فیصل آباد/اسلام آباد(این این آئی)آل پاکستان مسلم لیگ کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سید پرویز مشرف کوپاکستان آنے کا مشورہ دے دیا گیا،گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں آل پاکستان مسلم لیگ کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت پارٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد نے کی۔اجلاس میں فیڈرل کیپیٹل اور آزاد جموں کشمیر سمیت ملک کے چاروں صوبوں سے پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال اور 12اگست کو فیصل آباد میں اے پی ایم ایل اور اتحادی جماعتوں کے بڑے جلسے کی تیاریوں کا جائزہ لیاگیا۔اجلاس

ADVERTISEMENT
Ad
میں پارٹی راہنماؤں نے پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد پیداہونے والی صورتحال کو تیسری سیاسی قوت کو بھرپور انداز میں سامنے لانے کے لئے انتہائی موزوں قراردیا۔پارٹی راہنماؤں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ایسی قیادت کا فقدان ہے جو ملک و قوم کو حقیقی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکے۔اے پی ایم ایل کے سربراہ اور سابق صدرسید پرویز مشرف واحد شخصیت ہیں جو اپنے دور اقتدار میں یہ ثابت کر چکے ہیں کہ صرف انہی کی قیادت میں ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔پارٹی راہنماؤں نے سید پرویز مشرف کو مشورہ دیا کہ وہ 12اگست کو اے پی ایم ایل کے فیصل آباد میں ہونے والے جلسے میں بنفس نفیس شرکت کریں۔پارٹی راہنماؤں کا کہنا تھا کہ سید پرویز مشرف فرنٹ سے پارٹی کی قیادت کریں گے تو اے پی ایم ایل کو تیسری بڑی سیاسی قوت بننے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔اجلاس کے شرکاء سے اپنے خطاب میں پارٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد نے کہا کہ وہ خود بھی چاہتے ہیں کہ سید پرویز مشرف خود آکر پارٹی کی قیادت کریں۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی رائے پارٹی سربراہ کو پہنچائی جائے گی جس پرغور کرنے کے بعد سید پرویز مشرف وطن واپسی کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد امجد کا کہنا تھا کہ فیصل آباد میں دھوبی گھاٹ کو ایک تاریخی مقام حاصل ہے۔اے پی ایم ایل نے حال ہی میں مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس فیصل آباد میں منعقد کیا،اب سی ای سی کا اجلاس بھی یہیں ہو رہا ہے جبکہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر پہلا بڑا عوامی جلسہ بھی فیصل آباد کے دھوبی گھاٹ ہی میں کریں گے جس میں ملک بھر سے اے پی ایم ایل کے راہنما اور کارکنان شرکت کریں گے۔ انہوں نے پانامہ کیس میں سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہ افتخار چوہدری نے بعض متنازعہ فیصلے دے کر سپریم کورٹ کا وقار مجروح کیا تھامگر اعلیٰ عدلیہ کے حالیہ فیصلے نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے ہیں اور عدلیہ کے وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے بعد یہ بات ثابت ہو گئی کہ شریف خاندان کرپشن اور منی لانڈرنگ میں ملوث رہا ہے۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف کو وزیراعظم نہ بنایا جائے کیونکہ شریف فیملی عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سید پرویز مشرف پاکستان ضرور آئیں گے اور اپنے خلاف سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات کا سامنا کریں گے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کے چیف آرگنائزر سید فقیر حسین بخاری نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا بھارت کو کوئی حق حاصل نہیں۔سپریم کورٹ اعلیٰ ادارہ ہے۔ن لیگی راہنما فیصلہ آنے سے ایک دن پہلے کہہ رہے تھے کہ وہ عدالتی فیصلہ تسلیم کریں گے مگر بعد میں انہوں نے شور مچادیا ہے۔نواز شریف نے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے اپنے گوشواروں میں اپنے سارے اثاثوں کا ذکر نہیں کیا۔لگتا ہے نواز شریف کے حواری انہیں اڈیالہ جیل پہنچا کر دم لیں گے۔پارٹی کی آرگنازنگ سیکرٹری مہرین ملک آدم نے کہا کہ احتساب کے عمل کا آغاز خوش آئند ہے۔حق اور سچ کا ساتھ دینے پر سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کے اراکین مبارکباد کے مستحق ہیں۔آصف زرداری اور ان کے ٹولے کا احتساب بھی ضروری ہے۔ ہمیں سید پرویز مشرف جیسے صادق اور امین راہنما کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں