اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پانامہ کیس کا فیصلہ آنے سے پہلے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے تین بار فوج سے رابطہ کیا،رابطہ جی ایچ کیو اور آبپارہ دونوں جگہوں پر کیا گیا۔ وفاقی وزرا بھی رابطہ کیلئے گئے اور کہا کہ ہم ججز کو مینج کرلیں گے بس آپ ایک طرف رہیں۔ وہاں سے صاف جواب دیا گیا کہ ہم کسی اس معاملے سے الگ ہیں اور صرف آئین و قانون کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نواز شریف نے اس جواب کے بعد ایک بار پھر 12 اکتوبر والا قدم اٹھانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔بڑے آئینی عہدے پر بیٹھی غیرسیاسی شخصیت کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ نواز شریف چاہتے تھے کہ ملک میں بحران کھڑا ہوجائے جس کے باعث جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جائے اور انہیں سیاسی شہادت مل جائے۔ جی ٹی روڈ ریلی بھی اس پروگرام کے تحت نکالی گئی تھی ، پروگرام تھا کہ جب بہت بڑی تعداد میں لوگ نکل آئیں گے تو ریلی کو موڑ کر واپس اسلام آباد جاکر وزیراعظم ہاﺅس پر زبردستی قبضہ کرلیا جائے گا تاہم ریلی کی ناکامی کے باعث سارا پروگرام چوپٹ ہوگیا۔نواز شریف پاکستان واپس نہیں آئیں گے بلکہ لندن سے امریکہ چلے جائیں گے۔ امریکہ جانے کا وہ وقت تعین کیا جائے گا جب یو این جنرل اسمبلی اجلاس ہوگا اور وزیراعظم شاہد خاقان وہاں ہوں گے۔ امریکہ میں لابنگ فرم کی مدد سے عالمی لیڈروں سے نواز شریف کی ملاقاتیں کرائی جائیں گی یہ سارا پلان لندن میں بن رہا ہے۔ شہباز شریف لندن نواز شریف کو سمجھانے گئے ہیں۔ شہباز اور نثار اب ایک پیج پر نہیں ہیں۔ چودھری نثار نے ایک انٹرویو م یں عمران خان کی تعریف کی ہے۔یہ انکشاف سینئر صحافی و تجزیہ کار نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کئے۔واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف اس وقت لندن میں اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی تیمارداری کیلئے موجود ہیں اور ان کی آج یا کل پاکستان واپسی کی خبریں زیر گردش ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں