دنیا کا بہترین نظام آبپاشی پاکستان میں موجود ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی غفلت کے باعث یہ نظام تباہ ہوتا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کی نا اہلی کے باعث بھارتی آبی جارحیت عروج پر پہنچ گئی ہے۔
دنیا کا بہترین نظام آبپاشی پاکستان میں موجود ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی غفلت کے باعث یہ نظام تباہ ہوتا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کی نا اہلی کے باعث بھارتی آبی جارحیت عروج پر پہنچ گئی ہے۔ بھارت نے ہمارے دریاﺅں پر درجنوں ڈیم بنا کر ہمار ا پانی روک لیا ہے اور آبپاشی کا نظام برباد کرنے پر تلا ہے یہاں تک کہ بھارت اپنے سالانہ بجٹ میںہر سال ہمارے دریاﺅں کا پانی روکنے کے لئے رقم مختص کرتا ہے۔
کالا باغ ڈیم نہ بنانے کی سازش بھارت میں تیار ہوئی اور اس میں ہمارے عوامی لیڈر بھی اکثر اس کے ہم نوا بن کر بیانات دیتے ہیں۔ اس کیلئے بھارت بجٹ میں رکھے گئی رقوم سے ہمارے لیڈروں کو خریدتا ہے۔پنجاب میںنظام آبپاشی کا دنیا کا سب سے بڑا
Gravity Flow System Irrigtion Contiguousموجو د ہے۔ یہ نظام 13 بیراجز،25 بڑی نہروںاور525 میل لمبی12 لنک کینالز،23184 میل چھوٹی بڑی نہروں اور 4800 میل لمبے چھوٹے بڑے سیم نالوں پر محیط ہے۔
اس کے علاوہ اس سسٹم میں 1000 ٹیوب ویل57 سمال ڈیمز2100 میل لمبے فلڈ بند اور ہزاروں کی تعداد میں ریورٹرنگ ورکس موجودہیں ۔اپنے58000 موگہ جات کے ذریعے پنجاب کی20.78 ملین ایکڑ رقبہ کو پانی فراہم کرتا ہے اور یوں پاکستانGDP میں21 فی صد Contribute کرتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی عدم دلچسپی کے باعث یہ سسٹم کافی عرصہ سے خستہ حالی کا شکار ہے۔ہر سال بجٹ میں نہروں اور دریاﺅں کے لئے خطیر رقم رکھی جاتی ہے لیکن اسکا زیادہ تر حصہ خورد برد کا شکار ہو جاتا ہے۔
منصوبوں کا اعلان کر دیا جاتا ہے لیکن عوام کے مسائل جوں کے توں ہی رہتے ہیں۔عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک سے تعاون کے نام پر ہر سال قرض کی اقساط بھی وصول کی جاتی ہیں۔ مگر سیلاب اور آفات کا مکمل سد باب نہیں ہو سکا۔ مالی سال 2016-17میں محکمہ آبپاشی کے ترقیاتی کاموںکیلئے 41ارب روپے کی رقم مختص کی گئی۔ 94 نئے منصوبہ جات شامل کئے گئے۔ جناح بیراج کی بحالی کا منصوبہ عالمی بینک کے مالی تعاون سے2011-12میں شروع کیا گیا۔
نئے خانکی بیراج کی تعمیر پر 23442ملین روپے کی لاگت سے پچھلے سال کام شروع کیا گیا۔ضلع پاکپتن میں سلیمانکی بیراج پر ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت سے 2013-14میں کام شروع کیاگیا۔اس منصوبے پر 3041ملین روپے لاگت آئے گی اور رواں سال بھی اس منصوبے پر کام جاری رہے گا۔پنجاب اریگیٹڈ ایگریکلچر انوسٹمنٹ پروگرام(PIAIP) کے تحت تریموں بیراج اور پنجند ہیڈ ورکس کے منصوبوں کو آئندہ تین برسوں میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے مکمل کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔
اسی پروگرا م کے تحت لوئر باری دوآب کینال سسٹم کی نہروں کی بحالی کے کام جاری ہیں۔ پاکپتن کینال جس کی تحمینہ لاگت 4788ملین روپے لگایا گیاہے۔ لوئر چناب کینال پارٹ بی کے تحت نہروں کی بحالی کا کام 12450ملین روپے کی لاگت سے جاری ہوا۔ اصلاح آبپاشی کے مختلف ترقیاتی منصوبوں ، جن میں418 ملین روپے سے بی آر بی لنک کینال، 507 ملین روپے سے چرڑ ڈرین ، 258 ملین روپے سے سرگودھا ڈرینج سسٹم، 354 ملین روپے سے فیصل آباد کے ڈرینج سسٹم، 890 ملین روپے سے جھنگ برانچ کینال ،994ملین روپے سے سکھنائی ڈرین ،3906ملین روپے سے بھونگ ڈسٹی سسٹم اور990 ملین روپے سے منتخب اریگیشن چینلز پر تعمیراتی کام جاری کیا گیا۔
3300ملین روپے سے ضلع راجن پور کو برساتی نالو ں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لئے915ملین روپے سے نتکانی فلڈ کیرنگ چینل کی تعمیر، 300ملین روپے کی لاگت سے بی آربی ڈی نہر کو بچانے کے لئے تعمیراتی کام جاری کئے گئے لیکن اس کے باوجود سیلاب کی صورت میں لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں۔ سیالکوٹ شہر کو سیلاب سے بچانے کے لئے 1 385ملین روپے کی لاگت سے ایک ، بھیڈ اور پلکھو نالوںکی بحالی و تعمیر نو کا منصوبہ سوچا گیا جبکہ کامونکی شہر اور ملحقہ آبادیوں کو بھی سیلاب سے بچانے کے لئے 2280ملین روپے کی خطیر رقم سے منصوبہ جات شروع کرنے کا پروگرام بنایا گیا۔
تھل کے مکینوں کیلئے حکومتِ نے 7000ملین روپے کی لاگت سے گریٹر تھل کینال فیزII -کے منصوبے کا اعلان کیا لیکن اس کے باوجود تھل کے لوگ پانی کو ترس رہے ہیں۔پوٹھوہار کے علاقے میںآبپاشی کی سہولت مہیا کرنے کے لئے 55چھوٹے ڈیم تعمیر کئے گئے۔ بارانی علاقوں کی ترقی، آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے4000ملین روپے کی لاگت سے گھبیر ڈیم کا منصوبہ تیار کیا گیا۔
اس کے علاوہ 4200ملین روپے کی لاگت سے عالمی بینک کے تعاون سے پچھلے مالی سال میں پوٹھوہار کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ مزید برآں1000ملین روپے سے ڈیزاسٹر کنٹرول منصوبہ شروع ہوا لیکن ملک میں ڈیزاسٹر کنٹرول نہ ہو سکا۔ایک نہر جلال پور کینال،رسول بیراج سے نکالی جانے والی نہر کا ڈیزائن بھی مکمل نہ ہو سکا۔ اس نہر نے پنڈدادنخان اور تحصیل خوشاب کی زمینوں کو سیراب کرنا ہے۔
اسی طرح تھل کینال فیز ii کا کام 16 ارب روپے میں شروع کیا گیا۔گریٹرچولستان اور دوسرے چولستان میں آبپاشی کو یقینی بنانے کے لئے عرصہ دراز سے سٹڈی جاری ہے۔خطے کے موسمیاتی حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں اور گلوبل وارمنگ سے ہمارے گلیشئر پگھل رہے ہیں۔ مون سون میں تبدیلی آرہی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ5 تا6 برسوں میں پاکستان میں سیلاب آئے ہیں۔
اس طرف بھی حکومت نے توجہ نہ دی اور سیلاب کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔سیلاب کے دنوں میں ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں فلڈ ٹریننگ ورکس خطیر رقم خرچ کرکے بنائے گئے ہیں تاکہ آبادیوں کو اس کے نقصانات سے بچایا جا سکے لیکن اس میں خاطر خواہ فائدہ نظر نہ آ سکا۔اسی طرح ڈیرہ غازی خان میں رودکوہیوں کے نقصانات سے بچاوکے لئے سٹرکچر بنائے گئے۔سیالکوٹ،نارروال اور میانوالی کے برساتی نالوں کی اپ گریڈیشن کے باوجود ان علاقوںکو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نہ بچایا جاسکا۔کیونکہ عرصہ دراز سے پاکستان میں بڑے ڈیم نہیں بنائے گئے اور پاکستان کا قیمتی پانی سمندر کی نذر ہورہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں