مالے(نیوزڈیسک)روہنگیا مسلمانوں پر مظالم، اسلامی ممالک کے سربراہ بیان بازیاں کرتے رہے ،مالدیپ نے میانمار کیخلاف بڑا قدم اُٹھالیا، تفصیلات کے مطابق روہنگیا مسلمانوں پر بدترین مظالم کے خلاف اسلامی دنیا کے حکمران اب تک صرف بیان بازیوں تک ہی محدود ہیں لیکن ایسے ماحول میں مالدیپ دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے میانمار کے خلاف روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی وجہ سے تعلقات پر نظرثانی کرتے ہوئے تجارتی تعلقات کے خاتمے کا اعلان کردیاگیا،مالدیپ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ میانمار حکومت جب تک روہنگیا مسلمانوں کیخلاف جاری ظلم و ستم کے خلاف ایکشن نہیں لیتی اور اس کا سدباب نہیں کرتی، تب تک میانمار کیساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم رہیں گے۔ بیان میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری اور انسانی حقوق کی کونسل سے میانمار میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے اور فوری طورپر اقدامات کا مطالبہ کیاگیا ہے۔‎ دوسری جانب ایران نے روہنگیا مسلمانوں کا قتل بند کرانے کیلئے اسلامی ملکوں کے درمیان تعاون اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ترکی، ملیشیا اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفون پر میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام اور ان پر مظالم کا سلسلہ رکوانے کے تعلق سے اسلامی دنیا کے ہم آہنگ اقدامات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ انھوں نے تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونی گفتگو میں کہا کہ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ بندکروانے کے لئے، فوری طور پر اسلامی دنیا کے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ دریں اثنا انڈونیشیا کے وزیر خارجہ رٹنو مارسوڈی برما کی لیڈر آنگ سان سوچی اور ملک کے فوجی کمانڈر اور قومی سلامتی کے مشیر کیساتھ ملاقاتوں اور راکھین ریاست میں جاری بحران پر گفتگو کیلئے میانمار پہنچ گئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے حق میں مظاہرے کے لیے سیکڑوں مظاہرین کئی روز سے جکارتا میں میانمار کے سفارت خانے کے سامنے موجود ہیں۔ وہ انڈو نیشیا کی حکومت پر پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر زور دے رہے ہیں۔انڈونیشیاکے صدر جوکو ویڈوڈو نے کہا ہے کہ میں اور انڈونیشیا کے عوام، ہم اس تشدد کی مذمت کرتے ہیں جو میانمار کی ریاست راکھین میں ہوا۔ اس سلسلے میں محض تنقید کی نہیں بلکہ حقیقی اقدام کی ضرورت ہے۔حکومت انڈونیشیا کی سول سوسائٹی اور بین الاقوامی برادری کے تعاون سے انسانی ہمدردی کے بحران کیحل میں مدد دینے سے وابستہ ہے۔انڈونیشیا کے صدر کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے وزیر خارجہ سے کہہ دیا ہے کہ وہ راکھین ریاست کے بحران کے بارے میں میانمار کی حکومت اور بین الاقوامی عہدے داروں سے گفت و شنید کریں۔ان کا کہنا ہے کہ میں نے وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس ،روہنگیا ریاست کے لئے خصوصی ایڈوائزری کمیشن، کوفی عنان،سمیت مختلف فریقوں سے بات چیت کرنے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ہمارے وزیر خارجہ میانمر حکومت سے تشدد بند کرنے اور مزید تشدد روکنے کے ساتھ ساتھ میانمر کے مسلمانوں سمیت تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے اور انسانی ہمدردی کی امداد تک رسائی فراہم کرنے کی درخواست کریں گے۔میانمر کے بعدانڈونیشیا کے وزیر خارجہ اپنی جانیں بچا کر فرار ہونے والے لوگوں کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد کی تیاری کے لیے بنگلہ دیش جائیں گے۔اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے مور سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ راکھین میں گزشتہ ماہ پھوٹنے والے تشدد کے بعد سے 87000 روہنگیا باشندے جان بچا کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش جا چکے ہیں۔ اس ریلے کے نتیجے میں امدادی ادارے رسدوں اور طبی دیکھ بھال کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں