بریگیڈئیر( ر)سید احمد ارشاد ترمذی جنکا تعلق آئی ایس آئی سے تھا وہ اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کئی ممالک کےسفارتخانے موجود ہیں ۔ دنیا کے متعدد سفارتخانوں نے اپنے عملے کے بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت کی غرض سے ایمبیسی اسکول کھول رکھے ہیں، خاص طور پر ان ممالک نے جن کے عملے کی تعداد زیادہ ہے اور طالب علم بھی کافی تعداد میں ہیں،یہ سلسلہ دنیا کے تقریبا سبھی ممالک میں موجود ہے اور بظاہر کسی حوالے سے بھی سفارتی آداب اور قواعد کے خلاف نہیں۔ مگر یہ بھی ایک
حقیقت ہے کہ ان اسکولوں میں محض درس و تدریس کا کام ہی نہیں ہوتا بلکہ ان اسکولوں کے عملے کے کئی ارکان کو تعلیمی سرگرمیوں کی آڑ میں جاسوسی کے کام پر بھی مامور کیا جاتا ہے۔ خفیہ ایجنٹ اسی طرح کے دوسرے اداروں مثلا ائیر لائنز کے دفاتر ، ہوٹلوں، لینگویج سینٹرز ، ایوان ہائے ثقافت و دوستی اور مراکز اطلاعات میں بھی تعینات کئے جاتے ہیں۔ میں اور میری ٹیم معمول کی چیکنگ پر تھے کہ ہمیں بھارتی ایمبیسی سکول کی ایک خاتون ٹیچر وینا ملک کی سرگرمیاں مشکوک لگیں اور ہم نے اس پر نـظر رکھنا شروع کر دی ۔ چند دن بعد ہی ہمیں معلوم ہو گیا کہ مس وینا کا کسی بھی قسم کا تعلق درس و تدریس سے نہیں بلکہ وہ وہ استاد کے روپ میں ایک جاسوس ہے ۔ سانپ کو بل سے نکالنے کیلئے ہم نے منصوبہ تیار کیا اور ایک ہندو پاکستانی خاتون کو اپنے بیٹے کو بھارتی ایمبیسی کے سکول میں داخل کروانے پر رضامند کر کے تمام پلان سمجھا دیا۔ ہندو پاکستانی خاتون نے بیٹے کی تعلیمی سرگرمیوں پر پریشانی اور دوسرے تیسرے روز سکول میں آنا جانا شروع کر دیا اور جلد ہی مس وینا کے قریب ہو گئی اور پھر ایک وقت آیا کہ دونوں قریبی سہیلیوں کی صورت مارکیٹوں میں شاپنگ،پارکوں میں چہل قدمی اور سینما میں فلم دیکھنے جانے لگ گئیں۔ مس وینا اس ہندو پاکستانی خاتون کو اپنا آلہ کار بنانے کا سوچ رہی تھی جبکہ اس کو نہیں پتا تھا کہ صیاد خود جال میں پھنس چکا ہے۔ ہندو پاکستانی خاتون اور ہماری نظروں نے جلد ہی مس وینا کی حقیقت ہم پر آشکار کر دی اور اس کی کڑی نگرانی کا کام شروع کر دیا گیا۔ایک روز بھارتی ایمبیسی کی جانب سے اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل میںکمرہ بک کروایا گیا۔ یوں تو یہ ایک معمول کی بات تھی مگر سفارتخانے کے مہمانوں کی شناخت اور ان کے بارے میں جاننا ہمارے فرائض میں شامل تھا۔ ہوٹل سے ہمارے آدمی نے اطلاع دی کہ مس وینا بھارتی ڈیفنس اتاشی کی گاڑی میں سفارتخانے کے عملے کے ایک رکن مسٹر کھنہ کے ساتھ جو ”را” کی ٹیم کا ممبر بھی تھا، ہوٹل پہنچی ہے اور کھنہ ، وینا کو ہوٹل کے کمرے میں چھوڑ کر لابی میں بیٹھاشاید کسی مہمان کا منتظر ہے۔ ہم نے ائیرپورٹ سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت کوئی جہاز نہیں آرہا اور نہ ہی بھارتی سفارتخانے کی کوئی کار ائیرپورٹ گئی ہے، اس سے ظاہر ہوا کہ ”مہمان” کوئی یہیں کا ہے ۔ ہماری ٹیم نے ضروری سازوسامان کے ساتھ اپنی پوزیشن سنبھال لی۔ چند لمحوں کے بعد پرویز نامی ایک پاکستانی نوجوان ، جس کے چہرے سے سراسیمگی اور خوف ٹپک رہا تھاہوٹل کی لابی میں داخل ہوا۔ مسٹر کھنہ نے آگے بڑھ کر بڑی گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا اور کہا’ ” آئیے پرویز صاحب ہم تو آپ کے دیر سے منتظر ہیں” اور اسے اس کمرے میں لے گیا، جہاں مس وینا موجود تھی۔ہمارے ساتھی مختلف روپ میں ہوٹل میں موجود تھے ۔کچھ دیر بعد کمرے سے روم سروس کو انٹرکام پر چائے اور سینڈویچز کا آرڈر دیا گیا۔ہمارا تربیت یافتہ ”ویٹر” فوری طور پر چائے کی ٹرالی لے کر روانہ ہوگیا، جس میں ایک چھوٹا سا ٹرانسمیٹر نصب تھا۔ واپسی پر ”ویٹر” نے بتایا کہ وینا اپنے مہمان پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لئے بے چین ہے مگر اس کا مہمان سہما ہوا اور شرمیلا سا ہے، جبکہ مسٹر کھنہ دلالوں کا روایتی کردار ادا کر رہا ہے اور اسکی کوشش ہے کہ مس وینا اپنے مہمان کے تمام حواس پر قبضہ کرلے۔بہر حال ہم ٹرالی میں لگے ٹرانسمیٹر کی مدد سے ان لوگوں کی گفتگو سن رہے تھے اور اسے ریکارڈ بھی کر رہے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد کھنہ کمرے سے باہر آگیا اور اپنی کار میں بیٹھ کر واپس ایمبیسی چلاگیا۔پرویز تقریبا آدھ گھنٹہ کمرے میں رہا اور وینا کو اپنا ایڈریس لکھوا کر اور وصل کا ایک اور وعدہ لے کر نیچے آگیا، مگر اس کی حرکات و سکنات سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ اس کی گھبراہٹ جوں کی توں ہے ۔ہوٹل سے نکلتے ہی ہم نے اس کا پیچھا کیا اور اسے اپنی گاڑی میں بٹھاکر اپنے ریسٹ ہاؤس لے گئے۔ تفتیش شروع ہوئی تو وہ اپنی شناخت کرانے سے ہچکچارہا تھا۔ نتیجتاً ہم نے وینا کے ساتھ اس کی گفتگو کی ریکارڈنگ اسے سنائی تو اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں ۔ اس نے بچوں کی طرح رونا شروع کردیا اور معافی مانگنے لگا۔ اس نے بتایا کہ ”میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں انجینئر ہوںاو رکھنہ کے ساتھ میری ملاقات لاہور سے اسلام آباد آتے ہوئے ایک بس میں ہوئی تھی۔ ہم بہت جلد دوست بن گئے اور کھنہ نے مجھے ایک خوبصورت ہندو لڑکی سے ملوانے کی پیشکش کی جسے میں ٹھکرانہ سکا۔” ہمارے لئے اس میں حیرت کی کوئی بات نہ تھی کہ بھارتی خفیہ اداروں نے چانکیا کی تعلیمات کے مطابق رنڈیوں سے جاسوسی کا کام لینے کو بھی اپنے کلچر کا حصہ بنا رکھا تھا۔مس وینا ابھی ہوٹل کے کمرے میں موجود تھی۔ یا تو وہ کھنہ کا انتظار کرتی یا پھر ایمبیسی فون کرتی کہ ہوٹل میں میری ڈیوٹی پوری ہوگئی ہے اور مجھے آکر یہاں سے لے جایا جائے ۔ اب ہمارے پاس ہوٹل کا محاذ ہی تھا اور وقت بہت کم۔ وینا تک رسائی حاصل کرنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ وہ ہمارے کسی بھی اہلکار کی کمرے میں موجودگی کی صورت میں الارم بجاسکتی تھیاور ہمارے لئے ایک پیچیدہ سفارتی تنازعہ پیدا ہو سکتا تھا۔ دوسری جانب یہ ایک ایسی صورتحال تھی جس سے فائدہ نہ اٹھانا ہماری ”خفیہ روایات ” کے خلاف تھا۔ کسی بھی رسک کی صورت میں کامیابی کی توقع ففٹی ففٹی تھی۔ تاہم مس وینا کی شخصیت اور کردار کو سامنے رکھ کر ہمیں اس بات کا یقین تھاکہ اگر اس صورت حال میں مہارت اور چابکدستی سے کام لیا جائے تواس بھارتی جاسوسہ کو شیشے میں اتارنا مشکل نہ ہوگا۔ ہمارے لئے یہ ملین ڈالر چانس تھا جسے آزمایا جاسکتا تھا۔ ہم نے لمحوں میں حتمی فیصلہ کیا اور کچھ ہی دیر بعدمنصوبے کے مطابق کیس آفیسر ہوٹل کے سیکورٹی ایگزیکٹو کے روپ میں کمرے میں داخل ہوا۔ اپنا تعارف کروایا اور ہوٹل کی سروس کے بارے میں معمول کی گفتگو کرنے لگا۔ وینا کو ذرا برابر شک نہ گزرا۔ اس کے لئے سب معمول کی بات تھی۔وہ انتہائی مطمئن اور خوشگوار موڈ میں تھی۔ ہمارے افسر نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بھارتی ساڑھیوں ، فلموں کے بارے میں گفتگو شروع کردی۔ وینا نے اس گفتگو میں دلچسپی لینی شروع کردی اور ہمارے آفیسر کو بیٹھنے کے لئے کہا۔ ”ویٹر” ٹرالی لے کر چلا گیا اور گفتگو کا موضوع ذاتی معلومات تک آگیا۔ ہمارا وار کاگر ثابت ہوا۔ وینا جلد ہی ہمارے کیس آفیسر کو تم تم کہنے کی حد تک آگئی ۔وہ باتوں میں اس قدر محو ہوگئی کہ اسے سفارتخانے فون کرنا بھی یاد نہ رہا۔ ادھر کھنہ اور اس کے افسران بالا یقینی طورپر اس بات پر جام مسرت پی رہے ہوں گے کہ بالآخر انہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے ایک بڑی مچھلی کو اپنے جال میں پھنسالیا تھا۔ آہستہ آہستہ ہمارے آفیسر کا لہجہ تبدیل ہوگیا اور اس کی گفتگو معنی خیز ہوتی گئی ۔جب وینا کو احساس ہوا کہ ہوٹل کے اس آفیسر کو وینا کی اس کمرے میں آمد اور اس کے مقاصد سے پوری طرح آگاہی ہے تو وینا کی صورت ایک ایسے مجبور، بے کس اور بھوکے بچے کی سی ہوگئی جسے بیکری سے ڈبل روٹی چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑلیا گیا ہو۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں اور اس کی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔وینا نے اپنی داستان حیات سنانا شروع کردی۔ ”میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں۔ میرے والدین نے میری پرورش اپنی انتہائی غربت اور کسمپرسی کے باوجود بڑے ناز و نعم سے کی ۔ میں نے دوہی سال پہلے گریجویشن کی ہے ۔میرا خیال تھا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ٹیچر بنوں گی مگر کوشش کے باوجود مجھے نوکری نہ مل سکی۔پھر ایک روز میری ایک دوست کے خاوند نے مجھے اپنے ایک دوست سے یہ کہہ کر متعارف کروایا کہ یہ ایک اعلیٰ سرکاری افسر ہیں اور تمہارے لئے ملازمت کا بندوبست کرسکتے ہیں ، بعد میں مجھے علم ہوا کہ ان کا تعلق بھارتی انٹیلی جنس سے ہے ، انہوں نے میرا سرسری سا انٹرویو لیا اور مجھے بتایا کہ میں تمہارے لئے نوکری کا انتظام کرسکتا ہوں ،مگر یہ نوکری بھارت میں نہیں پاکستان میں بھارتی ایمبیسی اسکول میں ہوگی۔ میں تیار ہو گئی، مجھے ’’را‘‘کے ایک ـٹریننگ سکول میں بھیج دیا گیا جہاں اسلحہ چلانے کے علاوہ اخلاق باختہ فلموں کے ذریعے مردوں کو قابوکرنے کے طریقے سکھائے گئے ،ہمارے انسٹرکـٹر ہماری عزتوں سے کھیلتے اور یہ سلسلہ ہر روز رات کو شروع کر دیا جاتا۔ جس پر میں نے اعتراض بھی کیا مگر کہا گیا کہ یہ تربیت کا اہم حصہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تمہارے لئے یہ تربیت انتہائی ضروری ہے اور تمہیں ملک و قوم کے عظیم تر مفاد کے لئے سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے۔ بعد ازاں انہوں نے مجھے یہاں پاکستان بھیج دیا اور تب سے اب تک سب آپ کے سامنے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں