کہتے ہیں بادشاہت چھوڑ کر درویشی اختیار کرنا بہت مشکل کام ہے۔ باتیں کرنا آسان ہے۔ اور عمل کرنا مشکل کام ہے۔پرانے زمانے کے بادشاہ درویشوں اور اولیاء اللہ سے عقیدت رکھتے تھے۔ ان سے رابطے میں رہتے تھے۔ بلکہ اس بات پر فخر محسوس کرتے کہ انکا تعلق اولیاء اللہ ہے۔ اولیاء اللہ کو مال و دولت سے کوئی غرض نہیں ہوتا تھا۔ایک بادشاہ کی بیٹی اپنی کنیزوں کے ہمراہ خانہ کعبہ کے طواف کی نیت سے آئی اس نے ایک شخص کو دیکھا کہآسمان سے نور اس شخص کے گرد منڈلا رہا ہے۔تو وہ حیرت زدہ رہ گئی۔ واپسی پر اپنے والد کو اس شخص کے بارے میں بتایا اور کہا کہ وہ صرف اس سے شادی کرے گی۔ وگرنہ ساری عمر کنواری رہے گی۔بادشاہ پریشان ہو گیا۔ اس نے معلومات حاصل کیں تو اسے معلوم ہوا۔ کہ وہ حضرت غوث بہاوالدین زکریہ کے بیٹے صدرالدین ہیں تو وہ اپنی بیٹی کو ملتان میں حضرت غوث بہاوالحق کے پاس لایا اور اپنی خواہش ظاہر کی آپ نے رضا مندی کا اظہار کیا۔ اور آج لوگ انہیں بی بی پاک دامن کے نام سے جانتے ہیں۔بادشاہت کو ٹھکرا کر فقیری اختیار کرنے والی بی بی پاک دامن کے بطن سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام شاہ رکنِ عالم رکھا گیا۔ اس بچے کی ولادت سے قبل حضرت غوث بہاوالدین زکریا نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ قطب الاقتاب بنے گا۔ جو کہ سچ ثابت ہوئی۔آپکی تربیت آپکے دادا، والد، اور درویش صفت ماں نے کی۔ آپ نے روحانی تعلیم میں باکمال صلاحتیں حاصل کیں۔ اور سلسلہ سہروردیہ میں باکمال صلاحتیں حاصل کیں اور سلسلہ سہروردیہ کو جہد عطا کی آپ نے اپنے دادا کی مسند سنبھالی،آپکے بارے میں کہا جاتا تھا کہ آپ جمالی بزرگ ہیں اور آپ فیض بہت جلد عطا کرتے تھے آپکو یہ شرف حاصل ہے۔ کہ سلسلہ چشتیاہ کے بزرگ خواجہ نظام الدین اولیاء نکی نماز جنازہ بھی پڑھائی اپنے ہم عصر کے بزرگوں سے بہت محبت رکھتے تھے۔آپ نے اسلامی کی ترویح و اشاعت میں آپ نے تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ آپکے فیض کا دریا ہر وقت جاری و ساری رہا اور بندگان خدا اس سے فیض یاب ہوتے رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں