لاہور: بند روڈ دھماکے کے تناظر میں محکمہ داخلہ کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں سیکیورٹی الرٹ جاری ہونے کے باوجود مناسب اقدامات نہ کیے جانے کے انکشاف سامنے آیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور دھماکے کے تناظر میں محکمہ داخلہ کا امن و امان کی صورت حال پر اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری داخلہ پولیس و دیگر افسران پر برس پڑے۔ سیکرٹری داخلہ نے استفسار کیا کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے خطرے کا الرٹ جاری ہونے کے باوجود اس پر عملدآمد کیوں نہیں کیا گیا، ٹرک لاہور میں کیسے داخل ہوا اور پولیس کہاں سوئی رہی۔
اجلاس میں محکمہ داخلہ کے حکام اور پولیس افسران غفلت کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے اور یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ شہر کے کئی علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مانیٹرنگ ہی نہیں ہوتی ۔ سیکیورٹی حکام دہشتگردی میں استعمال ہونے والے ٹرک کی شناخت کرنے میں بھی تاحال کامیاب نہیں ہوئے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ملبے کے نیچے سے بارودی مواد کے نمونے ملنے کا قوی امکان موجود ہے، جائے وقوع پر پڑنے والے گڑھے کی پیمائش کرکے بارودی مواد اور اس کی مقدار کا تعین کیا جارہا ہے، چار کینال رقبے پرمشتمل پارکنگ اسٹینڈ میں 40سے60 گاڑیاں کھڑی کرنے کی گنجائش تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ حساس اداروں نے پارکنگ اسٹینڈ کے مالک رحمت بھٹی کو تحویل میں لےلیا ہے جس سے گاڑیوں اور ڈرائیورز کی معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز بند روڈ پر ٹرک میں ہونے والے دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور 30 زخمی ہو گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں