اسلام آباد(این این آئی) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان ایک خود دار قوم ہے ٗ اسے قربانی کا بکرا نہیں بننے دیں گے ٗ اپنے ملک کی سرزمین کے ایک ایک انچ کی حفاظت کریں گے ٗپاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات ختم نہیں ہوئے ٗدونوں ممالک کے روابط کو ملکی مفادات کی نظر سے دیکھا جائیگا ٗ خطے میں بدلتے حالات کے تحت ہی پاکستان کو نئی سِمت کا تعین کرنا ہوگا ٗپاکستان واحد ملک ہے جو دہشتگردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے ٗ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ہم نےکھویا ہی ہے پایا کچھ نہیں ٗسابق سفیر عبد الباسط کا اب کسی ریاستی ادارے سے تعلق نہیں ٗکشمیر کا معاملہ بھی عالمی برادری کے سامنے رکھا جائیگا ٗ اسے ہر فورم پر اجاگر کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جمعرات کو تین روز سے اسلام آباد میں جاری پاکستانی سفیروں کی کانفرنس ختم ہوگئی ہے ٗوزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے آخری سیشن کی صدارت کی۔وزیراعظم کو سفیروں کی جانب سے تیار کردہ سفارشات پیش کی گئیں ۔پاکستانی سفیروں کی تین روزہ کانفرنس کے اختتامی سیشن کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات ختم نہیں ہوئے لیکن دونوں ملکوں کے روابط کو ملکی مفادات کی نظر سے دیکھا جائے گا جبکہ اب امریکا پر پاکستان کا انحصار کم ہوگیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، امریکا سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات کو باہمی احترام پر مبنی دیکھنا چاہتا ہے۔خواجہ آصف نے کہاکہ خطے میں بدلتے حالات کے تحت ہی پاکستان کو نئی سِمت کا تعین کرنا ہوگا ۔وزیر خارجہ نے کہاکہ پاکستان باہمی احترام کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ادراک کرنے والے ممالک کے ساتھ آگے بڑھے گا۔وزیر خارجہ نے کہاکہ خطے میں بہت تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور ہمیں بھی پاکستان کیلئے دنیا کے رویے کو تبدیل کرنا ہوگا۔عالمی دہشت گردی کا تذکرہ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ صرف پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہےاس کے علاوہ دنیا کے کسی بھی ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کی۔وزیر خارجہ نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ہم نے کھویا ہی ہے پایا کچھ نہیں ٗاب ہمیں بھی نئی اور درست سمت کا تعین کرنا ہوگا۔وزیر خارجہ نے بتایا کہ سفرا ء کانفرنس میں امریکا کی نئی پالیسی پر غور کیا گیا ہے ٗ امریکا میں پاکستانی سفیر اعزاز چودھری نے پالیسی کے مختلف زاویوں کو واضح کیا ٗکانفرنس میں امریکا کی نئی پالیسی پر غور کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی افغانستان پاکستان پالیسی کے بعد خارجہ پالیسی کی فارمولیشن ضروری تھی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں محتاط طریقے سے کہوں گا کہ ہم نئی پیرا ڈایم لائیں گے ٗوزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی نئی پیرا ڈایم پر زور دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں شدت سے احساس ہے کہ دنیا ہماری قربانیوں کو دوسرے انداز میں دیکھتی ہے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ایک ماہ میں اندازہ ہوگیا ہے ٗپاکستان کی خارجہ پالیسی بحران کا شکار ہے تاہم افسران نے اس پر قابو پایا۔انہوں نے کہا کہ دنیا بے شک نہ مانے لیکن پاکستان میں امن ہے،کراچی میں امن ہے ٗسوات میں امن ہے ٗ ہماری مسجدیں گھر گلیاں محفوظ ہیں ٗایک دو واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں ٗ میں یہ نہیں کہتا کہ حالات مکمل طور پر بہتر ہیں لیکن بہت بہتر ہیں۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ہماری بقا ء داؤ پر لگی ہے اسلئے ہم سے بہتر یہ جنگ کوئی لڑ ہی نہیں سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ سابق سفیر عبد الباسط کا اب کسی ریاستی ادارے سے تعلق نہیں، ان کی ذاتی شکایات ہیں لیکن انکا طریقہ کار درست نہیں ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر چین اور ایران جانے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے ایک دو ممالک میں جانے کا ارادہ ہے ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اس کو پوری دنیا کے سامنے پوری شدو مد کے ساتھ رکھا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کا معاملہ بھی عالمی برادری کے سامنے رکھا جائیگا اور اسے ہر فورم پر اٹھایا جائیگا۔وزیر خارجہ نے کہاکہ اسلام آباد میں منعقد کی گئی کانفرنس میں اقوام متحدہ کے کردار سے متعلق بات کی جب کہ دوست اور علاقائی ہمسایہ ممالک خصوصاً افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بھی تفصیلی بات کی گئی اور کشمیر میں جو ہو رہا ہے اسے مدنظر رکھ کر بھارت کے ساتھ تعلقات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔وزیر خارجہ نے کہاکہ برکس اعلامیہ میں چین نے کئی بھارتی تجاویز کی مخالفت کی ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ خواہش ہے ایران اور سعودی کے تعلقات بہتر ہوں ۔ایک سوال پر وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم امریکہ سے بھی امید رکھیں گے کہ ہمارا مفادات کا احترام کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے ۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ان تمام معاملات کو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اور پارلیمنٹ میں لے جائیں گے تاکہ باہمی مشاورت کیساتھ ایک نئی قومی پالیسی تیار کی جاسکے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس خطے کے مسائل اس خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر حل کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں