اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نیب ریفرنس پر اسحاق ڈار کو استعفیٰ دے دینا چاہیے ، اسحاق ڈار پاکستانی معیشت کے ہٹ مین ہیں ،معیشت کے ساتھ ظلم کیا گیا جو کوئی دشمن بھی نہیں کرتا، اسحاق ڈار بار بار کہتے رہے کہ ٹیکس ریونیو بڑھا دیا ہے، بجلی ، گیس پر ٹیکس بڑھانے کی وجہ سے ٹیکس ریونیو بڑھا ہے ، اشیائے ضروریہ پر ٹیکس بڑھا کر انہوں نے ٹیکس ریو نیو بڑھا یاہے ،آصف زرداری کے دور سے کم سرمایہ کاری اس دور حکومت میں آئی ، سی پیک کے باوجود ملک میں کم سرمایہ کاری ہوئی،نوازشریف نے کیسی ترقی کرائی کہ ملک کو مقروض کردیا ، نوازشریف بار بار کہتے تھے ہم زبردست معیشت چھوڑ کر گئے ، قرضے چڑھا کر انہوں نے بڑے بڑے پروجیکٹس بنائے،سی پیک سے فائدہ اٹھانے کیلئے نظام کو ٹھیک کرنا ہوگا ، سرمایہ کاری نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے ، ہر شعبے میں نوازشریف حکومت کی کارکردگی بری رہی۔
جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں معیشت کا اتنا برا حال نہیں ہوا جتنا آج ہے ، آج کی پریس کانفرنس حکومت کی کارکردگی سے متعلق ہے ، پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنا قرضہ نہیں لیا گیا ، حکمرانوں نے ملک کی معیشت کے ساتھ بہت ظلم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب ریفرنس پر اسحاق ڈار کو استعفیٰ دے دینا چاہیے ، معیشت کے ساتھ ظلم کیا گیا جو کوئی دشمن بھی نہیں کرتا، یہ بیرون ملک دورے اس لئے کرتے تھے کہ بیرونی سرمایہ کاری آئے ، اسحاق ڈار بار بار کہتے رہے کہ ٹیکس ریونیو بڑھادیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ بجلی ، گیس پر ٹیکس بڑھانے کی وجہ سے ٹیکس ریونیو بڑھا ہے ، اشیائے ضروریہ پر ٹیکس بڑھا کر انہوں نے ٹیکس ریو نیو بڑھا یاہے ، آصف زرداری کے دور سے کم سرمایہ کاری اس دور حکومت میں آئی ، سی پیک کے باوجود ملک میں کم سرمایہ کاری ہوئی ، پیپلزپارٹی نے 480ارب روپے کے گردشی قرضے چھوڑے تھے ، تیل کی قیمت کم ہونے کے باوجود گردشی قرضے کیسے بڑھ گئے۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا سابق چیئرمین ہر مہینے کروڑ روپے دبئی بجھواتا تھا ، اسحاق ڈار پاکستان اکانومی کے ہٹ مین ہیں ، نوازشریف نے کیسی ترقی کرائی کہ ملک کو مقروض کردیا ، نوازشریف بار بار کہتے تھے ہم زبردست معیشت چھوڑ کر گئے ، قرضے چڑھا کر انہوں نے بڑے بڑے پروجیکٹس بنائے۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں سے ملک میں غربت بڑھ رہی ہے ، سی پیک سے فائدہ اٹھانے کے لئے اپنا ملک اور گورننس تو ٹھیک کرو، سی پیک سے فائدہ اٹھانے کیلئے نظام کو ٹھیک کرنا ہوگا ، سرمایہ کاری نہ آنے کی سب سیبڑی وجہ کرپشن ہے ، ان ڈائریکٹ ٹیکسز سے ریونیو بڑھا ہے۔
انہوں نے کہ اکہ بنگلہ دیش اور بھارت کی ایکسپورٹ بڑھتی جا رہی ہے ، اتنی کم سرمایہ کاری پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں آئی ، ہر شعبے میں نوازشریف حکومت کی کارکردگی بری رہی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے کہا کہ پانچ سال میں جتنی برآمدات گریں ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ، تین نئے ٹیکس بجلی اور تین گیس پر لگائے گئے ، حکومت نے پاکستان کے صنعت کاروں کی زندگی مشکل بنادی ، بنگلہ دیش 35ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کررہا ہے ، ہم مشکل سے 21ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ میں سب سے زیادہ ہے ، قرضے بڑھ رہے ہیں اور برآمدات کم ہوتی جا رہی ہیں ، زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں ، ہم کشکول اٹھا کر واپس عالمی اداروں کے پاس جا رہے ہیں ، نیلم ،جہلم کا منصوب ان کی کرپشن کی وجہ سے مکمل نہیں ہورہا ،حکومتی پالیسیاں معیشت ہی نہیں قومی سلامتی کیلئے بھی خطرہ ہیں ، پورے خطے میں سب سے مہنگی گیس پاکستان کو مل رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں