یوٹاہ: نفسیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ احساسِ تنہائی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ اب یہ کیفیت ایک نئی اور جان لیوا بیماری کا روپ دھارتی جا رہی ہے جب کہ اس سے وابستہ خطرات موٹاپے سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔
امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے 125 ویں سالانہ اجلاس میں برگہام ینگ یونیورسٹی، یوٹاہ کی نفسیات داں، پروفیسر ڈاکٹر جولیان ہولٹ لنسٹاڈ اور ان کی ٹیم نے 218 مطالعات کے تجزیئے (میٹا اینالیسس) پر مبنی نتائج پیش کیے۔ ان نتائج سے پتا چلتا ہے کہ وہ لوگ جو لمبے عرصے تک اکیلے رہتے ہیں، تنہا رہنے کے عادی ہوتے ہیں، زیادہ دوست بنانے سے گریز کرتے ہیں، زیادہ ملنا جلنا پسند نہیں کرتے یا پھر احساسِ تنہائی کا شکار ہوتے ہیں، ان کی اوسط عمر دوسروں سے کم ہوتی ہے جبکہ ان میں ناگہانی اموات کی شرح بھی ایسے افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے جو میل جول اور سماجی روابط رکھنے کے معاملے میں پیش پیش رہتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق اس وقت صرف امریکا میں 45 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تقریباً 4 کروڑ 26 لاکھ افراد کو ’’طویل مدتی تنہائی‘‘ کا سامنا ہے جس کی وجہ یا تو ان کا اپنا مزاج ہے یا پھر معاشرے کی ان کے ساتھ لاتعلقی۔ اگرچہ ساری دنیا کے بارے میں طویل مدتی تنہائی سے متعلق اعداد و شمار تو دستیاب نہیں لیکن پھر بھی ممکنہ طور پر اس کیفیت میں مبتلا افراد کی مجموعی تعداد 1 ارب سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
احساسِ تنہائی کے جسمانی صحت اور شرح اموات پر اثرات سے متعلق جن مطالعات کا جائزہ لیا گیا ان میں سے 148 امریکا میں کیے گئے تھے جبکہ ان میں 3 لاکھ سے زائد افراد شریک تھے۔ ان کے تجزیئے سے معلوم ہوا کہ جو لوگ معاشرے میں زیادہ میل جول رکھنے والے ہوتے ہیں اور دوسری کی خوشی غمی میں شریک رہتے ہیں ان میں ناگہانی اموات کا خطرہ تنہائی پسند یا احساسِ تنہائی میں مبتلا افراد کی نسبت 50 فیصد تک کم ہوتا ہے۔
دوسرے تجزیئے میں ایسے 70 وسیع مطالعات کا تجزیہ کیا گیا جن میں شمالی امریکا، یورپ، ایشیا اور آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے 34 لاکھ افراد شامل تھے۔ ان تمام مطالعات میں شرح اموات کے سماجی علیحدگی، احساسِ تنہائی اور اکیلے رہنے سے تعلق پر تحقیق کی گئی تھی۔ ان مطالعات کے تجزیئے سے پتا چلا کہ احساسِ تنہائی اور سماجی علیحدگی جیسے عوامل نہ صرف ناگہانی اموات میں اضافے اور کم عمری میں موت کی وجہ بنتے ہیں بلکہ یہ شرح موٹاپے کے باعث اموات سے بھی زیادہ ہے۔
دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ احساسِ تنہائی اتنی خطرناک اور جان لیوا عالمی وبا ہے کہ اس کے سامنے موٹاپا بھی کم تباہ کن دکھائی دیتا ہے۔ اس تفصیلی اور طویل مدتی تجزیئے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں لوگوں میں احساسِ تنہائی اور سماجی علیحدگی جیسے معاملات کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کرنا نہیں چاہیے بلکہ ان پر سنجیدگی سے توجہ دینے اور انہیں مناسب طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں