ایک دفعہ کا زکر ہے ایک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ خدا اس کو کہتا ہے کہ باہر جو پتھر پڑا ہے اس پہ خوب جان لگاؤ۔ آدمی نیند سے بیدار ہوا تو باہر نکلا دیکھا تو واقعی ایک بہت بڑا بھاری پتھر باہر راستے میں پڑا ہوا تھا۔ وہ پتھر کے پاس گیا اور پوری جان لگا دی۔ پتھر تو ٹس سے مس نہ ہوا۔ آدمی بہت پریشان ہوا کیونکہ خدا کی بات تو کبھی بھی رد نہیں کر سکتے۔ اگلے دن صبح اٹھا تو پھر شروع ہو گیا۔ اتنے میں وہاں سے ایک مسافر کا گزر ہوا۔اس نے دیکھا کہ چھوٹا سا آدمی اور اتنے بڑے پتھر پر جان لگا رہا ہے۔’اس نے پوچھا کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ آدمی نے اپنا خواب اور مقصد بتایا۔ مسافر نے کہا کہ تم پاگل ہو کیا تمہیں و کیا تمہیں نظر نہیں آرہا تم کبھی بھی یہ پتھر ہھیں ہلا سکتے۔ مسافر چلا گیا اور یہ آدمی اپنی جگہ مسلسل زور لگاتا رہا۔کچھ ہفتے وہ آدمی روز اسی طرح صبح اٹھتا اور پتھر کے ساتھ زور آوری شروع کر دیتا۔ پھر ایک اور مسافر کا وہیں سے گزر ہوا اور اس نے بھی پوچھا کہ کیا کر رہے ہو۔ آدمی نے بتا یا کہ اس پتھر کو اٹھانا ہے۔دوسرا مسافر ہنستے ہوئے چلا گیا۔ آدمی بہت دل برداشتہ ہوا اور گھر کے اندر جا کر زاروقطار رونے لگا پھر خدا سے دعا کی کہ میری مشکل آسان کر میں یہ پتھر کبھی بھی نہیں اٹھا سکتا۔ خدا نے جواب دیا کہ تمہیں پتھر اٹھانے کو کب بولا تھا بس اتنا بولا تھا کہ اس پتھر پر زور لگاؤ۔ سو تم کامیاب ہوئے۔تم نے تین ہفتے اس پر مسلسل زور آوری کی ہے اور میرا حکم مانا ہے۔ اب اپنا جسم دیکھو کس طرح ایک طاقتور پہلوان جیسا ہو گیاہے۔ پٹھے مضبوط ہو گئے ہیں اور تم اپنے سارے کام مزید بہتر طریقے سے یانجام دے سکتے ہو۔ خدا انسان کو کسی بھی آزمائش میں اس لیے ڈالتا ہے تاکہ وہ انسان کی قوت اور قوت برداشت میں اضافہ کر دے۔ خدا کا کوئی بھی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں