اپنے کیریئر کے عروج پر میں ایک مرتبہ جہاز پر سفر کر رہا تھا‘ میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک بزرگ بیٹھے تھے‘ سادہ سی شرٹ اور پینٹ میں ملبوس تھے‘وہ تعلیم یافتہ لیکن مڈل کلاس لگتے تھے‘مسافر مجھے دیکھ رہے تھےلیکن اس شخص نے میری زیادہ پرواہ نہیں کی‘اس نے اپنا اخبار پڑھااور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگے‘ بزرگ نے انتہائی سکون اور اطمینان سے چائے پی‘ میں نے ان سے بات کرنے کیلئے ان کی طرف مسکرا کر دیکھا‘بزرگ نے مہذب انداز میں مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے دیا اور مجھے ہیلو کہا۔ہم نے گفتگو شروع کردی اور میں نے ان سے پوچھ لیا ’’ کیا آپ فلمیں دیکھتے ہیں‘‘ انہوں نے جواب دیا’’جی چند ایک دیکھی ہیں‘ آخری فلم کافی سال پہلے دیکھی تھی‘‘ میں نے کہا‘ میں فلموں میں کام کرتا ہوں‘ بزرگ نے جواب دیا ’’ بہت اچھا‘آپ کیا کرتے ہیں‘‘ میں نے جواب دیا‘ میں ایکٹر ہوں‘ انہوں نے جواب میں ’’اوہ! زبردست ‘‘ کہا اور خاموش ہو گئے‘ جب ہم نے لینڈ کیا تو میں نے ان سے ہاتھ ملایااور کہا کہ آپ کے ساتھ سفر کر کے اچھا لگا۔بزرگ نے ہاتھ ملاتے ہوئے ہوئے جواب دیا ’’بہت شکریہ‘ میں جے آر ڈی ٹاٹاہوں‘‘ (جے آرڈی ٹاٹا انڈیا کے ارب پتی بزنس مین )۔ میں نے ٹاٹا صاحب سے ایک بات سیکھی‘ آپ خواہ کتنے بھی بڑے ہوں دنیا میں آپ سے بڑے لوگ موجود ہوتے ہیں‘ ہمیشہ عاجز رہیں ‘ یہ عاجزی آپ کو بلندی عطا کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں