اسلام آباد: نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی مبشر لقمان نے سلیم صافی سے دریافت کیا کہ کیا افغانستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا سوچا جا رہا ہے؟ عنقریب افغانستان دو ممالک میں تقسیم ہو جائے گا ؟ جس پر سلیم صافی نے کہا کہ میرے خیال میں ایسا ہرگز نہیں ہو گا کیونکہ ماضی میں بھی افغانستان کو تقسیم کرنے کی کوششیں کی جا چکی ہیں اور ایسا نہیں ہوا تھا۔
افغانستان ماضی میں سیاسی تقسیم کا شکار رہا۔ طالبان کابل تک قابض ہو گئے تھے دوسری طرف شمال کے حصے بھی ان کے قبضے میں رہ گئے تھے۔ افغانستان میں قومیت کے ساتھ ساتھ افغان نیشنلزم بھی بہت زیادہ ہے۔ آپ کو ایک طرف نہایت شمال میں میں فارسی بولنے والے اور دوسری طرف پٹھان ملیں گے۔ افغانستان کا سیاسی سیٹ اپ ایسا ہے کہ اگر صدر پشتون ہے تو ان کے ساتھ تاجک ہے اور وائس پریذیڈنگ ازبک ہے۔ جس طرح پاکستان میں انتشار پسندوں کی خواہش رہے گی کہ پاکستان کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا جائے اور ایسا خواب دیکھنا حماقت ہے ایسے ہی افغانستان بھی اب لسانی بنیادوں پر تقسیم نہیں ہو سکتا ۔ سلیم صافی نے مزید کیا کہا آپ بھی ملاحظہ کیجئیے:

اپنا تبصرہ بھیجیں