ایک آدمی گھر پھر دیر سے آیا، آدھی رات تھی اور پڑوسیوں کے کتے بھونک بھونک کر ہلقان ہو رہے تھے۔ اس نے ہمیشہ کی طرح بہت پی رکھی تھی اور اسے اپنا کوئی ہوش نہیں تھا۔ اس کی بیوی نے روز کی طرح آج بھی اس کے لیے دروازہ کھولا اور اس کو بیڈ تک سہارا دے کر لے گئی۔ بیڈ پر لے کر گئی تو اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی شراب کی بوتل زمین پر دے ماری، بیوی نے دیکھا کہ نیچے سارے کانچ ہی کانچ پھیل گئے ہیں، لیکن اس نے اپنے خاوند کو کچھ نہ بولا بلکہ اس کے جوتے اتارے، پھر اس کے کپڑے اتارے اس کے اوپر کنبل ڈالا اور اس کو سلا دیا۔ہمیشہ کی طرح وہ بے سدھ پڑا سو رہا تھا۔ بیوی نے جھاڑو لا کر نیچے سے کانچ صاف کیے اور راستے میں کمرے تک آتے ہوئے اس کے شوہر نے جو کچھ بھی توڑا تھا، وہ ہر چیز کو اٹھا کر گھر صاف کرنے لگی۔ صبح جب اس کا شوہر اٹھا تو وہ دعا کرنے لگا کہ آج بیگم لڑائی نہ کرے کیونکہ وہ ہر روز اتنی لڑائی کرتی تھی اپنے خاوند کے شراب پینے اور دیر سے گھر آنے پر، اور سونے پر سہاگہ، آج رات تو اس نے کتنے برتن اور شراب کی بوتل بھی توڑ دی تھی۔ وہ ڈرتا ڈرتا ناشتے کی میز پر پہنچا تو دیکھا کہ صرف اس کا بیٹا بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔ اس نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ ماما کدھر ہیں؟وہ بولا کہ وہ بازار گئی ہیں گروسری کے لیے اور جاتے وقت آپ کے لیے آپ کا پسندیدہ ناشتہ بنا گئیں تھیں اور آپ کے لیے یہ سٹکی نوٹ چھوڑ گئی تھیں۔ اس نے حیرت سے سٹکی نوٹ پڑھا تو لکھا تھا: میری جان میں ابھی آدھے گھنٹے تک واپس آرہی ہوں، آپ ناشتہ کریں۔ آپ کا پسندیدہ ناشتہ بنایا ہے آج۔ آئی رئیلی لوو یو اے لاٹ۔ وہ حیران و پریشان تھا کہ یہ کیا مجرا ہے، بیگم آج لڑ کیوں نہیں رہی اور اتنا پیار کیوں جتا رہی ہے، اس نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ تمہاری ماما کی طبیعت تو ٹھیک ہے، پاگل تو نہیں ہو گئی، میرے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیوں کر رہی ہے آج؟بیٹا ہنسا اور بولا: پاپا۔۔ ماما نے مجھے ابھی جانے سے پہلے بتایا تھا کہ رات کو جب وہ آپ کے جوتے، موزے اور کپڑے اتار رہی تھیں کہ آپ پر سکون ہو کر سو سکیں تو آپ نے اتنی پی رکھی تھیکہ آپ نے ماما کو پہچانا ہی نہیں اور آپ نے ان کو بولا کہ او بی بی میں کوئی ایسا ویسا آدمی نہیں ہوں، خدا کا خوف کرو، پیچھے ہٹو، میں شادی شدہ ہوں۔ ماما آج صبح سے گانے گنگناتی پھر رہی تھیں۔ یہ سن کر باپ بھی ہنسنے لگ گیا۔ اگر آپ اپنے رشتے ٹھیک سے نبھائیں گے تو آپ چھوٹی غلطیاں کر سکتے ہیں لیکن کبھی کسی بڑی غلطی کا ارتکاب آپ کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اپنی ترجیحات ٹھیک سے متعین کریں اور رشتوں کی قدر کریں۔ جب آپ کی ترجیحات کی درست تقرری ہوتی ہیں تو آپ کی عادتیں خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہیں اور آپ کے گھر والے آپ سے پیار کرنے لگتے ہیں اور آپ کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے بھی پیار کرنے لگتے ہیں، پر یاد رہے کہ کسی بھی رشتے میں بے وفائی نا قابل معافی جرم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں