لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق برما میں آباد مسلمانوں کی نسل کشی کیخلاف دنیا بھر کے ممالک سراپا احتجاج ہیں۔ دنیا کی کئی معروف سماجی شخصیات نے اقوام متحدہ سے اس تمام معاملے پر ایکشن لینے اور مسلمانوں کی جان و مال کے تحفض کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔جبکہ یہ بھی مطالبہ کیا جا رہاہے کہ برما کے پڑوسیمملک روہنگیا کے مسلمانوں کو پناہ فراہم کریں۔ اس حوالے سے اب کچھ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ ان اعداد شمار میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت کس ملک میں کتنے روہنگیا مسلمان پناہ گزین موجود ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ پاکستان میں اس وقت 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان آباد ہیں۔ بنگلہ دیش روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ بنگلہ دیش میں اس وقت 5 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان آباد ہیں۔ جبکہ سعودی عرب میں اس وقت 2 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان آباد ہیں۔ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کراچی شہر میں روہنگیا مسلمانوں کی بڑی تعداد آباد ہے، اور ان کی سب سے بڑی آبادی کا نام ’آراکان آباد‘ ہے۔ کراچی کی اس آبادی کا نام میانمر کی موجودہ ریاست رخائن کے قدیم نام پر رکھا گیا ہے، جو ماضی میں رخائن کی بجائے آراکان کہلاتی تھی۔ آرکان آباد کے روہنگیا مسلمانوں کو بھی میانمر کے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا بہت دکھ ہے لیکن ان کے اپنے دکھ بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ پندرہ سے 20 ہزار روہنگیا کی یہ آبادی ان لوگوں پر مشتمل ہے جو میانمر میں ہونے والے مظالم سے تنگ آکر یہاں آ بسے۔ یہاں مقیم ایک روہنگیا مسلمان عبدالرحمن نے بتایا ”آج سے 20 یا 30 سال قبل تک میانمر سے نکل کر پاکستان کی جانب ہجرت کرنا آسان تھا۔ اب حالاتبہت خراب ہوچکے ہیں اور حتیٰ کہ بنگلہ دیش کی جانب جانے والوں کو بھی سرحد پار کرکے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔“میڈیا رپورٹس کے مطابق میانمر میں تشدد کے حالیہ واقعات کے باعث روہنگیا مسلمانوں کی بڑی تعداد نے بنگلہ دیش جانے کی کوشش کی ہے لیکن ان میں سے 30 ہزار اب بھی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ اقوام متحدہ کیریفیوجی ایجنسی کے مطابق گزشتہ 10 دن کے دوران 87 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش جا چکے ہیں۔ کراچی میں روہنگیا مسلمان آراکان آباد کے علاوہ سو کوارٹر، برمی کالونی، مچھر کالونی، موسیٰ کالونی اور علی اکبر شاہ گوٹھ میں بھی آباد ہیں۔ یہ مسلمان خود دکھی ضرور ہیں لیکن بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں بے یار و مددگار پڑے اپنے بھائیوں کیلئے بھی دن رات پریشان رہتے ہیں۔ انہوں نے اس عید کے موقع پر خیراتی اداروں اور عام افراد کی مدد سے اپنے پناہ گزین بھائیوں کے لئے قربانی کے گوشت کا اہتمام کیا جبکہ عطیات کی بڑی مقدار بھی جمع کرکے انہیں بھجوائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں