اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیب پر سپریم کورٹ کا جج بٹھادیا گیا، جج صاحب اپنی مرضی کا ٹرائل کروا کر فیصلہ دلوائیں گے جب کہ فیصلے کے بعد اپیل بھی ان ہی جج صاحب کے پاس جائے گی، کیا عوام کے ووٹ کو اسی طرح دھتکارا اور ذلیل کیا جائے گا، پہلی بار صدر نے نکالا، دوسری بار ڈکٹیٹر نے ہائی جیکر بنا دیا، تیسری مرتبہ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پرعدلیہ نے گھر بھیج دیا اور اب نیب میں نجی کاروبار کا ریفرنس تیار کیا جارہا ہے، نواز شریف کی پنجاب ہائوس میں غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب ہائوس اسلام آباد میں غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اب تک ملک کے 18وزرائے اعظم گزرے ہیں جن میں سے ایک کو بھی آئینی مدت پوری نہ کرنے دی گئی، کیا عوام کے ووٹ کو اسی طرح دھتکارا اور ذلیل کیا جائے گا۔ پہلی مرتبہ صدر نے نکالا، دوسری بار ڈکٹیٹر نے ہائی جیکر بنا دیا اور تیسری مرتبہ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر عدلیہ نے مجھے نکال دیا اور اب نیب میں پہلی مرتبہ نجی کاروبار کا ریفرنس تیار کیا جارہا ہے،معاملہ آج کا نہیں، میرے اسکول کے دور کا ہے، 1973 میں میرے والد نے بیرون ملک جاکر سرمایہ کاری کی، پہلی مرتبہ نیب پر سپریم کورٹ کا جج بٹھایا گیا ہے اور فیصلے کے بعد اپیل بھی ا نہی جج صاحب کے پاس جائے گی، مجھے لوگوں نے مشورہ دیا کہ آپ جے آئی ٹی میں نہ جائیں، وزیراعظم کے دفتر کے وقار پر سمجھوتہ نہ کریں، میں نے کہا کہ اس موقع پر پیچھے ہٹا تو لوگ سمجھیں گے میرے دل میں چور ہے۔پہلی مرتبہ نیب پر سپریم کورٹ کا جج بٹھایا گیا ہے اور جج صاحب اپنی مرضی کا ٹرائل کروا کر فیصلہ دلوائیں گے جب کہ فیصلےکے بعد اپیل بھی ان ہی جج صاحب کے پاس جائے گی۔ یوسف رضا گیلانی کا معاملہ نااہلی تک نہیں جانا چاہیے تھا، اپنی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں لیکن اس سےاختلاف بھی ہے، میں نے جوقربانیاں دیں ان کا فائدہ ملک کو ہونا چاہیے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف عدلیہ کے حکم سے ملک سے باہر گئےہم نے انہیں ملک سے باہر نہیں بھیجا۔ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہوں، بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا بازار بند کرنا چاہیے، اقوام متحدہ میں کشمیریوں کی آواز اٹھائی، کشمیر کے مسئلے کا حل میز پر بیٹھ کر نکالنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں