اسلام آباد: سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ بے نظیر قتل کیس میں میرے خلاف امریکی لابیسٹ مارک سیگل کے بے معنی بیان کے علاوہ کوئی ثبوت نہیں یہ مقدمہ مکمل طور پر بے بنیاد، جھوٹ اور خود ساختہ ہے۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد اصغر خان نے اڈیالہ جیل میں بے نظیر قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم اور انہیں اشتہاری قرار دیا تھا جس پر پرویزمشرف نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت میں دیا گیا فیصلہ میرے خلاف نہیں، میرا مقدمہ داخل دفتر ہے اور میں صحت یابی کے بعد پاکستان آکر مقدمے کا سامنا کروں گا۔
سابق صدر نے کہا کہ میری جائیداد کی قرقی کے حوالے سے تمام عدالتی معاملہ میری قانونی ٹیم باریک بینی سے دیکھ رہی ہے اور تمام صورتحال کے جائزے کے بعد میری اور میرے خاندان کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔
پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ بے نظیر قتل کیس کے ساتھ ناہی میرا کوئی تعلق ہے اور نا ہی اس قتل سے میرا کوئی مفاد وابستہ تھا میرے خلاف یہ مقدمہ محض سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا جو مکمل طور پر بے بنیاد، جھوٹ اور خود ساختہ ہے اس کیس میں میرے خلاف کوئی ثبوت بھی نہیں صرف بے نظیر کے امریکی لابیسٹ مارک سیگل کا ایک بے معنی سا بیان ہے جسے میرے وکلا عدالت میں بے معنی اور فضول ثابت کرچکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں