اسلام آباد(مانیـٹرنگ ڈیسک)چین میں منعقدہ برکس اجلاس میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی میانمار پہنچ چکا ہے۔ گجرات کے قصائی کے نام سے مشہور نریندر مودی مسلمانوں کے قتل عام کے حوالے سے گجرات فسادات میں سامنے آچکا ہے۔روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے پیچھے بھی بھارت کا نام لیا جا رہا ہے اور بھارتی وزیراعظم کی میانمار آمد اسی سلسلے کی ایک کڑی بتائی جاتی ہے۔ اپنے دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی میانمار کے صدر ہیٹن کیاؤ سے ملاقات کرے گا اور مسلمانوں کے قاتل دونوں رہنما میانمار کی مغربی ریاست راکھائن میں بڑھتی خونریزی پر گفتگو کریں گے۔مودی میانمار کے مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش رہنے والی نوبل انعام یافتہ خاتون رہنما آنگ سان سوچی سے بھی ملاقات اور ہندو مندر کا دورہ بھی کرے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی وجہ بھارت کا سہہ فریقی منصوبہ ہے جس کے بھارت، تھائی لینڈ اور میانمار کو باہم منسلک کیا جائے گا اور وہاں بھارتی کا کالادان ٹرانسپورٹ منصوبہ جاری ہے جس کے ذریعے بھارتی شہر کوکلتہ کی بندرگاہ کو میانمار کی بندرگاہ سے ملایا جائے گا جس کی وجہ سے وہاں آباد روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور انہیں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں