اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بینک اکاؤنٹ سیل، اثاثے ضبط، 14 سال قید، تاحیات نااہلی، شریف فیملی کیلئے اب تک کی سب بُری خبر آ گئی، تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے پاناما کیس کے فیصلے کے بعد نیب کو شریف خاندان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے حکم کے بعد اب ان پر بنک اکاؤنٹس سیل ہونے اور اثاثے ضبط ہونے کے خطرہ منڈلا رہا ہے، اور پہلی بار نیب کے چیئرمین منی لانڈرنگ اور اپنی آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے اس کیس پر اثر انداز نہیں ہو سکیں گے،سزا کے بعد مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز

ADVERTISEMENT
Ad
سمیت یہ تمام لوگ دس سال کے لیے عوامی عہدے کے لیے نااہل ہو جائیں گے، ایک قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیب کے آرڈیننس کے سیکشن 10 اے کے تحت کرپشن میں ملوث افراد کو 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے، مارچ 2018ء میں شریف خاندان کی سیاست کا خاتمہ ہو گا یا جزوی بچاؤ ہوتا ہے، اس کا پتہ چل جائے گا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر، حسین نواز اور حسن نواز پر 14 سال قید اور آمدن سے زائد اربوں روپے کے اثاثے اور بینکوں میں موجود رقم ضبط ہونے کی تلوار لٹک رہی ہے، نیب کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 10 اے کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت کرپشن میں ملوث تمام افراد کو احتساب عدالت 14 سال کے لیے ممکنہ طور پر قید کی سزا سنا سکتی ہے۔ اس مرتبہ جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں ہی ریفرنس تیار کیے جائیں گے اور چیئرمین نیب بھی کمزور ریفرنس تیار کرنے کے لیے اثر انداز نہیں ہوسکیں گے۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ سپریم کورٹ نے نیب کے لیے ریفرنس دائر کی مدت اور احتساب عدالت کے لیے فیصلہ سنانے کی مدت مقرر کرکے شریف فیملی کے لیے اس کیس کو طوالت دینے اور بری ہونے کا راستہ مشکل کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں