دوحہ(این این آئی)قطر نے امریکی ریاست ٹیکساس میں آنے والے طوفان ہاروے کے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے 3 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ ہاروے متاثرین کو دی جانے والی سب سے بڑی غیر ملکی امداد ہے۔خیال رہے کہ قطر سے قبل متحدہ عرب امارات نے ہاروے متاثرین کی امداد کے لیے ایک کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا، جو حالیہ عرب تنازع میں قطر کا حریف ملک ہے۔یاد رہے کہ دونوں عرب ریاستوں نے ہاروے کے متاترین کی امداد کا اعلان ایسے موقع پر کیا ہے جب
کویت کے رہنما قطر تنازع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام سے بات چیت کے لیے واشنگٹن میں موجود ہیں۔امریکا میں قطر کے سفیر مشعال بن حماد الثانی نے ’قطر ہاروے فنڈ‘ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکساس گورنر گریگ ایبٹ، مقامی آرگنائزیشنز اور دیگر ٹیکساس حکام، جن میں ہوسٹن کے میئر بھی شامل ہیں، کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔مذکورہ فنڈ طوفان سے متاثرہ ’کمیونیٹیز کی بحالی‘ کے لیے استعمال ہوں گے۔قطر کے سفیر نے جاری بیان میں کہا کہ’ٹیکساس کے لوگ کسی بھی طوفان سے طاقت ور ہیں اور بڑے اور بہتر طریقے سے واپس آئیں گے، اور قطر ہر موقع پر اپنے دوستوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔انہوں نے گیس سے مالا مال ملک کے ٹیکساس سے تعلقات پر زور دیا، جس میں ہوسٹن میں قائم سفارت خانہ بھی شامل ہے۔قطر کے مذکورہ اعلان پر گورنر ایبٹ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے طوفان سے متاثرہ ٹیکساس کے لوگوں کی امداد کے اعلان پر وہ حیران اور شکر گزار ہیں۔واضح رہے کہ قطر اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی ٹیکساس کے لیے امداد کا اعلان کیا تاہم اس کی مقدار کم ہے۔دریں اثنا میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ بند نہ ہوسکا۔ جانیں بچا کر بنگلا دیش پہنچنے والے لٹے پٹے متاثرین کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کرگئی۔ترک صدر رجب طیب اردوان کی اہلیہ اور بیٹا بنگلا دیش میں روہنگیا متاثرین کے کیمپ پہنچے اور ان سے اظہار یکجہتی کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق میانمار کے صوبے رکھائن میں انسانی تاریخ کے عظیم المیے نے جنم لیا جب میانمار کی فوج اور بدھ انتہا پسندایک بار پھر روہنگیا مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔25 اگست سے متحارب گروپوں کے خلاف کریک ڈاو?ن کے نام پراب تک 400 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا جاچکاہے۔جان بچانے کے لیے روہنگیا مسلمان بڑی تعداد میں بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں جن کی تعداد ایک لاکھ 60ہزار ہوگئی ہے۔ترکی کی خاتون اول ایمن اردوان اوران کے بیٹے بلال اردوان نے بنگلا دیش کے شہر یوکھیا میں قائم روہنگیا مسلمانوں کے کیمپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے میانمار حکومت سے مطالبہ کیا کہ پرتشدد واقعات بند کرائے جائیں ۔بنگلا دیش کا چٹا گانگ اسپتال ،زخموں سے چور روہنگیا مسلمانوں سے بھر گیا ہے۔اسپتال انتظامیہ کا کہناتھا کہ بیشتر افراد گولیاں لگنے اور بم دھماکے کے باعث زخمی ہوئے ہیں۔دوسری جانب بھارت میں مقیم روہنگیا مہاجرین نے واپس میانمار بھیجنے کے بھارتی منصوبے پرشدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت انہیں میانمار بھیجنے کے بجائے یہیں قتل کردے۔علاوہ ازیں او آئی سی نے روہنگیامسلمانوں پر مظالم کی مذمت کرتیہوئے میانمارحکومت سے بے قصور روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کی ہر طرح کی خلاف ورزیاں ختم کرانے کے لئے فوری اور موثر اقدام کا مطالبہ کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم نے روہنگیا مسلمانوں کیخلاف غیر معمولی طاقت کے استعمال پر بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے جاری اعلامیہ میں کہا کہ روہنگیا اقلیت کیخلاف میانمار میں ریاستی طاقت کے بیجا تشدد کی نئی لہر پر تشویش ہے۔میانمار کی حکومت اپنے ملک میں آباد بے قصور روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کی ہر طرح کی خلاف ورزیاں ختم کرانے کے لئے فوری اور موثر اقدام کرے۔او آئی سی نے اقوام متحدہ کے دیگر ادارو ںکی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہا کہ اراکان صوبے سے متعلق بین الاقوامی مشاورتی کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں