اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ نوازشریف نے 6بار سویلین وزرائے اعظم اور صدور کے خلاف آرمی چیف اور ججز کو ساتھ ملا کر سازش کی ہے ،کونسی ایسی سازش ہے جس میں وہ ملوث نہیں رہے ، میرے خیال میں نوازشریف کی تاحیات نااہلی نہیں ہونی چاہیے ، جے آئی ٹی سے متعلق میرا اندازہ غلط ثابت ہوا ،عدالت جعلی دستاویزات پر شریف فیملی کے خلاف مقدمہ درج کرا سکتی تھی ، 140کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ایک سے دوسری جلسہ گاہ جا رہے ہیں تو اسے ریلی نہیں کہتے
،ریلی کی مخصوص رفتار ہوتی ہے ، ان کے جلسے بڑے ہوں گے اور عوام بھی بڑی تعداد میں شریک ہوگی ،ظفر حجازی کو کیا خواب آیا تھا کہ ریکارڈ بدلو ، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ نوازشریف کبھی سازش میں ملوث نہیں رہے، ہم نے غلطیاں کی ہیں تو پیپلزپارٹی نے بھی غلطیاں کی ہیں ، اعتزازاحسن غلط بیانی سے گریز کریں ۔ وہ جمعرات کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے ۔ سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ میرے خیال میں نوازشریف کی تاحیات نااہلی نہیں ہونی چاہیے ، ڈان لیکس کی جے آئی ٹی خود وزیراعظم اور چوہدری نثار نے بنائی تھی اس لئے وہ غیر جانبدارانہ کام نہیں کرسکی جبکہ پانامہ لیکس کیس کی انکوائری کے لئے جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی اور اس نے بہت اچھا کام کیا ، جے آئی ٹی رپورٹ میں نے پڑھی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے بہت محنت کی ،پانامہ کیس کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی سے متعلق میرے خیالات اس لئے غلط ثابت ہوئے کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ گریڈ20اور21کے افسر کس طرح وزیراعظم سے تحقیقات کریں گے ۔ جے آئی ٹی نے کام ٹھیک کیا جبکہ ججز نے ابھی بھی نوازشریف پر ہاتھ ہلکا رکھا ہے ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ جعلی دستاویزات پر شریف فیملی کے خلاف مقدمہ درج کروا سکتی تھی مگر انہوں نے نرمی دکھاتے ہوئے ایسا نہیں کیاجبکہ یہی معاملہ اگر پیپلزپارٹی کو درپیش ہوتا تو ججز سزا بھی ضرور دیتے ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی ریلی ناکام ریلی ہے ۔ ریلی کی ایک مخصوص رفتار ہوتی ہے ،140کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ایک سے دوسری جلسہ گاہ جاؤ تو اسے ریلی نہیں کہتے ۔ریلی میں تو زیادہ لوگ نہیں ہیں جبکہ ان کے جلسے بڑے بڑے ہوں گے اور ان میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ظفر حجازی کو کیا خواب میں آیا تھا کہ شریف فیملی کا ریکارڈ بدلو ۔ریکارڈ میں تبدیلی سے کس کو فائدہ ہوا جبکہ اس کے بینیفشری نوازشریف ہیں ۔ ظفر حجازی کا کیس ایف آئی اے کو دیا گیا جہاں سے انہوں نے ضمانت لے لی ۔ نوازشریف شکوہ کرتے ہیں کہ 545افراد کے نام پانامہ لیکس میں آئے تو احتساب صرف میرا ہی کیوں ۔تو ان کو چاہیے کہ وہ باقی لوگوں کا بھی احتساب کریں کیونکہ ان کی اپنی حکومت ہے ۔نوازشریف کے خلاف سازش سے متعلق سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ خود کون کونسی سازش میں ملوث نہیں پائے گئے ،جتنے سال نوازشریف نے وزارت کی اتنے سال ہی انہوں نے سازش کی ۔ نوازشریف نے چھ بار سویلین وزرائے اعظم اورصدور کے خلاف آرمی چیف اور ججز کو ساتھ ملا کر سازشیں کیں ۔ میمو گیٹ پر نوازشریف کالا کوٹ پہن کر آصف زرداری کے خلاف سپریم کورٹ گئے تھے ، آئی جے آئی بنا کر جتوئی صاحب کو آگے کیا اور محمد خان جونیجو کی حکومت کو جنرل ضیاء الحق کیساتھ مل کر انہوں نے برطرف کروایا ۔ وزیراعظم بینظیر اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف وہ خود عدالتوں میں درخواستیں دیتے رہے ۔انہوں نے کہا کہ بادل ناخواستہ کہوں گا کہ لوگوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کر لیا ہے ، پہلے ہم کہتے تھے کہ ڈائیلاگ کریں تو یہ لوگ نہیں مانتے تھے مگر اب وقت گزر چکا ہے ، نوازشریف سمجھتے ہیں کہ قانون میں ترامیم کر کے ان کو کوئی فائدہ پہنچائے تو اب یہ ممکن نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2ستمبر2014کو جب قادری اور عمران کادھرنا عروج پر تھا تو میاں صاحب کا رنگ اڑا ہوا تھا اور انہوں نے اپنی سب غلطیاں تسلیم کر کے پارلیمنٹری پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملایا تھا مگر دھرنا خمت ہونے کے بعد وہ پھر سب کچھ بھول گئے،میاں صاحب کا رنگ ذرا سی مشکل ہو پھیکا پر جاتا ہے جو تصاویر میں واضح دیکھا جا سکتا ہے ،خواجہ سعد رفیق کو میں سیریس نہیں لیتا وہ (ن) لیگ کی گالم گلوچ برگیڈ نمبر 2کے ممبر ہیں ۔ نوازشریف کی نااہلی کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کے متعلق سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ نوازشریف نظر ثانی کی اپیل کے لئے رجوع نہیں کریں گے کیونکہ اگر نظر ثانی کیلئے رجوع کیا گیا تو جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمر 10کھول دی جائے گی جس کی وجہ سے ان کو اور زیادہ حزیمت اٹھانی پڑے گی ۔پروگرام میں اعتزاز احسن کی گفتگو پر مختصراً ردعمل دیتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں گزارش کروں گا کہ اعتزاز احسن صاحب سفید بالوں کیساتھ جھوٹ بولنے سے گریز کریں ،نوازشریف کبھی کسی سازش میں ملوث نہیں رہے ، ہم مانتے ہیں کہ ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں تو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ غلطیاں پیپلزپارٹی نے بھی کی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب اور محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ بھی غلطیوں سے بالاتر نہیں تھیں مگر ہم نے اپنی غلطیوں سے سیکھا ہے اور آئندہ انہیں نہ دہرانے کا عزم کیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں