اسلام آباد (این این آئی) مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلہ پر من و عن عملدر آمد کر دیا ہے ٗ اب عوامی عدالت میں جائینگے ٗ نوازشریف انشاء اللہ سرخرو ہونگے اور چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنیں گے ٗعمران خان چپڑاسی نہ رکھنے والے شخص کو وزیر اعظم کیلئے نامزد کر دیا ہے ٗ بہت جلد نواز شریف خیبر سے کراچی تک ٗگوادر سے خنجراب تک نکل رہے ہیں ٗ عمران خان کو چھپنے کیلئے جگہ نہیں ملے گی ٗ پی ٹی آئی چیف اڈیالہ جیل جائینگے اور ماضی کا ایک قصہ

ADVERTISEMENT
Ad
بن جائینگے۔پیر کو سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف کرمانی نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کیخلاف کرپشن اور کک بیک کا کوئی الزام بھی ثابت نہیں ہوا ٗ ان کی جماعت نے عدالت کا احترام کرتے ہوئے اس فیصلے پر من و عن عملدرآمد کر دیا، اب عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عوام، میڈیا اور ٹاک شوز میں لوگ اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں نہ صرف پاکستان میں بلکہ پاکستان کے باہر بھی اس پر لوگ اپنی رائے دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے ٗکرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اب یہ فیصلہ تاریخ میں محفوظ ہو چکا ہے لیکن وہ لوگ جو فیصلہ آنے سے پہلے مختلف پیش گوئیاں کرتے تھے کہ مسلم لیگ (ن) آج یہ کرنے جا رہی ہے ٗآج وہ کرنے جا رہی ہے ٗساری دنیا نے دیکھا کہ ہم نے بڑے حوصلے ٗبرداشت اور احترام سے سپریم کورٹ میں سرتسلیم خم کر کے اس فیصلے کو قبول کیا حالانکہ اس پر ہماری پارٹی کے تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا کہا نواز شریف بغیر کسی اطلاع کے اور بغیر کسی کو بتائے جب مری پہنچے تو عوام کا ایک ہجوم اور جم غفیر تھا جو اپنے محبوب اور سدا بہار لیڈر کا استقبال کرنے موجود تھا، مری اس ملک کا ایک خوبصورت حصہ ہے جس کی آبادی کم ہے ٗآپ غور کیجئے گا کہ میں نے کل بھی کہا تھا کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ آپ اور سب کے محبوب قائد نواز شریف صاحب بہت جلد عوام میں ہوں گے،کیونکہ ہم نے عدالتوں کے فیصلوں کا بھی احترام کرتے ہیں لیکن ایک عدالت عوام کی بھی ہے۔ اور وہ عدالت جب لگے گی تو میں یقین دلاتا ہوں کہ اس میں نواز شریف انشاء اللہ سرخرو ہوں گے اور وہ وقت آئے گا جب وہ چوتھی مرتبہ بھی وزیراعظم بنیں گے۔آصف کرمانی نے عمران خان کیس کے حوالے سے کہاکہ انہیں پہلے ہی معلوم تھا تاہم عدالت کی کارروائی اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد یہ یقین ہو گیا ہے کہ عمران خان نے جو کاغذات اس کیس میں داخل کرائے ہیں ٗوہ سراسر فراڈ ہے اور جعلی ہے اور خود بنائے گئے ہیں ٗاس پر سپریم کورٹ ایکشن لے رہی ہے اور لے گی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف نااہلی مانگی گئی تھی جو اقامہ جیسے تکنیکی معاملے پر کر دی گئی اور پھر اس فیصلے پر عملدرآمد بھی ہو گیا ہے لیکن جن لوگوں نے سپریم کورٹ کے ساتھ چار سو بیسی کی ہے اور دن دیہاڑے کھلا فراڈ کیا ہے ٗان کیخلاف بھی کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو میں اس فورم سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم عوام میں آچکے ہیں،ٗآپ کی اخلاقیات کا جنازہ تو پہلے ہی نکلا ہوا ہے ٗجو گزشتہ روز جلسہ میں زبان استعمال کی گئی، آپ نے پاکستان کی سیاست میں جو گالی گلوچ اور کردار کشی متعارف کرائی ہے ٗابھی تو عوام اس پر آپ سے حساب لے گی ٗ اس پر آپ نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ پی ٹی آئی ایک فراڈ اور 420 جماعت ہے جو سپریم کورٹ میں جعلی دستاویزات پیش کرنے سے نہیں گھبراتی۔انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ماضی یہ ہے کہ ویڈیو کلپ میں جمائمہ خان نے کہا ہے کہ بنی گالہ کی زمین عمران خان نے خرید کر میرے نام کی ٗجب اینکر نے پوچھا کہ یہ بیان حلفی ہے تو اس نے کہا کہ میں نے دیکھا ہی نہیں ٗساتھ ہی ایک اور پروگرام کا بھی کلپ ہے جس میں اینکر انہیں پوچھتے ہیں کہ یہ ریفرنس ہے تو وہ کہتے ہیں کہ چھوڑو چھوڑو میں جانتا ہوں ٗجو بدزبان، بداخلاق اور عدالتوں میں جھوٹے دستاویزات جمع کراتا ہو ٗوہ رہزن تو ہو سکتا ہے ٗرہبر نہیں ہو سکتا ٗ دیدہ دلیری اور بے شرمی کی انتہاء ہے کہ یہ جس رقم کا کہتے ہیں، وہ ان کے اکاؤنٹ میں نہیں آتی، وہ کہاں گئی، یہ وہ سوالات ہیں جو عدالت بھی پوچھ رہی ہے،اور پاکستان کے 20 کروڑ عوام بھی پوچھ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کیا عمران خان نے اپنے بچوں کے اثاثے اور جو آف شور دیگر معاملات ہیں، وہ ڈکلیئر کئے ہیں؟ ایک اپارٹمنٹ ہے جو انتہائی مہنگے داموں خریدا گیا وہ بھی چھپایا اور پھر یہ جو غیر ملکی فنڈنگ ہے وہ آپ یہاں لے کر آئے جس کے بارے میں آپ کے محترم وکیل فرما رہے تھے کہ اس کی تحقیقات نہیں ہو سکتیں حالانکہ پیسہ آیا ہے مشکوک ذرائع سے ٗآپ کی فہرستوں میں بھی فرق ہے اور فراڈ ہیں ٗپاکستان کے نوجوانوں کو یہ اخلاقیات سکھا رہے ہیں؟آصف کرمانی نے کہا کہ پھر کون سا مذہب اجازت دیتا ہے کہ آپ ایک ایسی محترمہ خاتون جس سے آپ کا تعلق ختم ہو گیا اس سے تحفے وصول کئے جارہے ہیں۔ میرا مذہب تو اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی پروگرام میں دیکھا کہ ایک کلپ میں عمران خان کہہ رہے ہیں کہ میں تو شیخ رشید کو چپڑاسی بھی نہ رکھوں اور اللہ مجھے شیخ رشید جیسا سیاستدان نہ بنائے، آپ کو مبارک ہو کہ آپ نے اس چپڑاسی کو آج پاکستان کا وزیراعظم نامزد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کا اور ہمارا مقابلہ تو عدالت میں جاری رہے گا لیکن بہت جلد نواز شریف پورے پاکستان میں، خیبر سے کراچی تک، گوادر سے خنجراب تک نکل رہے ہیں اور یقین کریں آپ کو بھاگنے اور چھپنے کی جگہ نہیں دیں گے، آپ نے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو ہلا کر رکھا ہے، آپ پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لے کر آئیں گے، آپ کی سیاست جھوٹ، بداخلاق اور لوگوں کی کردار کشی پر مبنی ہے، آپ کی ناصرف سیاست ختم ہو گی بلکہ آپ اڈیالہ جیل میں ہوں گے۔آپ کی پارٹی کاشیرازہ بکھر جائے گا اور پی ٹی آئی ماضی کا ایک قصہ بن جائے گی۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور شاہد خاقان کا فیصلہ پارٹی کی مشاورت سے کیاگیاہے اور تحریک انصاف کہتی ہے کہ شہباز شریف اور شاہد خاقان کو بھی نہیں چھوڑیں گے ٗاب عمران خان اور ہمارا مقابلہ ہوگا۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کے سامنے نہ صرف اپنے اثاثے چھپائے بلکہ جھوٹ بھی بولا ہے،اس کے علاوہ الیکشن کمیشن میں آف شور کمپنی اور فلیٹس بھی ظاہر نہیں کیے ٗعمران خان سازش کا حصہ ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب ان کی سازش بے نقاب ہوگی ٗعمران خان نے خود اعتراف کیا ہے کہ بنی گالا کی منی ٹریل ان کے پاس نہیں پھر وہ کس منہ سے نواز شریف پر الزام لگارہے ہیں۔حنیف عباسی نے کہا کہ عمران خان مسلم لیگ (ن )کی حکومت پر سوالات اٹھارہے ہیں ٗکیا خیبرپختونخوا میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں ، عمران خان نے گزشتہ روز اسلام آباد میں جو اپنا بھاشن دیا اس کے بعد وہ کھل کر سب کے سامنے آگئے ہیں۔مسلم لیگ (ن )کے رہنما دانیال عزیز نے عمران خان کے بارے میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے ٹیکس چوری کی ہے، انہوں نے 2012-13 کے انتخابات میں نیازی سروسز سے متعلق کچھ بھی نہیں بتایا جبکہ اس کمپنی میں لاکھوں روپے پڑے ہیںٗعمران خان کے اثاثوں میں واضح تضاد موجود ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے ٹیکس چوری کی ہے لہٰذا اب وہ صادق اور امین نہیں رہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے کرکٹ سے جو پیسے کمائے اس سے گھر کا خرچہ بھی نہیں چلتا تھا پھر ان کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی ٗاگر انصاف کرنا ہے تو سب سے پہلے عمران خان سے شروع کیا جائے اور عمران خان نے الیکشن کمیشن میں اپنے جن اثاثوں کا ذکر نہیں کیا ان کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔دانیال عزیز نے کہا جن 5 حلقوں میں عمران خان نے الیکشن لڑا الیکشن کمیشن وہاں کا ریکارڈ منگوائے کیونکہ (ن )لیگ کے تمام رہنماؤں نے مکمل دستاویزات اثاثہ جات کی تفصیل کے ساتھ جمع کرائی تھیں جبکہ عمران خان نے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کے ہیں۔ دانیال عزیز نے کہاکہ عمران خان نے 1997 میں این اے 11 سے الیکشن لڑا،جس میں سردار مہتاب عباسی فاتح قرار پائے، اسی طرح انہوں نے 2002 سے پہلے پانچ حلقوں میں الیکشن لڑا ہے ٗپی ٹی آئی کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ 1997 میں بین الاقوامی اثاثوں کا کالم نہیں تھا اور یہ 2002 میں شامل ہوا تھالیکن در حقیقت یہ خانہ موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے کاغذات نامزدگی اکرم شیخ کو دے دیے ہیں جس میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ 2002 سے پہلے بھی کاغذات نامزدگی میں بیرون ملک اثاثوں کا خانہ موجود تھا۔ اکرم شیخ نے اس معاملے پر درخواست دائر کرنے کی تیاری کرلی ہے۔دانیال عزیز نے کہا کہ عمران خان نے 2000 میں ایمنسٹی کے تحت اپنا فلیٹ ڈکلیئر کیا ہے جس کامطلب ہے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ انہوں نے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر 45، 70، 72پرنے 1977 تک کے اپنے مالی حالات کا تذکرہ کیا ہے اور کہتے ہیں کہ پیسے مانگتے پھرتے تھے، عمران خان کے معاملے میں باقاعدہ ٹیکس چوری ہوا اور اثاثے چھپائے گئے ہیں۔دانیال عزیز نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کا نعرہ تھا ’’گو نواز گو‘‘ جس کا مطلب بنتا ہے ’’جی او نواز جی او‘‘، اگلے الیکشن میں انہیں پتا لگ جائے گا کہ نواز شریف ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد اب پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف کو بھی نہیں چھوڑیں گے جس سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ ان کا تعلق احتساب سے نہیں بلکہ چور دروازہ ڈھونڈنے والوں سے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں