اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) این اے 120 کے ضمنی انتخابات پر انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کی طرف سے ایک سروے کیا گیا اور اس سروے کے مطابق این اے 120 میں تحریک انصاف کی نسبت مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت 15 فیصد زیادہ ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن مہم کے حوالے سے دونوں جماعتوں میں بہت فرق ہے۔ ضمنی انتخابات میں صرف گیارہ دن باقی ہیں، واضح رہے کہ یہ سروے مسلم لیگ (ن) کی درخواست پر منعقد کیا گیااس سروے میں 2198 لوگوں سے ان کی رائے لی گئی ان افراد میں سے49 فیصد نے کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن)کو ووٹ دیں گے اس کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف کو 34 فیصد افراد نے ووٹ دینے کی حامی بھری۔ اس حلقے میں دو صوبائی حلقے پی پی 139 اور پی پی 140شامل ہیں۔ اس سروے کے دوران پی پی 139 میں 55 فیصد ووٹرز نے مسلم لیگ (ن) اور 29 فیصد نے تحریک انصاف کے ساتھ وابستگی کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ پی پی 140 میں 54 فیصد ووٹرز نے ن لیگ کی حمایت کا اعلان کیا اور 26 فیصد نے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس سروے میں ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ 71 فیصد ووٹرز نے اپنی رائے تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ وہ اسی پارٹی کو ووٹ دیں گے جسے گذشتہ انتخابات میں دیا تھا اس کے علاوہ 27 فیصد نے کہا کہ وہ ووٹ دینے سے پہلے پارٹی پر ازسرنو غور کریں گے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ 1985ء سے این اے 120مسلم لیگ (ن) کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔ اس سروے میں 76 ووٹرز نے حکومتی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور 24 فیصد ووٹرز نے حکومتی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا۔ توانائی بحران کے حوالے سے حکمران جماعت کے انتخابی وعدوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں 68 فیصد ووٹرز نے اعتماد کا اظہار کیااور 32 فیصد ووٹرز نے اس سے اختلاف کیا۔ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کے بارے پوچھے گئے سوال پر 55 فیصد لوگوں نے تسلیم کیا کہ سابق وزیر اعظم کو کرپشن کی وجہ سے نکالا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں صرف 9 فیصد افراد نے نااہلی کی وجہ اقامہ قرار دیا۔ اس سروے میں 36 فیصد مردوں اور 18فیصد خواتین نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دینے کا فیصلہ سنایا اور اس کے مقابلے میں تحریک انصاف کو 19 فیصد مردوں اور 8 فیصد خواتین ووٹرز نے ووٹ دینے کا فیصلہ سنایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں