اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے الزام تراشی کا سلسلہ بند کیا جائے۔ امریکہ بھی پاکستان مخالف قوت کا کردار ادا کررہا ہے۔ کولیشن سپورٹ فنڈ کئی عرصے سے بند ہے اور کہتے ہیں ڈالر سے ہماری مدد کی گئی، پاکستان کے خلاف جارحیت کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔سیاسی اختلاف کے باوجود ملکی سا لمیت کے لئے ہم سب ایک ہیں۔ کمیٹی
نے برما میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ انسانیت پر کہیں بھی ظلم ہو اس کی مذمت کرنی چاہئے ، ممبر اسمبلی رومینہ خورشید عالم کا نیشنل سنٹر فار کاؤنٹرنگ پر تشدد انتہا پسندی بل 2017 کابینہ ڈویڑن کو بھجوا دیا گیا،کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس بل کے ساتھ وزارت قانون کو لکھا جائے کہ ہم اس بلپر بحث نہیں کرسکتے کیونکہ اس کا تعلق وزارت دفاع سے نہیں ہے۔ کابینہ سیکرٹریٹ تعین کرے کہ اس بل پر بحث اور منظور کرنا کس کے دائرہ اختیار میں ہے۔ وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ وزارت داخلہ نے اس بل کو لینے سے انکار کردیا تھا ،وزیر دفاع خرم دستگیر نے ٹرمپ بیان کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج کے تینوں شعبے پاکستان کا دفاع کرنے کیلئے ہر دم تیار ہیں۔ سرحدات کی سخت ترین نگرانی کی جارہی ہے امریکی صدر نے ردالفساد اور ضرب عضب کی کامیابیوں کو نہیں سراہا۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کیں جبکہ امریکہ عراق اور افغانستان میں ناکامی سے دوچار ہوا۔ ہمیں امریکہ کو ٹھنڈے دماغ سے جواب دینا ہوگا جذباتیت سے احتراز کرنا ہوگا۔منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس کمیٹی چیئرمین شیخ روحیل اصغر کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وزیر دفاع خرم دستگیر سمیت وزارت حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ممبر اسمبلی رومینہ خورشید عالم کی جانب سے نیشنل سنٹر فار کاؤنٹرنگ پر تشدد انتہا پسندی بل 2017 پیش کیا گیا جس پر کمیٹی نے متفقہ طور پر بل کو داخلہ کی قائمہ کمیٹی کو بھجوانے کی سفارش کی۔ کمیٹی رکن سردار شفقت حیات خان نے کہا کہ اس بل سے وزارت دفاع کا تعلق نہیں ہے کیونکہ اندرونی سکیورٹی کی ذمہ داری فوج کے ذمہ نہیں ہے۔بل کو وزارت داخلہ بھجوایا جائے۔ کمیٹی رکن کشور زہرا نے اس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ طاقت سے طاقت کو دبانے کی کوشش نہ کی جائے۔ لوگوں کو انتہا پسندی کے حوالے سے شعور دینے کی ضرورت ہے میرے سات بل اسمبلی میں کبھی یہاں اور کبھی وہاں سفر کررہے ہیں۔ ہماری عسکری قوتوں کو ہر معاملے میں نہ لایا جائے قدرتی آفات میں بھی ہمارا انحصار فوج پر ہوتا ہےبل کی محرک رومینہ خورشید عالم نے ہا کہ یہ ب ل پہلے وزارت قانون کی جانب سے داخلہ کی قائمہ کمیٹی کو بھیجا گیا تھا جس پر یہ وزارت دفاع کو بھجوایا گیا۔ داخلہ کی قائمہ کمیٹی نے اس پر نوٹ لکھ کر بھیجا تھا کہ اس بل کا تعلق وزارت دفاع سے ہے جس پر کمیٹی چیئرمین شیخ روحیل اصغرنے کہا کہ ہم بھی اس پر نوٹ لکھیں گے اور بل کو وزارت قانون اور کابینہ ڈویڑن کو بھجوایا جائے گا۔بل کی محرک رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ اس سے قبل بھی میرے ایک بل پر اعتراض اٹھایا گیا تھا جو کہ اقلیتوں کے بچوں کا سرکاری سکولوں میں تعلیم کے حوالے سے تھا اور وہ بل واپس کردیا گیا کمیٹی چیئرمین شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ فوج کو ہر معاملے میں بلایا جاتا ہے کیا صوبوں کے پاس وہ آلات نہیں ہیں۔ کمیٹی رکن کشور زہرا نے کہا کہ افواج پاکستان کو اینٹی بائیوٹک کی طرح استعمال نہیں کرنا چاہئےکمیٹی نے ہدایتکی کہ اس بل کے ساتھ وزارت قانون کو لکھا جائے کہ ہم اس بل کو منظور نہیں کرسکتے کیونکہ اس کا تعلق وزارت دفاع سے نہیں ہے۔ کابینہ سیکرٹریٹ تعین کرے کہ اس بل پر بحث اور منظور کرنا کس کے دائرہ اختیار میں ہے۔ وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ وزارت داخلہ نے اس بل کو لینے سے انکار کردیا تھا۔ کمیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے الزام تراشی کا سلسلہ بند کیا جائے۔امریکہ بھی پاکستان مخالف قوت کا کردار ادا کررہا ہے۔ کولیشن سپورٹ فنڈ کئی عرصے سے بند ہے اور ہتے ہیں ڈالر سے ہماری مددکی گئی پاکستان کے خلاف جارحیت کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ سیاسی اختلاف کے باوجود ملکی سالمیت کے لئے ہم سب ایک ہیں۔ کمیٹی نے برما میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ انسانیت پر کہیں بھی ظلم ہو اس کی مذمت کرنی چاہئے۔وزیر دفاع خرم دستگیر نے ٹرمپ بیان کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج کے تینوں شعبے پاکستان کا دفاع کرنے کیلئے ہر دم تیار ہیں۔ سرحدات کی سخت ترین نگرانی کی جارہی ہے امریکی صدر نے ردالفساد اور ضرب عضب کی کامیابیوں کو نہیں سراہا۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کیں جبکہ امریکہ عراق اور افغانستان میں ناکامی سے دوچار ہوا۔ ہمیں امریکہ کو ٹھنڈے دماغ سے جواب دینا ہوگا جذباتیت سے احتراز کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں