اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے16روسی اور چینی کمپنیوں اور شہریوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، واشنگٹن میں وزارت خزانہ کے مطابق یہ کمپنیاں شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل منصوبوں میں براہ راست تعاون فراہم کر رہی تھیں۔ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات کسی بھی طرح قابل قبول نہیں کہ چین اور روس کا کوئی بھی کاروباری ادارہ یا کوئی بھی فرد نجی سطح پر کم یونگ ان کی مدد کرےتاکہ وہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنا یا خرید سکیں، ان پابندیوں کے بعد امریکا میں ان کمپنیوں کے
اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ بہت جلد مذاکرات ہو سکتے ہیں، امریکی وزیر خارجہ کا بیان امریکا کی طرف سے شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیوں کے اعلان پر شمالی کوریا کے تحمل پر مبنی رد عمل کے بعد سامنے آیا ہے، دوسری طرف شمالی کوریا کے رہنما کم یونگ آن نے مزید میزائل تیار کرنے کا حکم دے دیا ہے، جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق کم یونگ آن نے ’’ٹھوس ایندھن والے‘‘ مزید راکٹ انجن اور راکٹ وار ہیڈ بنانے کا حکم دے دیا ہے، امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد شمالی کوریا نے کوئی نیا میزائل تجربہ نہیں کیا اور یہ بات اہمیت کی حامل ہے، انھوں نے کہا کہ امریکا شمالی کوریا سے اس سمت میں مزید پیش رفت کی توقع رکھتا ہے۔ دریں اثنا شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات کے بعد جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے ساحل سے چند میل کے فاصلے پر فوجی دفاعی مشقیں شروع کردیں۔ کسی بھی وقت بڑی جنگ کا آغاز ہوسکتاہے،میڈیارپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے جنوبی کوریا نے فوجی مشقیں شروع کردی ہیں ۔ یہ مشقیں شمالی کوریا سے ملحقہ سرحدی جزیرے بین جن یونگ میں کی جارہی ہیں جس میں چھ بریگیڈزحصہ لے رہی ہیں۔دفاعی فوجی مشقوں میں اے ایچ ون ایس ہیلی کاپٹرزاورٹینک استعمال کیے جارہے ہیں ۔ادھرایک ٹوئیٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ شمالی کوریا کا رویہ بہت بْرا ہے اسے روکناہوگا،انہوں نے کہاکہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں