وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ان دنوں غربت کے خاتمے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف بھی بار بار غربت کے خاتمے کا عزم دہراتے رہے ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ان دنوں غربت کے خاتمے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف بھی بار بار غربت کے خاتمے کا عزم دہراتے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں ہر آنے والا وزیراعظم اور حکومتیں غربت میں خاتمے اور غریب کے مسائل ختم کرنے کا اعلان کرتی رہی ہیں لیکن افسوس معاشی و اقتصادی ترقی کے ریکارڈ نعروں کے باوجود نہ صرف غربت میں کمی واقع نہیں ہو سکی بلکہ غریب افراد کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا آ رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کے خلاف تحریک کے دوران پہلی مرتبہ روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا تھا مگر ان کے اپنے دور اقتدار میں بھی غریب کے مسائل میں بدرجہ اتم اضافہ ہوا۔ ایوب خان کے دس سالہ اقتدار سے لے کر آج تک ہر حکومت جتنے مرضی معاشی و اقتصادی ترقی کے دعوے کرتی چلی آ رہی ہیں اس کے برعکس غربت اور مہنگائی کی شرح میں اسی تناسب سے اضافہ جاری ہے۔
اب موجودہ وزیراعظم نے اس ضمن میں اپنے عزم کا اظہار کیا ہے تو پھر انہیں کم از کم تلخ حقائق کو تسلیم بھی کرنا ہو گا۔ مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش اور بنیادی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لئے کوئی بھی متعلقہ شعبہ مانیٹرنگ کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے جس کے نتیجہ میں مہنگائی بے لگام ہوتی چلی جا رہی ہے۔ وفاقی سطح پر اس قسم کی مانیٹرنگ کے فقدان کے علاوہ چاروں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی بھی صوبوں میں چند بڑے شہروں میں اخباری بیانات تک محدود ہے۔
لامحالہ ان مسائل کے باعث بیروزگاری بھی بڑھ رہی ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر ہمارے ملک میں غربت کی لکیر تلے زندگی بسر کرنے والوں کی شرح 39فیصد سے بڑھ چکی ہے جو ماضی میں کبھی 29.8فیصد ہوا کرتی تھی جبکہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 2014-15ء کے مقابلے میں غربت کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ وزیراعظم کو یہ اعداد و شمار مدنظر رکھنے ہوں گے کہ غربت کی شرح اس وقت بھی بڑھ رہی ہے اور صرف غربت کی لکیر تلے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد 39فیصد تک جا پہنچی ہے۔
جس وقت سابق وزیراعظم نوازشریف کی وفاقی کابینہ میں احسن اقبال وزیر پلاننگ تھے۔ انہوں نے خود اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ دس میں چار پاکستانی جو بلوچستان میں رہائش پذیر ہیں وہ غربت کی بدترین صورت حال کا شکار ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ انہوں نے سرکاری اعداد و شمار میں غربت کی شرح کو 55فیصد سے 39فیصد تک گرنے کا دعویٰ کیا لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔
دیہاتی آبادی کا 54.6فیصد حصہ غربت کی لکیر تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ فاٹا میں غربت کی لکیر تلے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد 73.7فیصد ہے۔ بلوچستان میں 71.2فیصد، صوبہ خیبر کے پی کے میں 49.2فیصد، سندھ میں 43.1فیصد، گلگت بلتستان میں 43.2فیصد، پنجاب میں 31.4فیصد اور آزاد جموں کشمیر میں 25 فیصد غربت کے بدترین مسائل کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے چار غریب ترین اضلاع میں قلعہ عبداللہ میں 97فیصد آبادی، ہرانی میں 94.2فیصد، بارکھان میں 93.6فیصد، شیرانی میں 90.6فیصد اور کوہستان جو کہ خیبر کے پی کے میں وہاں 95.8فیصد افراد غربت کے مسائل کا شکار ہیں۔
سندھ کے ضلع تھرپارکر میں 87فیصد آبادی، عمرکوٹ میں 84.7فیصد، ٹنڈو محمد خان میں 78.4فیصد، بدین اور کشمور میں 75فیصد آبادی غربت کے مسائل کا شکار ہیں۔ پنجاب صوبہ میں مظفرگڑھ، راجن پور، ڈی جی خان اور بہاولپور غریب ترین اضلاع شمار کئے جاتے ہیں۔ ان میں مظفرگڑھ میں 64.8فیصد، راجن پور میں 64.4فیصد آبادی غربت کے مسائل کا شکار ہے اور یہ پنجاب کے سب سے غریب اضلاع ہیں۔
ڈی جی خان میں 63.7فیصد اور بہاولپور میں 53فیصد آبادی شدید ترین غربت کے مسائل کا شکار ہے۔ یہ سارے اضلاع جنوبی پنجاب کا حصہ ہیں جو مسلسل ہماری حکومتوں کی طرف سے نظرانداز ہو رہے ہیں۔ یہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ غربت کے حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 60.6فیصد حصہ کھانے کے تیل تک رسائی نہیں رکھتا کہ ان کی اتنی قوت خرید نہیں ہے۔
48.5فیصد آبادی اپنے بچوں کو سکول داخل کرانے کی سکت نہیں رکھتی اور نہ ہی ان کے پاس ایسی کوئی مراعاتی رسائی موجود ہے۔ پاکستان کے ہر دس میں سے چار افراد یعنی کل آبادی کا 39فیصد حصہ اپنے پاس کوئی اثاثہ تک نہیں رکھتا۔ 38فیصد آبادی کے پاس آج بھی ترقی کی نعروں کی گونج میں رہنے کے لئے ایک کمرے کا آشیانہ تک نہیں ہے۔ تقریباً آبادی کا ایک تہائی حصہ صحت کی سہولیات تک رسائی نہیں رکھتا۔
اس کے علاوہ ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ جن ذرائع سے آمدن کماتا ہے ان کی آمدن فی کس پونے دو ڈالر سے کم ہے۔ وطن عزیز میں ہر پیدا ہونے والے ہزار بچوں میں سے غربت جیسے مسائل کی وجہ سے 66بچے بنیادی طبی سہولیات کے فقدان کے باعث موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کا براہ راست تعلق عوام اور غربت سے ہے۔ غربت کا خاتمہ اور غریب عوام کو کم از کم بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرنا بلاشبہ وزیراعظم کی ان پالیسیوں کا حصہ ہونا چاہیے جس کے تحت وہ غربت کے خاتمے کا نعرہ لگا رہے ہیں۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بلوچستان، خیبر پی کے، سندھ اور جنوبی پنجاب کے بیشتر اضلاع جن کا پہلے ذکر بھی کیا گیا ہے وہاں بنیادی ضروریات زندگی تک موجود نہیں۔ وطن عزیز میں ترقی اور خوشحالی مساوی اور مسابقت کی بنیادوں پر پورے ملک میں ہونی چاہیے۔ وفاق کسی بھی پارلیمانی نظام حکومت کی اہم اکائی ہوا کرتا ہے اس کو تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے جیسے فاٹا میں غربت کی شرح کا ذکر کیا گیا۔
چند ہفتے قبل فاٹا میں آئینی ریفارمز کے ذریعے وہاں اسے قومی دھارے میں شامل کرنے اور دیگر شہروں کے مساوی لانے کے اعلانات ہوئے لیکن سب نے دیکھا کہ سیاسی مفادات کی بنا پر آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نظرانداز کر دیا گیا۔ سندھ میں تھرپارکر اور مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کے مسائل سب کے سامنے ہیں جس کے باعث ہر سال ہزاروں افراد موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔
سابق وزیراعظم نوازشریف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری اور ناجانے کتنے ہی وزراءوہاں گئے اور بہتری کے بڑے بڑے نعرے لگا کر آ گئے مگر کام نہیں ہوا اور سب سیاسی جماعتیں جو اقتدار میں ہیں صرف اپنے ووٹ کے حصول کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو تقسیم کئے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کی حالت زار دیکھ لیں، چند سال قبل تک جب وہاں حالات انتہائی شورش زدہ تھے تو سب نے بلاتفریق اعتراف کیا کہ بلوچستان کے مسائل کی اصل وجہ محرومی ہے۔
پیپلزپارٹی کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان ریلیف پیکج کا اعلان کیا اور عملاً کچھ بھی نہ کر سکے۔ موجودہ حکومت بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ آخر تمام صوبوں کے ساتھ کب مساوی سلوک ہو گا۔ پنجاب کو دیکھیں تو سینٹرل پنجاب کے علاوہ جنوبی پنجاب کی حالت زار نظر آ رہی ہے۔ ان کے مسائل حل کرنا کس کی ذمہ داری ہے اور کب تمام صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت بلاامتیاز عوام اور ملک کی خاطر اقدامات اٹھائے گی۔ یہ وہ نکات ہیں جو قابل توجہ ہیں اور حکومت اگر چاہے تو تمام اضلاع اور صوبوں کے لئے ایک یکساں پالیسی اپنا کر غربت کا خاتمہ کر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں