بیجنگ (آن لائن) چین نے کہا ہے کہ پاکستان بیسڈ دہشتگرد گروپوں کو ان کی پرتشدد سرگرمیوں کے باعث برکس کے مشترکہ اعلامیہ میں شامل کیا گیا ہے۔ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کینگ شوانگ نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک نے جیش محمد اور لشکر طیبہ کی بڑھتی ہوئی پرتشدد سرگرمیوں بارے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ گروپاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں اور افغان ایشو پر گہرے اثر رکھتے ہیں،ا نہوں نے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے تعاون اور اس سلسلہ میں کامیابیاں باعث اطمینان ہیں۔ پانچ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی تنظیم برکس نے پہلی بار اپنے اعلامیے میں علاقائی سیکیورٹی کے خطرات کے حوالے ان عسکری گروپوں کے نام شامل کیے ہیں جن میں سے کئی کے مراکز پاکستان میں ہیں۔بھارت نے اس اعلامیے کا خیر مقدم کیا ہے جسے چین کے شہر شیامین میں ہونے والی کانفرنس میں کیا گیا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ اعلان دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ایک اہم قدم ہے۔برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ اس تنظیم کے رکن ہیں۔چین ماضی میں ہمیشہ پاکستان کی حمایت کرتا رہا ہے۔برکس کے اعلامیے میں فوری طور پر أفغانستان میں تشدد ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔اعلامیے میں طالبان، داعش، القاعدہ اور اس سے منسلک عسکری گروپ جن میں مشرقی ترکمانستان کی اسلامی تحریک، ازبکستان کی اسلامی تحریک، حقانی نیٹ ورک، لشکر طیبہ، جیش محمد، تحریک طالبان پاکستان اور حزب التحریر شامل ہیں، کو خطے کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔لشکر طیبہ پاکستان میں قائم عسکری گروپ ہے جس پر بھارت سرحد پار حملوں کا إلزام لگاتا ہے۔ یہ گروپ 2008 میں ممبئی کے حملوں میں بھی ملوث تھا جس میں166 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔جیش محمد بھی ایک اور بھارت مخالف گروپ ہے جس کے ٹھکانے پاکستان میں ہیں۔ اس گروپ پر 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملوں کا إلزام ہے۔بھارت پاکستان یہ کہتا رہا ہے کہ وہ ان گروپوں کے خلاف کارروائی کرے جب کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہونے والے حملوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ کہ وہ خود دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔برکس اعلامیے پر پاکستانی وزیر دفاعخرم دستگیر خان نے جواب میں پاکستان کا موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ برکس اجلاس کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہیں ،پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں،پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں‘ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پاکستان نے اہم کامیابیاں حاصل کیں ‘ امریکہ افغانستان میں ناکامی سے دوچار ہے‘ چالیس فیصدافغانستان پر آج بھی طالبان کا کنٹرول ہیجبکہ ساٹھ فیصد علاقے پرافغان حکومت کا کنٹرول ہے،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں جہاں امریکہ کے گیارہ ہزار فوجیوں سمیت نیٹو افواج بھی طالبان کے خلاف برسرپیکار ہیں،امریکہ کو اس ضمن میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی تعریف کے ساتھ ساتھ پاکستان سے اس معاملے پر مدد لینی چاہئے،برما معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں جلد پالیسی کا اعلان کریں گے۔ منگل کو میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ برکس اجلاس میں بعض تنظیموں کے حوالے سے جو بات سامنے آئی ہے وہ غلط معلومات کی بناء4 پر اعلامیے کا حصہ بنائی گئی ہیں۔ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور دہشت گردوں کی کمر توڑی ہے۔پوری دنیا کو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کو سراہنا چاہئے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجودہیں۔ امریکہ نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ افغانستان کے ساٹھ فیصد علاقے پر افغان حکومت کا کنٹرول ہے جبکہ سولہ سال گزرنے کے باوجود آج بھی چالیس فیصد افغانستان پر طالبان کا کنٹرول ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔ امریکہ کو اس ضمن میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی تعریف کے ساتھ ساتھ پاکستان سے اس معاملے پر مدد لینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جذباتیت سے نہیں بلکہ ہوش و ہواس سے معاملات کے حل کی طرف بڑھنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں