اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ نے پٹیشنرز کے شریف خاندان کے خلاف لوٹ مار کے الزامات میں سے کسی کو بھی نواز شریف کی نااہلی کی بنیاد نہیں بنایا، اگرچہ تین رکنی بنچ کے فیصلے کا ماحصل یہی ہے کہ ان لوگوں کی استدعا کو منظور کرلیا گیا کیونکہ اُنہوں نے نواز شریف کی نااہلی پر زوردیا تھا۔ایک قومی روزنامے میں شائع خبر کے مطابق نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے اختلافی نوٹ لکھنے والے 2 ججوں جسٹس آصف سعید کھوسہ اورجسٹس گلزار احمد نے اپنے فیصلے کی بنیاد جن امور کو بنایا تھا وہ ان وجوہات سے
بالکل مختلف ہیںجن کو جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید اورجسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے فیصلے کی بنیاد بنایا ہے۔اگرچہ ججوں کے دونوں گروپوں نے جو وجوہات کی بیان کی ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں تاہم نتیجہ ایک ہی نکالا گیا ہے جو نااہلی ہے۔ جسٹس کھوسہ اورعمل درآمد بنچ کے3ججوں نے سابق وزیراعظم کو آئین کے آرٹیکل (ایف)(1) 62 اور عوامی نمائندگی ایکٹ (روپا) 1976ء کے سیکشن(ایف)(1) 99کے تحت نکالا ہے تاہم جسٹس گلزار احمد نے ان کی نااہلی کے لئے آئین کے آرٹیکل(ایف)(1) 62 پرانحصار کیا ہے تاہم تمام 5ججوں نے عمل درآمدی ججوں کے اضافی فیصلے پر دستخط کئے ہیں۔ معلومات کے لئے ہم پہلے درخواست گزاروں پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور شیخ رشید کی اصل استدعائوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ان کی استدعا تھی کہ بڑی بدعنوانی ،عوامی پیسہ چُرانے اورغیر قانونی طریقوں سے اثاثے بنانے، آف شور کمپنیاں قائم کرنے، لندن اپارٹمنٹس کی خریداری اور دیگر غیر ملکی کمپنیاں اورکاروبار کرنے پر نواز شریف کو قومی اسمبلی کی رکنیت اوروزارتِ عظمیٰ کے لئے نااہل قراردیا اور ان سمیت مریم، حسین، حسن، اسحاق ڈار اور کیپٹن (ر) صفدر کو سزا دی جائے۔ اپنی اصل درخواست میں سراج الحق نے نواز شریف کا فریق کے طور پر نام تک نہیں لیا تھا اورعدالت سے استدعا کی تھی کہ تحقیقاتی اداروں کو پاناما سکینڈل کی تحقیقات، مشتبہ ملزمان گرفتار کرنے، عوام کا پیسہ برآمد کرنے اور اسے واپس پاکستان لانے کی ہدایت کی جائےکیونکہ یہ آف شور کمپنیاں بنانے کے لئے غیر قانونی طور پر ملک سے باہر لے جایا گیا ہے۔جوں جوں سماعت آگے بڑھی انہوں نے اپنی استدعا تبدیل کرتے ہوئے نواز شریف کو نااہل کرنے کی درخواست کردی۔ اپنے فیصلے میں جسٹس کھوسہ نے لندن اپارٹمنٹس کا قبضہ لینے اوران جائیدادوں کے حصول کے بارے میں نواز شریف کے بچوں کی ’’تمام تر وضاحتوں‘‘ کو ’’مسترد‘‘ کرتے ہوئے انہیں’’متضاد اور ناقابل یقین‘‘ قراردیا۔ اُنہوں نے فیصلہ دیا کہلندن میں متعلقہ جائیدادوں کے قبضے اورخریداری کی وضاحت کے معاملے پر قوم، قومی اسمبلی میں عوام کے نمائندوں اور سپریم کورٹ کے روبرو ’’امین‘‘ نہیں رہے۔ نواز شریف کے ایماندار نہ ہونے کے اعلان کے نتیجے میں وہ آرٹیکل (ایف)(1) 62 اور روپا کے سیکشن (ایف)(1) 99کے تحت پارلیمان کی رکنیت کے اہل نہیں رہے۔اس لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت کے خاتمے کے لئے ڈی نوٹیفائی کرے جس کے نتیجے میں ڈی نوٹیفکیشن کے روز سے وہ وزارت عظمیٰ سے بھی محروم ہوگئے،جج نے مزید لکھا کہ نواز شریف کے پاس اب بھی عوامی عہدہ ہے اور اس وقت بھی عوامی عہدہ تھا جب ان کے بچوں کے 1993ء اور 1996ء میں لندن جائیدادیں زیر قبضہ تھیں، جبکہ وہ ان کے زیر کفالت تھے، ان جائیدادوں کی قیمت ان کے معلوم ذرائع آمدن سے مناسبت نہیں رکھتی جو فاضل عدالت میں پیش کئے گئے ٹیکس گوشواروں سے ظاہر ہوتے ہیں، نواز شریف ان فلیٹس کے بارے میں وضاحت سے انکار کرتے یا ناکام رہے ہیں۔اور ان اثاثوں کو قبول کرنے سے مکمل انکار کیا ہے۔ لہٰذا یہ معاملہ قومی احتساب آرڈیننس1999ء کی شقوں(v) (a) (c) 14کے ضمن میں آتا ہے جس پر ضروری ہے کہ قومی احتساب بیورو ان کے خلاف کارروائی کرے اور اس ضمن میں دیگر متعلقہ لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ جسٹس گلزار احمد نے ، جنہوں نے بھی اپنے قبل ازیں اختلافی نوٹ کے تحت نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا ، لکھا کہ نواز شریف ان الزامات کے جواب میں کہ ان کے اور ان کے خاندان کے پاس 4لندن فلیٹس ہیں اور ان جائیدادوں کے خریداری کے ذرائع ظاہر نہیں کئے گئے ،عوامی عہدیدار ہونے کے ناطے ان کا فرض تھا کہ وہ عدالت اور قوم کو مطمئن کرتے( جو اُن کا بنیادی حق ہے) اور لندن فلیٹس کے بارے میں اصل حقائق بتاتے جس میں وہ بُری طرح ناکام رہے ہیں۔پس یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل (ایف)(1) 62 کے تقا ضو ں کے مطابق ایماندار اور امین نہیں رہے۔جج نے مزید لکھا کہ اس تناظر میں عدالت غیر مؤثر ادارہ اور محض تماشائی نہیں رہ سکتی بلکہ اسے فنی ضرورتوں سے بالاتر ہو کر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے مثبت فیصلہ دینا ہے اورعوام کے بنیادی حقوق کا بھی تحفظ کرنا ہے اس لئے قراردیا جاتا ہےکہ نواز شریف آرٹیکل (ایف) (1) 62 کے تقاضوں کے مطابق ایماندار اور امین نہیں رہے پس وہ ایم این اے کا عہدہ رکھنے کے لئے نااہل ہیں اور وزیراعظم کا عہدہ چھوڑ دیں، دیگر تین ججوں نے فیصلہ دیا کہ اس اَمر سے انکار نہیں کیا گیا کہ نواز شریف کیپٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین آف بورڈ کی حیثیت سے تنخواہ لینے کے اہل تھے ۔اس لئے یہ بیان کہ انہوں نے تنخواہ نہیں لی، اس تنخواہ کو قابل وصول ہونے سے مانع نہیں اس لئے یہ ان کا اثاثہ ہے ، جب نہ لی گئی تنخواہ،قابل وصول ہونے کے ناطے ایک اثاثہ ہے تو اسے روپا کے سیکشنf) (2) 12)کے تقاضوں کے مطابق 2013ء کے عام انتخابات کے کاغذات نامزدگی میں اسے ظاہر کرنا ضروری تھا ۔ فیصلے میں مزید کہاگیا کہ اُنہوں نے ان اثاثوں کو ظاہر نہیں کیا، اس طرح انہوں نے غلط ڈیکلریشن دے کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ لہٰذا وہ روپا کے سیکشن(ایف)(1) 99اور آرٹیکل (ایف)(1) 62 کے تحت امین نہیں رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں