرح ڈاکٹر عاصم کیس میں میرا یا میری وزارت کا کوئی کردار نہیں تھا ۔ ڈاکٹر عاصم کا کیس رینجرز کے پاس تھا ۔ انہوں نے کہا کہ حکیم اللہ محسود سے مذاکرات میں فوج اور امریکہ سمیت دیگر دوست ممالک کو اعتماد میں لیا گیا تھا تاکہ ہم پر کوئی قدغن نہ آئے ۔ڈان لیکس کے متعلق سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ ڈان لیکس پر پرویز رشید کو ہٹانے میں میرا کوئی کردار نہیں ہے ۔ ڈان لیکس پرحکومت کے حق میں صرف میں بولا۔ ڈان لیکس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آرمی نے دی اور وزیر اعظم سیکریٹریٹ کے تحت آئی بی نے تصدیق کی ۔ فوج اور وزیر اعظم کی خواہش تھی کہ ڈان لیکس کی انکوائری میں اور اسحاق ڈار کریں مگر اسحاق ڈار نے ڈان لیکس کی انکوائری میں شامل ہونے سے معذوری ظاہر کر دی اور وہ شامل نہیں ہوئی ۔انھوں نے کہاکہ کسی نے نواز شریف سے کابینہ میں ہونیوالی باتیں لیک کر دیں، کابینہ میں ہونیوالی باتیں جس نے لیک کی اس نے اپنے انداز میں کی میں نے کچھ اور باتیں بھی کی تھیں، میری کی ہوئی تمام باتیں اگر لیک ہو جاتی تو شاید میری پرسنلٹی بلڈنگ ہوتی۔ اپنی سیاسی اور عام زندگی اسلام کی روش پر چلانے کی کوشش کی ہے۔چوہدیری نثار نے کہاکہ میں تنہائی پسند ہوں، شادیوں میں نہیں جاتا، میں نے ڈسپلن اور وقت کی پابندی فوج سے سیکھا، فوجی ماحول میں پلنے بڑھنے سے اثر تو ہوتا ہے، میں کنٹونمنٹ بورڈ کے ماحول میں پلا بڑھا، میرا خاندان چار پشتوں سے فوج میں ہے، میرے والد پاک فوج میں اعلی عہدے پر تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں