حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اپنے ایک دوست سے ملنے گئے تھے ۔ مگر دروازے پر کھڑے تھے۔ دوست موجود نہیں تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد دوست آ گیا۔ اتنے جلیل القدر محدث کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر حیران ہوا۔ جلدی سے اندر گیا اور بیٹھک کا دروازہ کھول کر بٹھایا۔ بیوی سے کہا کہ تم نے شیخ کو گھر میں کیوں نہ بٹھایا۔ اس نے کہا کہ میں نے تو بیٹھک کا دروازہ کھلوا دیا تھا مگر نہ جانے کیوں تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعدوہ گھر سے باہر نکل کر کھڑے ہو گئے۔دوست نے دودھ کا شربت تیار کر کے ابن مسعود ؓ کی خدمت میں پیش کیا اور دریافت کیا حضرت! آپ بیٹھک سے باہر نکل کر کیوں کھڑے ہو گئے تھے؟ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے بات کو ٹالنا چاہا مگر ان کا دوست کب ہار ماننے والا تھا۔ بار بار ان سے پوچھتا رہا۔ تب انہوں نے فرمایا کہ بات اصل میں یہ ہے کہ میں نے جب دستک دی تو باندی نے دروازہ کھول دیا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ ذرا پانی پلاؤ ۔ پیاس لگی ہے۔ باندی پانی لینے گئی تو آپ کی بیوی نے شاید پڑوس سے دودھ منگوایا۔ باندی دودھ لینے گئی تو آنے میں ذرا دیر ہو گئی۔ میں سن رہا تھا۔ دیر کرنے کی بنا پر آپ کی اہلیہ نے باندی پر لعنت بھیجی۔ مجھے فوراً حضور ﷺ کی وہ حدیث یاد آ گئی جس میں آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ جو شخص کسی شخص پر لعنت بھیجتا ہے اگر واقعتاً وہ اس لعنت کے لائق ہو تو اس پر لعنت پڑتی ہے ورنہ وہ لعنت لوٹ کر لعنت بھیجنے والے پر پڑ جاتی ہے۔ میں نے دل میں سوچا کہ ممکن ہے وہ باندی لعنت کے قابل نہ ہو تو لازماً وہ لعنت لوٹ کر آپ کی بیوی اور اس گھر پر پڑے گی لہٰذا میں نے خیریت اسی میں سمجھی کہ جلد جلد اس گھر سے باہر نکل جاؤں جس پر لعنت پڑنے کا اندیشہ ہو۔میرے دوست! زبان کے معاملے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہ زبان وہ چیز ہے جو بڑی بڑی عبادتوں کو چند لمحوں میں غارت کر دیتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں