لاہور(این این آئی)قذافی اسٹیڈیم کی درخشاں سے دہشتگرد حملے تک ایک تاریخ ہے ،لیبیا کے رہنما کے نام پر قائم قذافی اسٹیڈیم ورلڈ کپ فائنل اور دہشتگرد حملے دونوں کا شاہد ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ پاکستان کے جوہری عزائم اور عالمی جغرافیائی محاذ آرائی اور سیاسی دشمنیوں میں الجھ کر رہ گیا ۔یہ میدان پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کے سب سے بدترین سانحے کا مرکز تھا جب 2009 میں اسٹیڈیم کے قریب دہشتگردوں نے سری لنکن ٹیم کی بس پر حملہ کردیا تھا اور ٹیم کو بذریعہ ہوائی جہاز بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔اس حملے میں 8افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوئے تھے جس کے بعد پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے دروازے بھی بند ہو گئے تھے اور پاکستان کو اس وقت سے اب تک اپنی تمام سیریز نیوٹرل مقام پر کھیلنے پڑیں۔27ہزار گنجائش کے حامل اس اسٹیڈیم نے ان بدترین حالات کے باوجود 1996 میں ورلڈ کپ فائنل کی میزبانی جیسے سب سے بہترین موقع کے بعد کئی یادگار لمحات کو اپنی یادوں میں محفوظ کیا۔دہشتگرد حملے کے بعد 2015 میں جب زمبابوے جیسی کمزور ٹیم پاکستان آنے والی پہلی انٹرنیشنل ٹیم بنی تو اس وقت جذبات عروج پر تھے اور سبز ستارہ سینے پر سجائے پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنے شائقین کے سامنے کھیلنے کا موقع ملا لیکن ڈرامائی انداز میں سکیورٹی صورتحال میں نمایاں بہتری کے باوجود پاکستان ٹیسٹ ٹیموں کو ملک میں آمد کیلئے آمادہ نہ کر سکا۔مذکورہ گراؤنڈ جب 1959 میں بنایا گیا تو اسے لاہور اسٹیڈیم کا نام دیا گیا لیکن 1974 میں نیوکلیئر بم پر پاکستان کی بھرپور حمایت کرنے پر اس گراؤنڈ کا نام لیبیا کے آمر معمر قذافی کے نام پر رکھ دیا گیا۔2011 میں قذافی کے مارے جانے کے بعد ایک بحث شروع ہوئی کہ کیا واقعی پاکستان اپنے سب سے عظیم تر کھیل کو ایک ایسے شخص کے نام سے منسوب کرے گا جہاں ایک اخباری کالم کے مطابق وہ وہ سب سے ’’خونخوار عرب آمر‘ ‘تھے۔چھ سال گزرنے کے باوجود یہ نام اور پاکستان کرکٹ کی مشکلات بھی برقرار ہیں۔پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی نے پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم کے بانی مرحوم عبدالستار ایدھی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ان کے نام پر اسٹیڈیم کا نام رکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔ذرائع کے مطابق اسٹیڈیم کا نام عبدالستار ایدھی سے منسوب کرنے پر سنجیدگی سے غور جاری ہے لیکن ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں