اسلام آباد(آن لائن) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے دعوی کیا ہے کہ رواں سال 30 دسمبر تک واضح ہو جائے گا کہ عام انتخابات دو ہزار اٹھارہ میں ہوں گے کہ نہیں کیونکہ وہ بہت سی چیزوں کو تبدیل ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں، شریف خاندان کا سیاسی مستقبل ختم ہو رہا ہے۔ نواز شریف کو پتہ نہیں ہے کہ اس نے کس کو وزیر اعظم بنا دیا ہے آنے والے دنوں میں وہ واقعی وزیر اعظم بن کر دکھائے گامگر میں ایل این جی کیس میں پھر بھی اس کے پیچھے ہوں عمران خان کے ہر طرح ساتھ ہوں مگر اپنی پارٹی تحریک انصاف میں ضم کرنے کا نہیں سوچا۔ میرے پاس صرف ایک گولی والا پستول ہے اور میرا نشانہ خطا بھی نہیں گیا۔ خصوصی گفتگو میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تیس دسمبر تک بہت سی چیزیں واضح ہو جائیں گی اور پتہ چل جائے گا کہ عام انتخابات دو ہزار اٹھارہ میں ہوں گے کہ نہیں، انھیں ڈر ہے کہ شریف خاندان کوئی اور بلنڈر نہ کر دے کیونکہ نواز شریف اب بھی کھلی لڑائی کے موڈ میں نظر آ رہے ہیں انہوں نے اب بھی سبق نہیں سیکھا، وہ سمجھتے تھے کہ وہ سب کچھ ہیں مگر دیکھ لیں کہ پاناما سے شروع ہونے والا کیس ایک اقاما پر ختم ہو گیا کیونکہ چیزیں کھلتی چلی گئیں مگر میرا تو معاملہ ہی 62 اور 63 تھا میں نے اپنا سارا کیس اس ایک نقطے پر لڑا اور میں کامیاب ہو گیا اس لئے میں ایک گولی والا پستول رکھتا ہوں مجھے چھ گولیوں کی ضرورت ہی نہیں پڑی اور دیکھ لیں کہ میرا نشانہ خطا نہیں گیا ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاناما کیس کے معاملے پر پیپلز پارٹی عدالت جانے کو تیار ہی نہیں تھی انہوں نے شرط رکھی تھی کہ عمران خان آصف زرداری کو فون کرے مگر میں نے ان کی یہ شرط نہیں مانی اور میں شکر گزار ہوں تحریک انصاف کا کہ انہوں نے میری لاج رکھی اور سپریم کورٹ چلے گئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی قانونی ٹیم نے ہی انھیںمروا دیا جو آخری وقت تک کہتے رہے کہ کچھ نہیں ہو گا ایسے وکلاء کے خلاف تو نواز شریف کو کاروائی کرنی چاہیے مگر آپ دیکھ لیں کہ عدالتی فیصلے کے بعد بھی نواز شریف فوج اور عدلیہ کو للکار رہے ہیں وہ محاذرائی پر تلے ہوئے ہیں اور اس صورت حال میں حالات اچھے نظر نہیں آ رہے معاملات کسی بھی طرف پلٹا کھا سکتے ہیں ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کو میں پرانا جانتا ہوں نواز شریف نے اسے اپنابندہ سمجھ کر وزیر اعظم بنایا ہے مگر دیکھ لینا کہ وہ واقعی وزیر اعظم بنے گا اور نواز شریف کو لگ پتہ جائے گا کیونکہ شاہد خاقان عباسی کی اپنی کارکردگی اب تک اچھی رہی ہے وہ اپنا کام کر رہا ہے اور کسی دوسرے کے کام میں دخل نہیں دے رہا ہاں البتہ میں ایل این جی کیس میں اس کے خلاف الیکشن کمیشن گیا ہوں یہ دو سوارب روپے کا معاملہ ہے اس میں شفافیت نہیں ہے اور میں اسے بھی نا اہل کروانے کے لئے لڑوں گاایک پیٹیشن سپریم کورٹ میں بھی دائر کی ہے اور یہ کیس میں خود لڑوں گا کیونکہ وکیل بہت پیسے مانگتے ہیں جو میرے پاس نہیں ہیں ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی کے حلقہ 55 اور 56 سے انتخابات لڑنے کا فیصلہ تحریک انصاف سے مشاورت سے کیا اور وہ مجھے بھرپور سپورٹ کریں گے اور میں ایک اور حلقے سے بھی الیکشن لڑنے کا سوچ رہا ہوں تاکہ شہباز شریف کو پتہ چل سکے کہ یہ بھی ہو سکتا ہے لہذا وہتیار رہیں کہ میں ان کو سرپرائز بھی دے سکتا ہوں ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسلم لیگ کو تحریک انصاف میں ضم کرنے کے لئے عمران خان نے کئی بار کہا مگر ابھی اس کا فیصلہ نہیںکیا البتہ عمران خان سے دوستی پکی ہے اور ہر موقع پر ان کا ساتھ دوں گا مجھے تو بغیر پوچھے انہوں نے وزیر اعظم نامزد کر دیا اس پر میں ان کا مشکور ہوں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے پوری قوم کو امید ہے وہ غریب بارے سوچتا ہے اور غریب کے مسائل حل کرنا بہت ضروری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں