حضرت سعید بن زیدؓ کے والد زید نے دوسری جنگ فجار میں جوعام فیل کے بیس سال بعد ہوئی، اپنے قبیلے بنو عدی کی نمائندگی کی۔ تب رسول اکرمﷺ کی عمر مبارک بیس سال تھی اور آپﷺ بنوہاشم کے دستے میں شامل تھے۔حضرت سعید بن زید ؓ عشرہ مبشرہ صحابہ کرام میں شامل ہیں۔آپؓ کا رسول خداﷺ کے جانثار صحابہؓ میں شامل ہونا انکے والد حضرت زید ؓ کی دعا کانتیجہ ہےزید بتوں کی پوجا سے نفرت کرتے تھے، دینِ صحیح کی تلاش کرتے کرتے شام تک گئے۔ حضرت زیدؓ اللہ کے رسولﷺ کی تلاش میں سرگرداں ایسے عاشق رسول
تھے جواسلام سے قبل ہی سرکاردوعالم ﷺ کی بعثت کی خاطر ظلم برداشت کرتے رہے لیکن دین ابراہیمی پر قائم رہے۔ حضرت زیدؓ ایک خوش قسمت شخصیت تھے جو کلمہ طیبہ پڑھے بغیر جنت میں داخل کر دئیے گئے۔ورقہ بن نوفل وہی ماہرانجیل تھے جنہوں نے حضور اکرم ﷺ پر پہلی وحی نازل ہونے کے بعد آپ ؐ کے نبی ہونے سے متعلق نشانیوں کا تذکرہ آپ ؐ سے کیا تھا ۔ ورقہ بن نوفل سے متعلق تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ آپ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریؓ کے رشتہ دار بھی تھے۔حضرت زید ؓ کے ساتھ ورقہ بن نوفل بھی تھے جنھوں نے پہلے مذہبِ یہود اختیار کیا پھر نصرانی بن گئے لیکن زید کو یہود و نصاریٰ کا دین پسندنہ آیا۔حضرت زید ؓ کہا کرتے تھے کہ اگرقریش کو مشرک قرار دیا جاتا ہے تو شرک کا ارتکاب کرنے میں یہود و نصاریٰ بھی کم نہیں۔زید ؓموصل پہنچے تو ایک راہب نے ان سے کہا” اے زید تم تو دین ابراہیم کی تلاش میں ہے جو اب دنیا میں نہیں پایا جاتا“پوچھا ” ان کا دین کیا تھا؟ “اس نے بتایا”ابراہیم یکسو تھے ، اللہ واحد کی عبادت کرتے ، کسی کو اس کا شریک ٹھہراتے نہ بتوں کے نام کا ذبیحہ چکھتے تھے“۔زیدؓ نے کہا” میرا دین بھی یہی ہے“ چنانچہ وہ دین حنیف پرپختہ ہو گئے ، بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور صرف اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا کھاتے۔ سیّدناعمرؓ کے والدخطاب بن نفیل زید کے چچا تھے۔انہوں نے ان کی شدید مخالفت کی ، ایذائیں پہنچائیں اورقبیلے کے لوگوں کے ساتھ مل کر مکہ سے نکال باہر کیا، وہ جبل حراپر پناہ لینے پرمجبور ہو گئے۔ زیدؓ نے کئی بچیوں کیجان بھی بچائی جنھیں ان کے والدین زندہ گاڑنےلگتے تھے۔عربوں میں یہ قبیح رسم تھی کہ وہ بیٹی کے پیدا ہونے کو باعث ذلت تصور کرتے اور اسے اپنے پر بوجھ سمجھتے تھے۔ جب بچی ذرا بڑی ہو تی توزیدؓ اسے لے جاتے ، اس کا تمام خرچہ اٹھاتے اور اس کے والد سے کہتے ” تم کہو گے تو اسے لوٹا دوں گا یا اس کی کفالت کرتا رہوں گا“زید ؓآخری دم تک اولاد اسماعیل میںآنے والے نبی آخر الزمان ﷺ کی انتظار میں رہے۔ واقدی کا کہنا ہے کہ زید طبعی موت مرے اور جبل حرا کے دامن میں دفن ہوئے جب کہ ہشام بن عروہؓ کی روایت کے مطابق آنحضور ﷺ کی بعثت کے وقت وہ شام میں تھے اور آپﷺ کی آمد کی خبر سن کر مکہ آ رہے تھے کہ میفعہ (بلقان) کے لوگوں نے انھیں قتل کر دیا۔زید نے عامر بن ربیعہ سے کہاتھا” میری وفات کے بعدتم آخری رسولﷺ کا زمانہ پاؤ تو انھیں میرا سلام کہنا“ جب نبی امیﷺ مبعوث ہوئے اور عامرنے اسلام قبول کیا تو آپﷺ کو ان کی یہ وصیت سنائی۔ آپﷺ نے زیدؓ کے سلام کا جواب دیا، ان کے لیے دعائے مغفرت کی اور فرمایا” میں ان کو جنت میں خوشی سے چلتے پھرتے دیکھ رہا ہوں“حضرت سعیدبن زیدؓ اورحضرت عمربن خطابؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلمسے زید کے لیے دعائے مغفرت کرنے کے بارے میں استفسارکیاتوآپﷺ نے اجازت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ”زیدؓ روزِ قیامت ایک امتی کی حیثیت سے اٹھائے جائیں گے۔ “ سعید کی والدہ نے بعثت نبوی کا زمانہ پایا اور اسلام کی طرف سبقت کرنے کی سعادت حاصل کی۔سعیدؓ کے والد نے دعا کی تھی”اے اللہ ! اگر تو نے مجھے یہ نعمت (اسلام)پانے کی مہلت نہ دی تو میرے بیٹے سعیدؓکواس سے محروم نہ رکھنا“ ان کی تربیت اور دعا ہی کا نتیجہ تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت کیا تو سعیدؓ فوراً مسلمان ہو گئے تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں